بلوچستان: تربت میں نامعلوم افراد کی فائرنگ،خاتون صحافی قتل

بلوچستان کے شہر تربت میں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے خاتون صحافی و اینکر اور سماجی کارکن شاہینہ شاہین بلوچ کوقتل کردیا۔
پولیس نے کہا کہ تربت کے ٹی ٹی سی کالونی کے علاقے میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے پی ٹی وی کی مقامی اینکر اور مقامی میگزین کی ایڈیٹر شاہینہ شاہین شدید زخمی ہوئیں۔انہیں تربت کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔پولیس نے کہا کہ ملزمان فائرنگ کے بعد جائے وقوع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
پولیس عہدیدار اللہ بخش کے مطابق ‘ہم قتل کی وجوہات سے اس وقت لاعلم ہیں۔’انہوں نے کہا کہ خاتون صحافی کو تین گولیاں لگیں جبکہ ان کی میت ان کے گھر منتقل کردی گئی ہے۔حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں ٹی وی اینکر شاہینہ شاہین کے قتل کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) کیچ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ کچھ لوگ مقتولہ کی لاش ہسپتال چھوڑ کر چلے گئے۔انہوں نے کہا کہ مقتولہ کے ماموں امجد رحیم نے لاش وصول کی جبکہ ان کی والدہ تربت پہنچ کر خود قتل کا مقدمہ درج کرنا چاہ رہی ہیں جس میں پولیس ان سے مکمل تعاون کر رہی ہے۔
پولیس کے مطابق نامعلوم شخص نے شاہینہ شاہین کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔ گاڑی کا مالک اپنی گاڑی ہسپتال میں ہی چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ پولیس نے گاڑی کو قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کو دو گولیاں لگی ہیں۔ قتل کی وجہ ابھی معلوم نہیں ہوسکی۔
شاہینہ شاہین سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن میں پروگرامز کی میزبانی کرتی تھیں اور ایک بلوچی میگزین ’دزگہار‘ (سہیلی) کی مدیر بھی تھیں۔ شاہینہ شاہین مصوری بھی کرتی تھیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ معاملہ گھریلو تنازع لگ رہا ہے تاہم واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔اہل خانہ نے پولیس کو اب تک کوئی بیان ریکارڈ کرایا اور نہ ہی کوئی درخواست دی ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال یکم مئی کو ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں ایک سال کے دوران میڈیا کے خلاف حملوں اور دیگر خلاف ورزیوں کے 91 مختلف واقعات سامنے آئے جس میں 7 صحافیوں کا قتل بھی شامل ہے۔دنیا بھر میں 3 مئی کو منائے جانے والے آزادی صحافت کے دن کے حوالے سے فریڈم نیٹ نے پاکستان پریس فریڈم رپورٹ سال 20-2019 جاری کی جس میں ان واقعات کے بارے میں بیان کیا گیا۔’قتل، ہراساں کیا جانا اور حملے: پاکستان میں صحافیوں کے لیے مشکلات’ کے عنوان سے شائع اس رپورٹ میں مئی 2019 سے اپریل 2020 تک کے واقعات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button