بشریٰ اور اقبال انصاری کی طلاق کیسے ہوئی؟

بشریٰ، جو کبھی انصاری تھیں، اپنا ہنستا بستا گھر کبھی داؤ پر نہ لگاتیں اگر اقبال انصاری اپنی زندہ دل، ہمدرد اور محبت کرنے والی بیوی کی قدر کرتے؟ وہ کبھی کسی بات کی پرواہ نہیں کرتی تھیں۔ بڑے سے بڑے دکھ کو ہنسی میں اُڑا دیتیں۔ بچوں اور شوہر پر ہی نہیں، بھائی اور بہنوں پر بھی جان دیتی تھیں۔ انھیں آپ ایک مکمل فیملی پرسن کہہ سکتے ہیں۔ وہ رشتے بنانا ہی نہیں،نبھانا بھی جانتی تھیں۔ پھر ایسا کیا ہوا؟ ان کے ہنستے بستے گھر کو کس کی نظر لگ گئی؟ یہ جاننے کے لئے تھوڑا ماضی میں چلتے ہیں۔
بشریٰ کی اقبال انصاری سے شادی ہوئی تو وہ کراچی شفٹ کیا ہوئیں، وہیں کی ہو کر رہ گئیں۔ کبھی بھاگ بھاگ کر لاہور نہیں آئیں۔ پرفارمنگ آرٹ سے انھیں بچپن سے لگاؤ تھا، اور اب یہ امید کہ شوہر چونکہ اسی فیلڈ سے ہیں تولگے ہاتھوں شوق بھی پورا ہو جائے گا۔ اس وقت تک بشریٰ کی فنکارانہ صلاحیتیں کھل کر سامنے نہیں آئیں تھیں۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ بشریٰ کا شمار پاکستان کے لیجنڈز میں ہو گا اور وہ وکڑی سٹینڈ پر سب سے اونچائی پر کھڑی ہوں گی۔
بشریٰ کا ڈیبیو ڈرامہ اقبال انصاری ہی کی پروڈکشن تھا جبکہ ان کی حالیہ ڈرامہ سیریل ”زیبائش“ کے ڈائریکٹر اقبال حسین ہیں۔ بشریٰ کے قریب دوست جانتے ہیں کہ انھوں نے کام کے ساتھ ساتھ جس طرح گھر کو سنبھالا، وہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ وہ جتنی بھی تھکی ہوئی ہوتیں، ماتھے پر بل لائے بغیر شوہر کے نخرے بھی اٹھاتیں اور بچوں کی فرمائشیں بھی پوری کرتیں۔
کہا جاتا ہے کہ بشریٰ کے موجودہ شوہر اقبال حسین سے، ان کی پہلی بیوی فرح سعدیہ کی علیحدگی کی بڑی وجہ خرچ سے تنگی تھی اور اسے اتفاق ہی کہیں گے کہ بشریٰ کی علیحدگی کی بڑی وجہ بھی خرچ کے حوالے سے اقبال انصاری کا لاپرواہ ہونا ٹھہرا۔ ویسے دونوں کے شوہر جانتے تھے کہ ان کی بیویاں اتنا کما لیتی ہیں کہ ضرورت پڑنے پر ان کی بھی مدد کر سکتی ہیں اور بقول اقبال حسین، بد نیتوں کے گھر نہیں بستے، مرد کی نیت اچھی ہونی چاہیئے۔۔۔تو کیا اقبال حسین کی طرح اقبال انصاری کی نیت بھی اچھی نہیں تھی یا بشریٰ کے نسبتاً اونچے سٹیٹس اور پیسے کی فراوانی سے وہ کمپلیکس کا شکار ہو گئے تھے؟ بشریٰ اقبال کا اکھڑا رویہ دیکھ رہی تھیں۔ وہ حیران تھیں کہ گھر کی بنیادی ضروریات سے لے کر بیٹیوں کی فرمائشوں تک، وہ ہر جگہ کنٹری بیوٹ کرتی ہیں، اس کے باوجود ان کے شوہر کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کرتیں؟ اگر وہ کوئی پراپرٹی لیتیں یا گھر کا کوئی حصہ بدلنا چاہتیں تو بھی شوہر کو اعتراض ہوتا۔ ایسا نہیں تھا کہ ان کے شوہر مالی طور پر کسی سے کم تھے مگر شاید وہ ہر چیز پر اپنا تسلط چاہتے تھے۔ اسی دوران انھوں نے دونوں بیٹیوں کی شادیاں کر دیں، عمر کو نریمان نے پسند کیا اور میرا نے عمان سے شادی کی۔ سب کا تعلق فائن آرٹس سے ہے۔ بشریٰ کے مطابق، نریمان ان کی اور میرا اقبال کی کاپی ہے۔ خیر آہستہ آہستہ بشریٰ تنہائی کا شکار ہونے لگیں، پھر سننے میں آیا کہ انھوں نے اقبال سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، گھر چھوڑ دیا ہے اور اپنے کسی فلیٹ میں منتقل ہو گئی ہیں۔ انھیں لگتا کہ جس گھر اور اولاد کو انھوں نے اپنا خون پسینہ دیا ہے، وہ ان سے دور ہوتی جارہی ہے۔ وہ اکثر یہ سوال کرتیں کہ کیا ہم سب صرف اپنی ضرورتوں کے لئے ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں؟ اپنے ایک انٹرویو میں بشریٰ بتا رہی تھیں ”میں نے کچن سنبھالا، شوہر کا ہر کام کیا، اس کے بچوں کو پالا لیکن مجھے یہ رومانس راس نہیں آیا“ جب اختلافات حد سے گزر گئے تو دونوں کے راستے جُدا ہو گئے۔ پھر بشریٰ نے اقبال حسین سے شادی کر لی، شاید یہ شادی راز ہی رہتی اگر بشریٰ میں آنے والی تبدیلی کو کوئی نوٹس نہ کرتا؟ یقیناً بشریٰ کو کراچی کے پروگریسو ماحول نے بدلا ہے اور نہ ہی بےپناہ شہرت نے، اتنی قد آور سلیبرٹی ہونے کے باوجود انھوں نے ایک عام عورت کی طرح زندگی گزاری ہے بلکہ اب توانھوں نے رنجیدہ ہونا بھی چھوڑ دیا تھا ورنہ شوہر نے کچھ کہہ دیا یا منہ پھیر لیا تو رونے لگیں مگر اب نہیں، اب وہ صرف اپنے لئے جینا چاہتی ہیں۔ گذشتہ ایک دو سالوں سے ان کا رنگ ڈھنگ ہی نہیں، پہننا اوڑھنا بھی بدل گیا ہے۔ آج کل وہ خوب سجتی سنورتی ہیں، حتیٰ کہ شارٹ سکرٹس بھی پہننے لگی ہیں۔۔۔کہتی ہیں،انسان کا جسم بوڑھا ہوتا ہے، دل نہیں۔۔۔ جیسے لال صوفے پر بیٹھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔
اگر آپ بشریٰ کے حالیہ انٹرویوز دیکھیں تو اب وہ اپنے شوہر کا ذکر نہیں کرتیں اور چونکہ نئی شادی اناؤنس نہیں کی تو اس حوالے سے بات ہی نہیں کرتیں۔ یہ نہیں کہ وہ رشتوں سے ڈرنے لگی ہیں، وہ کسی سے نہیں ڈرتیں لیکن بس ابھی بتانا نہیں چاہتیں۔
البتہ آج کل گنگناتی بہت ہیں، شاید یہ ان کے دل کی خوشی ہے جو گانوں کی صورت میں جھلکتی رہتی ہے۔ ویسے بھی اقبال انصاری بشریٰ سے عمر میں پانچ چھ سال بڑے تھے جبکہ بعد میں ان کی زندگی میں آنے والے اقبال عمر میں تقریباً بارہ سال چھوٹے ہیں!!
