بلند شرح سود نے کاروباری سرگرمیاں جام کردیں

پاکستان میں غیر پیداواری قرضوں کی شرح دوگنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے جبکہ معاشی سرگرمیوں کے لیے قرضوں کی طلب میں 5.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
بینکنگ سیکٹر کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ساڑھے نو ماہ کے دوران بینکوں کی جانب سے غیرپیداواری اخراجات کی مد میں قرضوں کی فراہمی میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جبکہ معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلیے قرضوں کی شرح میں 5.5 فیصد کمی سامنے آئی ہے۔
دوسری طرف پرائیویٹ سیکٹر کو فراہم کردہ قرضوں کا حجم کم ہو کر 219.92 ارب روپے ہوگیا جو کہ گزشتہ سال 1.19 ٹریلین روپے تھا۔
ایکسپریس ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے کے اے ایس بی سیکیورٹیز کے ریسرچ ہیڈ یوسف رحمان نے کہا کہ معیشت سے فنانسنگ نکال کر حکومت کو فراہم کی جارہی ہے، تاریخی بلند ترین قرضوں پر انٹریسٹ پیمنٹس کی وجہ سے حکومتی قرضوں میں بے تحاشاں اضافہ ہورہا ہے، جو کہ معیشت کیلیے کوئی خوشگوار عمل نہیں ہے۔
رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی انٹرسٹ پیمنٹس بڑھ کر 5.5 ٹریلین روپے ہونے کا امکان ہے، جو کہ جی ڈی پی کا 6.5 فیصد ہے، جبکہ ابتدا میں یہ تخمینہ جی ڈی پی کے 4.7 فیصد، یعنی 3.9 ٹریلین روپے لگایا گیا تھا۔
