پنجاب میں بسنت مارچ کے کن دنوں میں منائی جائے گی؟

 

 

 

پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت نے بسنت کے روایتی تہوار کو دوبارہ زندہ کرنے اور اسے سرکاری سطح پر منانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت لاہور میں 12، 13 اور 14 مارچ 2027 کو بسنت منانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ بسنت کی واپسی کا یہ منصوبہ پچھلے برس بنایا گیا تھا لیکن کوئٹہ میں دہشت گردی کے ایک بڑے واقعے کی وجہ سے اسے اخری لمحات میں منسوخ کرنا پڑا تھا۔ بسنت کے تہوار سے ایک روز قبل بلوچستان میں ٹرین پر خودکش حملے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں فوجی جوانوں کی شہادتوں کے بعد پنجاب حکومت نے بسنت کی تقریبات منسوخ کر دی تھیں۔

 

تاہم اب پنجاب حکومت نے اس تہوار کے انعقاد کے لیے باقاعدہ تاریخیں مقرر کرتے ہوئے انتظامی اور حفاظتی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

حکومت کی جانب سے بسنت کو دوبارہ سرکاری سطح پر منانے کے فیصلے کے بعد لاہور میں اس روایتی تہوار کی بحالی کے لیے مختلف محکموں کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ پنجاب کے محکمہ داخلہ نے آئندہ سال 12، 13 اور 14 مارچ کو بسنت منانے کے حوالے سے 14 اہم ہدایات جاری کی ہیں، جن کے تحت پتنگ بازی کو مخصوص تاریخوں اور اجازت یافتہ مقامات تک محدود رکھا جائے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ان تین دنوں کے علاوہ پنجاب بھر میں پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی۔

 

بسنت کے انعقاد کے لیے پتنگ اور ڈور کی تیاری، ترسیل اور فروخت کو بھی باقاعدہ ضابطے کے تحت لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومتی اجازت سے قبل پتنگوں اور ڈور کی تیاری، ترسیل یا فروخت کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ ان کی تیاری اور کاروبار کے لیے مقررہ قواعد کے مطابق اجازت نامے جاری کیے جائیں گے۔ حکومت کا مقصد بسنت کی اجازت کو خطرناک اور غیر قانونی پتنگ بازی سے الگ رکھنا اور صرف منظور شدہ سامان کے استعمال کو یقینی بنانا ہے۔

محکمہ داخلہ کی ہدایات میں خلاف ورزی پر سخت سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔ مقررہ تاریخوں سے پہلے یا بعد میں پتنگ بازی کرنے پر 5 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، جبکہ حکومتی اجازت سے قبل پتنگ اور ڈور کی تیاری، ترسیل یا فروخت پر 7 سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

 

اس طرح حکومت نے بسنت کی اجازت کے ساتھ غیر قانونی پتنگ بازی اور خطرناک ڈور کے کاروبار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا فریم ورک بھی تیار کر لیا ہے۔ بسنت کے دوران سب سے اہم حفاظتی مسئلہ شہریوں کے چھتوں پر پتنگ بازی کرنے سے متعلق قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے غیر محفوظ یا ناپائیدار چھتوں پر پتنگ بازی کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اجازت یافتہ چھتوں پر دیواروں اور گرِل کی اونچائی کم از کم ساڑھے تین فٹ اور ان کا مضبوط ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ عمارتوں کے مالکان کو اپنی چھتوں، منڈیروں اور سیڑھیوں کی ضروری مرمت 31 دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

موٹر سائیکل سواروں کو پتنگ کی ڈور سے ممکنہ حادثات سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی بڑا حفاظتی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ سٹی ٹریفک پولیس لاہور کو ہدایت کی گئی ہے کہ بسنت سے قبل شہر میں 20 لاکھ سے زائد موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈز مفت نصب کیے جائیں۔ اس اقدام کا مقصد موٹر سائیکل سواروں کو گردن یا جسم کے دوسرے حصوں پر ڈور لگنے کے ممکنہ حادثات سے محفوظ رکھنا ہے۔

 

بسنت کے دوران بجلی کے نظام اور شہری انفراسٹرکچر کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی مختلف محکموں کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی شہر کے درختوں پر پھنسی پتنگیں اتارنے کے اقدامات کرے گی جبکہ لیسکو بجلی کے کھمبوں اور تاروں سے پتنگیں محفوظ طریقے سے اتارنے اور تلف کرنے کا انتظام کرے گا۔ اس کا مقصد شہریوں کو خطرناک مقامات پر خود پتنگیں اتارنے سے روکنے کے ساتھ بجلی کے نظام کو بھی ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھنا ہے۔

 

حکومت نے بسنت کے دوران عمارتوں کی لفٹس اور چھتوں کے حوالے سے بھی حفاظتی شرائط عائد کی ہیں۔ بسنت کے ایام میں لفٹس کے لیے سیفٹی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا جبکہ چھتوں پر آتش گیر مواد رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تمام اجازت یافتہ مقامات پر ابتدائی طبی امداد کا سامان بھی موجود رکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ کسی حادثے یا ہنگامی صورت حال میں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

 

بچوں کے تحفظ کے لیے والدین، سرپرستوں اور بسنت کے منتظمین کو خصوصی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ بچوں کو چھتوں پر لے جاتے وقت ان کی نگرانی اور انہیں غیر محفوظ مقامات سے دور رکھنا ضروری ہوگا۔ منتظمین کو تمام حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا جبکہ بسنت کے نام پر شہریوں کو پریشان کرنے، ہراساں کرنے یا غیر مہذب رویے کی اجازت نہیں ہوگی۔

شہباز کے 8 وزرا حکومتی کارکردگی پر ناخوش کیوں ہیں؟

حکومت نے شہریوں کو بھی حفاظتی اقدامات کا حصہ بناتے ہوئے غیر محفوظ، غیر قانونی یا غیر مہذب سرگرمیوں کی اطلاع دینے کے لیے ایمرجنسی 15 کی سہولت فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ بسنت کے دوران مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے نگرانی اور ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ تہوار کے دوران کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائی ممکن ہو۔

 

Back to top button