جناح نے پاکستان بننے تک اپنی بیماری کیسے چھپائی؟


قیام پاکستان سے کئی برس قبل محمد علی جناح تپ دق یا ٹی بی کی مہلک بیماری کا شکار ہو چکے تھے جس کے باعث ان کے پھیپھڑوں پر دھبے آ گئے تھے لیکن انھوں اس بات کو صیغۂ راز میں رکھا کیونکہ کانگریسی رہنماؤں اور لارڈ مونت بیٹن کو اسکا علم ہو جاتا تو شاید وہ تقسیم ہند سے بچنے اور پاکستان کا قیام روکنے کے لئے قائد کی موت کا انتظار کرتے۔
قائد اعظم محمد علی جناح کے سوانح نگاروں کے مطابق 1930ء سے جناح تپ دق کے شکار چلے آ رہے تھے اور یہ بات صرف ان کی بہن اور انکے ذاتی معالج ڈاکٹر الہی بخش کو معلوم تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جناح نے اپ ی بیماری کو چھپایا کیونکہ یہ انہیں اور پاکستان کا سیاسی طور پر نقصان کر سکتی تھی۔ 1938ء میں اپنے ایک دوست کو خط میں وہ لکھتے ہیں”تم نے اخبار میں میرے دوروں کے بارے میں پڑھا ہوگا۔۔ میں اپنی خرابی صحت کی وجہ سے اپنے دوروں میں بے قاعدگیوں کا شکار تھا جس کی وجہ میری خراب صحت تھی”۔
محترمہ فاطمہ جناح اہنی کتاب نشئی بارڈر میں لکھتی ہیں کہ جناح اپنی کامیابیوں کے دور میں بھی سخت بیمار تھے۔۔ وہ جنون کی حد تک پاکستان کو سہارا دینے کے لیے کام کرتے رہے اور ظاہر سی بات ہے کہ انہوں نے اپنی صحت کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا تھا۔ جناح اپنے میز پر کراؤن اے سگریٹ اور کیوبا کا سگار رکھتے تھے اور اپنی زندگی کے آخری برسوں میں انہوں نے سگریٹ نوشی بہت زیادہ کردی تھی۔ گورنمنٹ ہاؤس کراچی کے پرائیویٹ حصے میں وہ آرام کے لمبے وقفے لینے لگے تھے اور فاطمہ جناح اور ذاتی عملے کو ہی ان کے قریب رہنے کی اجازت تھی۔جون 1948ء میں وہ اور فاطمہ جناح بہتر آب و ہوا کے لیے کوئٹہ روانہ ہوئے جہاں کی ہوا کراچی کے مقابل سرد تھی لیکن وہاں بھی جناح نے مکمل آرام نہ کیا بلکہ واپس کراچی آنے تک سرکاری تقریبات میں شرکت کرتے رہے۔
6 جولائی 1948ء کو جناح واپس کوئٹہ روانہ ہوئے اور ڈاکٹروں کے مشورے پر مزید بلند سیاحتی مقام زیارت منتقل ہوئے۔ اس دوران جناح کا طبعی معائنہ کیا گیا اور انکی طبعی نزاکت دیکھتے ہوئے بہترین ڈاکٹروں کو ان کے علاج کے لیے بلایا گیا۔ ان کے مختلف ٹیسٹ ہوئے جنہوں نے ٹی بی کی موجودگی اور پھیپھڑوں کے سرطان کا بتایا۔ جب قائد اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر الہی بخش نے قائد کو بتایا کہ وہ پھیپھروں کے مرض میں مبتلا ہیں تو جناح بولے کہ ہاں میں جانتا ہوں لیکن میں نے اپنی بیماری کو اس لیے چھپا کر رکھا کہ کہیں کانگریسی اور انگریز اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے قیام کو التوا میں نہ ڈال دیتے۔
جناح کو اس دور کی معجزاتی دوائی سٹریپٹو مائیسن دی گئی لیکن کچھ افاقہ نا ہوا۔ لوگوں کی نماز عید میں انکے لیے کی گئی خصوصی دعاؤں کے باوجود انکی صحت برابر گرتی رہی۔ جناح کو آزادی سے ایک دن قبل 13 اگست کو کم اونچے مقام کوئٹہ لایا گیا انہوں نے اس دن کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا۔ اسوقت قائد کا وزن گر کر محض 36 کلو رہ گیا تھا ڈاکٹروں کو یقین تھا کہ اگر اس حالت میں انہیں کراچی زندہ حالت میں لے جایا گیا تو تب بھی وہ کم عرصہ ہی زندہ رہ پائیں گے۔ لیکن جناح کراچی جانے پر تذبذب کا شکار تھے ،وہ نہی چاہتے تھے کہ ان کے معالج انہیں بے کار اسٹریچر پر بیٹھا معذور خیال کریں۔ 9 ستمبر کو جناح کو نمونیا نے آگھیرا۔ اب ڈاکٹروں نے انہیں کراچی لوٹنے کا مشورہ دیاجہاں وہ انکا بہتر علاج کر سکتے تھے۔ قائد 11 ستمبر کو کراچی روانہ ہوئے۔ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر الہٰی بخش کا اندازہ ہے کہ جناح کی کراچی جانے کی رضامندی انہیں اپنے زندگی سے مایوس ہونے کی وجہ سے تھی۔ جب طیارے نے کراچی لینڈنگ کی تو فوراً جناح کو ایک ایمبولیس میں لٹا دیا گیا۔ لیکن بدقسمتی کہ ایمبولینس آدھے راستے میں خراب ہو گئی۔ جناح اور ان کے رفقاء دو گھنٹے سڑک پر متبادل ایمبولینس کا انتظار کرتے رہے، انہیں کار میں بٹھایا نہیں جا سکتا تھا کیونکہ وہ سیدھے بیٹھنے کی حالت میں نا تھے۔ دوسری ایمبولینس پہنچی تو جناح کو سرکاری گھر منتقل کیا گیا۔ یوں شام چھ بج کر دس منٹ پر وہ گورنر جنرل ہاؤس پہنچے۔ ایئر پورٹ سے رہائش گاہ تک کا نو میل کا فاصلہ جو زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس منٹ میں طے ہوجانا چاہیے تھا تقریباً دو گھنٹے میں طے ہوا۔ یعنی دو گھنٹے کوئٹہ سے کراچی تک اور دو گھنٹے ایئر پورٹ سے گورنر جنرل ہاؤس تک۔
یہ تکلیف دہ سفر جناح نے اس کسمپرسی کے عالم میں کیا کہ ہماری تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے اور نہ کوئی توجیہہ۔ گورنر جنرل ہاؤس پہنچنے کے بعد جناح فقط سوا چار گھنٹے زندہ رہے اور اس دوران وہ تقریباً غنودگی کے عالم میں رہے۔ ڈاکٹروں نے انھیں طاقت کا ایک انجکشن لگایا اور ڈاکٹر الٰہی بخش کے بقول جب انھوں نے ہوش میں آنے پر جناح سے کہا کہ وہ جلد ہی ٹھیک ہو جائیں گے تو انھوں نے آہستگی سے کہا: ’نہیں۔۔۔ میں زندہ نہیں رہوں گا۔‘ ڈاکٹر الٰہی بخش کے مطابق یہ ’قائد اعظم‘ محمد علی جناح کے آخری الفاظ تھے۔
ڈاکٹر ریاض علی شاہ نے لکھا ہے کہ جناح کے آخری الفاظ ’اللہ۔۔۔ پاکستان‘ تھے جبکہ فاطمہ جناح’مائی برادر‘ میں لکھتی ہیں: ’جناح نے دو گھنٹے کی پرسکون اور بے خلل نیند کے بعد اپنی آنکھیں کھولیں، سر اور آنکھوں سے مجھے اپنے قریب بلایا اور میرے ساتھ بات کرنے کی آخری کوشش کی۔ ان کے لبوں سے سرگوشی کے عالم میں نکلا: فاطی۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔ لاالٰہ الاللہ محمد الرسول اللہ۔‘ پھر ان کا سر دائیں جانب کو آہستگی سے ڈھلک گیا اور ان کی آنکھیں بند ہوگئیں۔ یوں 11 ستمبر 1948ء کو پاکستان بننے کے صرف ایک برس بعد جناح انتقال کر گئے۔
پاکستان ایٹ دی ہلم نامی کتاب لکھنے والے بھارتی مصنف تلک دیویشر بتاتے ہیں کہ جناح کی ایک ذاتی معالج ڈاکٹر پٹیل بہت ہی پیشہ ور ڈاکٹر تھے۔ لہذا قیام پاکستان سے قبل انھوں نے کسی کو جناح کی بیماری خبر نہیں ہونے دی۔
برصغیر کی جدوجہد آزادی کے موضوع پر لکھی گئی مشہور کتاب ’فریڈم ایٹ مڈنائٹ‘ کے مصنّفین لیری کولنز اور ڈومینک لاپیئر لکھتا ہے: ’اگر اپریل 1947 میں ماؤنٹ بیٹن، جواہر لال نہرو یا مہاتما گاندھی میں سے کسی کو بھی اس غیر معمولی راز کا علم ہو جاتا جو بمبئی کے ایک مشہور طبیب ڈاکٹر جے اے ایل پٹیل کے دفاتر کی تجوری میں انتہائی حفاظت سے رکھا ہوا تھا، تو شاید ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا اور آج ایشیا کی تاریخ کا دھارا کسی اور رخ پر بہہ رہا ہوتا۔ یہ وہ راز تھا جس سے برطانوی سیکرٹ سروس بھی آشنا نہ تھی۔ یہ راز جناح کے پھیپھڑوں کی ایک ایکسرے فلم تھی، جس میں بانی پاکستان کے پھیپھڑوں پر ٹیبل ٹینس کی گیند کے برابر دو بڑے بڑے دھبے صاف نظر آ رہے تھے۔ ہر دھبے کے گرد ایک بالا سا تھا جس سے یہ بالکل واضح ہو جاتا تھا کہ تپ دق کا مرض جناح کے پھیپھڑوں پر کس قدر جارحانہ انداز میں حملہ آور ہوچکا ہے۔‘
ڈاکٹر پٹیل نے جناح کی درخواست پر ان ایکس ریز کے بارے میں کبھی کسی کو کچھ نہ بتایا۔ تاہم انھوں نے جناح کو علاج اور صحت یابی کے لیے یہ مشورہ ضرور دیا کہ ان کا علاج صرف اور صرف آرام میں مضمر ہے۔ مگر بانی پاکستان کے پاس آرام کا وقت کہاں تھا؟
ان کے پاس وقت کم تھا اور کام بہت زیادہ تھا اور وہ باقاعدہ علاج کا اہتمام کبھی نہ کرسکے۔ وہ اتنی آہنی ہمت کے مالک تھے کہ انھوں نے اپنے مرض کے بارے میں اپنی عزیز ترین بہن کو بھی آگاہ نہیں کیا، حتیٰ کہ انھوں نے ڈاکٹر الٰہی بخش کو بھی اپنے راز سے اس ہی وقت آگاہ کیا جب وہ خود یہی تشخیص کر چکے تھے۔
ماؤنٹ بیٹن نے خاصے طویل عرصے بعد لیری کولنز اور ڈومینک لاپیئر کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ساری طاقت جناح کے ہاتھ میں تھی۔ ’اگر کسی نے مجھے بتایا ہوتا کہ وہ بہت کم عرصے میں ہی فوت ہوجائیں گے تو میں ہندوستان کو تقسیم نہ ہونے دیتا۔ یہ واحد صورت تھی کہ ہندوستان متحدہ صورت میں برقرار رہتا۔ راستے کا پتھر صرف مسٹر جناح تھے، دوسرے رہنما اس قدر بے لوچ نہیں تھے اور مجھے یقین ہے کہ کانگریس ان لوگوں کے ساتھ کسی مفاہمت پر پہنچ جاتی اور پاکستان تاقیامت وجود میں نہ آتا۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button