بطور گورنر جنرل بانی پاکستان کتنی تنخواہ لیتے تھے؟


سوشل میڈیا پر گزشتہ کچھ عرصے سے یہ معاملہ زیر بحث ہے کہ کیا بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بطور گورنر جنرل پاکستان صرف ایک روپیہ علامتی تنخواہ لیتے تھے۔ تاریخ کے پنوں کو اٹھایا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ قائد اعظم کی تنخواہ ایک روپیہ نہیں بلکہ 10ہزار 416 روپے 10 آنے تھی۔
سوشل میڈیا جہاں نت نئی اور دلچسپ معلومات کا ذریعہ ہے وہیں بعض اوقات اس پرغلط معلومات بھی گردش کرتی نظر آتی ہیں۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل 1948 کی ایک تاریخی دستاویز کے ساتھ یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ بطور گورنر جنرل پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ماہانہ تنخواہ 1 روپے تھی۔ دستاویز منظر عام پر آنے کے بعد بطور گورنر جنرل پاکستان صرف ایک روپیہ تنخواہ کی وصولی پر لوگوں کی طرف سے حیرانگی کا اظہار کیا جا رہا تھا لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ تاریخی دستاویزات اور سیلری سلپس کا عمیق نظری سے مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کی تنخواہ 10416 روپے 10 آنے تھی چونکہ یہ بہت بڑی رقم تھی، اس لیے تنخواہ پر بھاری شرح سے انکم ٹیکس کے علاوہ سپر ٹیکس بھی لگایا گیا تھا اور 6 ہزار روپے سے زیادہ ٹیکس کی کٹوتی کے بعد قائد اعظم کو 4304 روپے 10 آنے تنخواہ کی مد میں ادائیگی کی جاتی تھی۔ قائد اعظم کی تنخواہ اور پے سلپ کے ڈاکیومنٹ پاکستان آرکائیوز میں محفوظ ہیں۔
ان دستاویزات کے مطابق محمد علی جناح کی قیام پاکستان کے بعد بطور گورنر جنرل تعیناتی کے بعد باقاعدہ تنخواہ مقرر کی گئی تھی اور اس کا پے بل بھی ہر مہینے منظوری کے مراحل سے گزرتا تھا اور انھیں ماہانہ مشاہرہ دیا جاتا تھا۔ قائد اعظم کی ماہانہ تنخواہ کا پہلا پے بل اگست 1947 سے جنوری 1948 تک کا بنایا گیا تھا جس کی کل رقم 57 ہزار795 روپے 13 آنے بنی تھی جس میں سے انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی کٹوتی کے بعد 34 ہزار 5 سو 88 روپے 5 آنے کی رقم قائد اعظم کو ادا کی گئی تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح جب فوت ہوئے تو ان کی تنخواہ کا بل اکاونٹنٹ جنرل آفس میں منظوری کیلئے موجود تھا اس بل پر قائد اعظم نے 24 اگست 1948 کو دستخط کئے تھے۔ اس سیلری بل میں قائد کے ستمبر 1948 کے 11 دنوں کی تنخواہ شامل نہیں تھی۔ اے جی پی آر آفس نے مارچ 1948 سے جولائی 1948 تک ٹیکس کی مد میں منہا کی گئی رقم کا تمام حساب کتاب لگانے کے بعد قائد اعظم کی اگست 1948 کے بل سے ٹیکس کٹوتی نہیں کی اور ان کی وصیت کے مطابق ان کی وراثت کو فاطمہ جناح اور نوابزادہ لیاقت علی خان کے حوالے کر دیا گیا۔
قائد اعظم کی آخری تنخواہ کی رقم 14 ہزار 236 روپے چار آنے تھی جس میں اگست کی تنخواہ 10ہزار 416 روپے 10 آنے جبکہ ستمبر 1948 ک 11 دنوں کی تنخواہ 3ہزار 8 سو 29 روپے 11 آنے شامل تھی جو محترمہ فاطمہ جناح کے حوالے کی گئی جبکہ الاؤنسز کی مد میں 12 ہزار 129 روپے 1 آنہ بھی فاطمہ جناح کو بذریعہ خط ارسال کر دیا گیا۔
قائداعظم بلاشبہ ایک عظیم لیڈر تھے یہ ڈاکیومنٹ ان کی عظمت کو کم نہیں کر سکتا، لیکن ہمیں حقیقت کا علم ہونا چاہیے۔ تاہم “ایک روپیہ تنخواہ” والی کہانی اور تاریخی ڈاکیومنٹس میں تضاد پایا جاتا ہے۔ قائد اعظم کی تنخواہ کی دستاویزات اس بات کی شاہد ہیں کہ وہ بطور گورنر جنرل پاکستان 1 روپیہ نہیں بلکہ ایک معقول تنخواہ لیتے تھے اور سرکار کی طرف سے انھیں آخری دن تک کی تنخواہ ادا کی گئی۔
قیام پاکستان سے قبل وکالت کے ساتھ ساتھ جناح کی آمدنی کا ایک اور ذریعہ مختلف کمپنیوں کے شیئرزاور پراپرٹی کی خریدوفروخت تھا۔ وہ اپنی تمام تر آمدنی کاباقاعدہ حساب رکھتے تھے-ان کا شمار برصغیر کے ان گنے چنے افراد میں ہوتا تھا، جوسپر ٹیکس اور سپر ٹیکس سرچارج بھی ادا کرتے تھے۔ اس معاشی خود کفالت کے باعث قائد کو آزادی عمل حاصل تھا ،ان کے ہم عصر بیش ترسیاسی اور مذہبی رہنماؤں کو یہ سہولت میسر نہیں تھی۔ مشہور واقعہ ہے کہ کسی نے ان پر اعتراض کیا تھا کہ گاندھی جی تو ریل کے تیسرے درجے میں سفر کرتے ہیں اور آپ درجہ اوّل میں، قائد کا جواب تھا کہ ان کا کرایہ کانگریس ادا کرتی ہے، جب کہ میں فرسٹ کلاس کا ٹکٹ اپنی جیب سے خریدتا ہوں۔ قائد اعظم نے جو بھی بطور وکیل کمایا وہ خود ان کی محنت کی کمائی تھی۔ ان کے کردار اور عمل میں بے پناہ خودداری تھی، وہ مسلم لیگ کے تا حیات صدر رہے، لیکن انہوں نے اپنی ذات کے لئے ایک پائی بھی مسلم لیگ فنڈز سے نہیں لی۔ اپنی علالت کے دوران قائد نے معالجین کے اصرار کے باوجود برطانیہ اور امریکا سے ڈاکٹر بلوانے سے انکار کر دیا کہ اس سے سرکاری خزانے پر بوجھ پڑے گا-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button