چالان کے باوجود مریم نے جہاز کا بل جمع کیوں نہیں کرایا؟

 

 

 

معروف صحافی اور یوٹیوبر عمران شفقت نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنی بیٹی ماہ نور  کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے سرکاری جہاز پر لندن کے سفر کے اخراجات کی رقم دعووں کے باوجود تاحال قومی خزانے میں جمع نہیں کرائی۔ اپنے تازہ وی لاگ میں عمران شفقت کا کہنا ہے کہ اب اس معاملے میں اصل سوال رقم کا چالان فارم جاری ہونے سے زیادہ اس کی ادائیگی اور سرکاری خزانے میں رقم جمع ہونے کی رسید کا بن گیا ہے۔

 

یاد رہے کہ مریم نواز نے شدید عوامی تنقید کے بعد سرکاری جہاز کے استعمال کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے ایک چالان فارم پبلک کیا گیا اور میڈیا کو بتایا گیا کہ اس کے مطابق وزیراعلی قومی خزانے میں رقم جمع کروانے جا رہی ہیں۔ لیکن یہ ادائیگی ابھی تک نہیں کی گئی اور اس چالان پر جو رقم درج تھی اس میں دو مرتبہ تبدیلی کی جا چکی ہے، جس نے معاملے کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔

 

اپنے وی لاگ کے بعد عمران شفقت نے ایک ٹویٹ بھی کیا ہے جس میں انہوں نے مریم نواز کے نام پر کٹنے والے چالان فارم کے علاوہ حکومت پنجاب کے لوگو کے ساتھ جاری کردہ دو لیٹرز کو پبلک کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تینوں ڈاکومنٹس میں مختلف رقم درج ہے۔

14 ستمبر کو مریم نواز کے نام سے چالان نمبر 32-A جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق انہوں نے 2 کروڑ 93 لاکھ 65 ہزار 976 روپے کی رقم ادا کرنا تھی۔ عمران شفقت نے سرکاری ڈاکومنٹ دکھاتے ہوئے بتایا ہے کہ اس چالان فارم کے جاری ہونے کے بعد ایس این جی اے ڈی کے وی آئی پی فلائٹ ونگ کی جانب سے جاری کردہ خط میں یہ رقم کم کرکے 2 کروڑ 80 لاکھ 37 ہزار 844 روپے کر دی گئی۔ اس کے بعد ایک اور لیٹر جاری کیا گیا جس میں رقم میں تیسری مرتبہ ردوبدل کرتے ہوئے اسے 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار 4 روپے مقرر کر دیا گیا۔

 

تاہم سینیئر صحافی کا دعوی ہے کہ یہ رقم اب تک قومی خزانے میں جمع نہیں کروائی گئی۔  عمران شفقت کا کہنا ہے کہ مریم نواز کے اثاثوں کے گوشوارے میں ظاہر کردہ مالی وسائل کو دیکھا جائے تو تقریبا پونے تین کروڑ روپے رقم کی ادائیگی ان کے لیے کافی مشکل ٹاسک ثابت ہو گی۔ ایسے میں اس بھاری رقم کی ادائیگی کے ذرائع سے متعلق بھی سوالات کیے جائیں گے کیونکہ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں اور ان کا کوئی کاروبار نہیں جہاں سے انہیں آمدن آتی ہو۔ ان کے شوہر کیپٹن صفدر کا بھی کوئی ایسا کاروبار نہیں جہاں سے کوئی مستقل بڑی آمدن ہو رہی ہو۔

شہباز کے 8 وزرا حکومتی کارکردگی پر ناخوش کیوں ہیں؟

مریم نواز کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ نے ذاتی طور پر سرکاری طیارے کے استعمال کے اخراجات ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ادائیگی کا واضح ثبوت، رقم جمع کرانے کی تاریخ، متعلقہ سرکاری اکاؤنٹ اور باقاعدہ رسید بھی سامنے آنی چاہیے تاکہ معاملے سے متعلق قیاس آرائیاں ختم ہوسکیں۔ فی الحال معاملہ کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا، تاہم اس حوالے سے دستاویزات اور فائلوں کی تیاری کا سلسلہ جاری ہے اور اب توجہ اس بات پر ہے کہ مریم نواز یہ رقم کب جمع کراتی ہیں اور اس کی رسید کب منظر عام پر آتی ہے۔ اس تنازع کا پس منظر یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنی بیٹی ماہ نور کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے تین روزہ دورے پر لندن گئی تھیں اور اس سفر کے لیے پنجاب حکومت کا گلف اسٹریم طیارہ استعمال کیے جانے پر شدید عوامی اور سیاسی تنقید سامنے آئی۔ ڈان کے مطابق پنجاب حکومت کا موقف تھا کہ مریم نواز نے لندن کے سفر کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے، جبکہ اپوزیشن اور دیگر حلقوں نے سرکاری طیارے کے نجی نوعیت کے سفر میں استعمال پر سوالات اٹھائے۔

Back to top button