شہباز کے 8 وزرا حکومتی کارکردگی پر ناخوش کیوں ہیں؟

معروف تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی بیٹی کی شادی کے موقع پر ہونے والے شاہانہ خرچ اور نمود و نمائش پر تنقید کرنے والے وفاقی وزیر احسن اقبال شہباز حکومت کی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح گزشتہ ڈھائی برس سے شہباز شریف حکومت چل رہی ہے، اس سے صرف احسن اقبال ہی نہیں بلکہ بہت سے دوسرے وفاقی وزرا بھی ناخوش ہیں۔ اب تک حکومت کا زیادہ زور بیرون ملک دوروں پر رہا ہے جبکہ ملک کے اندرونی حالات پر توجہ کم دکھائی دیتی ہے۔
رؤف کلاسرا نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے آٹھ وزرا ایسے ہیں جو نہ صرف حکومتی کارکردگی سے مایوس ہیں بلکہ موجودہ سیاسی نظام کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔ ان میں سے بعض نے تو مستقبل کے ممکنہ سیاسی سیٹ اَپ کے ساتھ اپنے روابط استوار کرنے کی کوششیں بھی شروع کر دی ہیں۔ انکے مطابق یہ وزرا سمجھتے ہیں کہ موجودہ نظام شاید زیادہ دیر برقرار نہ رہے، اس لیے وہ آنے والے سیاسی منظرنامے کے حوالے سے اپنے لیے راستے تلاش کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایوان میں نہیں آئے، جبکہ عمران خان کے دور میں ان کی گرفتاری کے باوجود شہباز شریف ہر اجلاس میں موجود ہوتے اور طویل تقاریر کرتے تھے۔ رؤف کلاسرا کے مطابق احسن اقبال کی جانب سے مریم نواز کی بیٹی کی شادی کے حوالے سے تنقید نے مسلم لیگ (ن) کے اندر موجود بے چینی کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ مریم نواز کی صاحبزادی ماہ نور صفدر کا نکاح 12 ستمبر کو جاتی امرا میں ہوا، جس میں قریبی اہل خانہ اور اہم سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ احسن اقبال نے شادی کے حوالے سے براہ راست نام لیے بغیر سادگی اور نمود و نمائش کے معاملے پر جو بات کی، اسے سیاسی حلقوں میں خاصی اہمیت دی گئی، اگرچہ خود احسن اقبال اس حوالے سے پیدا ہونے والی سیاسی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ شہباز شریف حکومت نے جس انداز میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے اپنے سیاسی اختیارات سرنڈر کیے ہیں، اس کے باعث مسلم لیگ (ن) کے اندر ایک مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ ان کے بقول حکومتی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر اقتدار میں رہنے کے لیے مسلسل سمجھوتے ہی کرنے ہیں تو پھر سیاست اور انتخابی کامیابی کی معنویت کیا رہ جاتی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کے بعض حلقوں میں یہ احساس بھی پیدا ہوا ہے کہ انتخابی سیاست میں کامیابی اور شکست کے روایتی تصورات کمزور پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی حلقوں میں یہ تاثر بھی موجود ہے کہ موجودہ سیاسی بندوبست میں منتخب نمائندوں کے اندر وہ سیاسی وابستگی اور ایوان کے ساتھ جڑاؤ دکھائی نہیں دیتا جو ایک فعال منتخب اسمبلی میں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی میں کورم کا مسئلہ بار بار پیدا ہونا بھی اسی کیفیت کی علامت سمجھا جا رہا ہے، حالانکہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مختلف الاؤنسز میں اضافہ کیا جا چکا ہے اور مجموعی مراعات بھی خاصی بڑھ گئی ہیں۔
رؤف کلاسرا کے مطابق شہباز شریف حکومت کے لیے پانچ سال کی مدت پوری کرنا ایک اہم ہدف بن چکا ہے اور وزیراعظم اسے اپنی کامیابی کے طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ حکومت نے اب تک بڑی سیاسی کشمکش کے بغیر ڈھائی سال مکمل کر لیے ہیں۔ تاہم ان کے بقول اصل سوال یہ ہے کہ اگر حکومت اسی انداز میں اپنی آئینی مدت مکمل کر بھی لے تو مسلم لیگ (ن) اس کے بعد عوام میں کس بنیاد پر جائے گی اور کیا اسے دوبارہ انتخابی حمایت حاصل ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے شہباز شریف اور مریم نواز کی کارکردگی کے حوالے سے کیے گئے تبصروں کے بعد وفاقی وزرا کے درمیان مایوسی اور غیر یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے پرویز مشرف کے دور میں شدید سیاسی مشکلات کا سامنا کیا لیکن اس کے باوجود پارٹی قیادت اور کارکنوں نے مزاحمت جاری رکھی، تاہم اب صورت حال مختلف دکھائی دیتی ہے اور پارٹی کے اندر خود اعتمادی کا بحران پیدا ہونے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔
ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے اندر ایک رائے یہ بھی موجود ہے کہ نواز شریف کی موجودہ سیاست کا مرکزی محور ان کی صاحبزادی مریم نواز ہیں اور پارٹی کی مستقبل کی سیاسی حکمت عملی بھی انہیں مرکز میں رکھ کر تشکیل دی جا رہی ہے۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ جس طرح آصف علی زرداری اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کو مستقبل کی قیادت کے لیے آگے بڑھا رہے ہیں، اسی طرح مسلم لیگ (ن) میں بھی مریم نواز کو مستقبل میں وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچانے کی کوششیں جاری رہنے کی بات کی جا رہی ہے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے بعض اندرونی حلقوں میں تاہم یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ اگر پارٹی عوامی سطح پر اپنی حمایت کھو دیتی ہے تو صرف طاقتور سیاسی یا غیر سیاسی حلقوں کی حمایت سے اسے مستقبل میں اقتدار حاصل نہیں ہو سکتا۔ ان کے بقول سیاست میں عوامی حمایت بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور اگر انتخابی سیاست میں پارٹی کا اعتماد اور عوام سے تعلق کمزور ہو جائے تو اقتدار کے لیے بیرونی سہاروں پر انحصار بھی مستقل حل نہیں بن سکتا۔
حکومت کا PTI کے احتجاج سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصل
انہوں نے ماضی کی سیاسی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2008ء سے 2017ء کے دوران سیاست دانوں کو ایک خاص سیاسی گنجائش حاصل ہوئی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نسبتاً پس منظر میں چلی گئی تھی، تاہم ان کے مطابق اب وہ سیاسی گنجائش دوبارہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پاس چلی گئی ہے۔ رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں شہباز شریف حکومت نے اپنے سیاسی اختیارات اور گنجائش کا بڑا حصہ خود ہی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کر دیا ہے۔
رؤف کلاسرا نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک حکومت اپنی مدت مکمل کرنے کے لیے مسلسل سمجھوتوں اور بیرونی سہاروں پر انحصار کرے تو اس کے بعد اس کی سیاسی میراث کیا رہ جائے گی۔ ان کے مطابق اصل امتحان یہ ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) مستقبل میں عوام کے پاس کس سیاسی بیانیے کے ساتھ جائے گی اور کیا وہ عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کے لیے اپنی سیاسی ساکھ، تنظیم اور اعتماد کو دوبارہ مضبوط کر سکے گی۔
