بلوچستان: صحافی شاہینہ شاہین کے قتل کے مقدمے میں شوہر نامزد

بلوچستان کے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والی معروف خاتون سماجی کارکن، مصورہ اور صحافی شاہینہ بلوچ کے قتل کے مقدمے ان کے شوہر کو نامزد کیا گیا ہے جو گزشتہ روز انہیں زخمی حالت میں اسپتال لے کر آئے اور پھر روپوش ہوگئے۔
کیچ پولیس کے مطابق شاہینہ کو اسپتال پہنچانے والے شخص کی شناخت محراب گچکی نام سے ہوئی اور وہ اس وقت مفرور ہیں۔ شاہینہ بلوچ کے قتل کا مقدمہ ان کے ماموں احمد علی کی مدعیت میں تربت پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں یہ کہا گیا ہے نوابزادہ محراب گچکی اور شاہینہ نے پانچ ماہ قبل کراچی میں کورٹ میرج کی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق محراب گچکی نے تربت شہر میں واقع پی ٹی سی ایل کالونی کے ایک کوارٹر میں اپنے 9 ایم ایم پسٹل سے فائرنگ کر کے شاہینہ کو قتل کیا اور ان کو زخمی حالت میں اسپتال پہنچانے کے بعد فرار ہوا۔
کیچ پولیس کے مطابق نامزد ملزم کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جارہے ہیں لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ شاہینہ شاہین سینیچر کے روز فائرنگ سے قتل ہوگئی تھی۔
واقعے کے بعد کیچ پولیس کے ایس ایس پی نجیب پندرانی نے بتایا کہ شاہینہ کو محراب گچکی نامی ایک شخص نے زخمی حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال پہنچایا تھا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس شخص نے شاہینہ شاہین کو اسپتال پہنچایا وہ یہ کہہ کر اسپتال سے چلے گئے کہ وہ ان کے گھر کی خواتین کو اسپتال لائیں گے۔
شاہینہ شاہین کا تعلق بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت شہر سے تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم تربت میں حاصل کی اور اس کے بعد فائن آرٹس میں ڈگری حاصل کرنے کےلیے یونیورسٹی آف بلوچستان میں داخلہ لیا۔ انہوں نے فائن آرٹس میں 2018 میں نہ صرف بی ایس کی ڈگری حاصل کی بلکہ اپنی ذہانت کے باعث گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔ انہوں نے سنہ 2019 میں بلوچی زبان میں بھی ایم اے کی ڈگری فرسٹ پوزیشن کے ساتھ حاصل کی۔
وہ صحافت کے پیشے سے بھی وابستہ تھی اور ایک بلوچی میگزین دزگہار(سہیلی ) کی مدیر بھی تھیں۔ کوئٹہ میں یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران وہ پی ٹی وی بولان کے بلوچی زبان میں مارننگ شو کی میزبانی بھی کرتی تھی۔ شاہینہ بلوچ کا کوئی بھائی نہیں تھا بلکہ وہ پانچ بہنیں تھیں۔ سنہ 2018 میں یونیورسٹی آف بلوچستان میں جب فائن آرٹس کے فائنل ایئر کے طلبہ و طالبات کی پینٹنگز کی نمائش کی گئی تو اس میں شاہینہ کی پینٹنگز نہ صرف شامل تھیں بلکہ ہر لحاظ سے نمایاں بھی تھیں۔ یونیورسٹی میں اس نمائشں کے دوران انہوں نے اپنی والدہ اور چاربہنوں کی بھی پینٹنگز بنائی تھی۔ انہوں نے پینٹنگز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا کوئی بھائی نہیں لیکن یہ خواتین ان کی طاقت ہیں اور وہ انہی کی مدد سے اس مقام تک پہنچی ہیں۔
یونیورسٹی آف بلوچستان میں پینٹنگز کی نمائش کے دوران انہوں نے بتایا تھا کہ بلوچستان کی خواتین صلاحیتوں میں کسی سے بھی کم نہیں۔ بلوچستان کی خواتین بہادر ہیں اور وہ سب کچھ کرسکتی ہیں لیکن انہیں خاندان کی جانب سے مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر لوگ اپنی خواتین کی سپورٹ کریں گے تو وہ آنے والی نسلوں کےلیے ایک رول ماڈل بنیں گی۔ انہوں نے اپنی اور اپنی بہنوں کی جو پینٹنگز کی تھی اس پر انہوں نے خاردار تاریں بھی بنائی تھیں۔ اس کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ خواتین کےلیے مشکلات بہت ہوتی ہیں وہ جب گھروں سے نکلیں گی تو رکاوٹیں ہوں گی لیکن خواتین کو ہمت نہیں ہارنی ہے بلکہ جرات کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔
وہ تربت جیسے دوردراز علاقے سے پہلی لڑکی تھیں جنہوں نے ٹی وی میں کام کیا۔ شاہینہ نے بتایا تھا کہ شروع شروع میں سب کو مشکلات ہوتی ہیں اسی طرح کی مشکلات انہیں بھی پیش آئیں لیکن انہوں نے اپنے معاشرے کی ترقی کےلیے کام کرنا تھا اس لیے انہوں نے اپنے خاندان کی سپورٹ سے ان مشکلات کا مقابلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوششوں کی وجہ سے لوگ ان کے کام کو پسند کررہے ہیں ان کی ہر لحاظ سے حوصلہ افزائی کررہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کر دکھایا ہے۔ اس نمائش میں ان کی پینٹنگز کو لوگوں نے سراہا تو وہ بہت خوش تھی اور اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ لوگ ان کے کام کو بہت زیادہ پسند کریں گے۔ انہوں نے یہ کہا تھا وہ بہت زیادہ خوش ہیں اور انہیں یہ ہمت نہیں ہو پارہی ہے کہ وہ اپنی اس خوشی کے بارے میں اپنے گھر والوں کو کس طرح بتائیں۔
وہ ملکی اور انٹرنیشنل سطح پر بھی اپنے کام کی نمائش کرنا چاہتی تھیں اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ بتانا چاہتی ہیں کہ بلوچستان کے خواتین میں کتنی صلاحیت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا تھا کہ وہ خواتین کے مسائل کو حل کرنے کےلیے کام کریں گی کیوں کہ ایک خاتون ہی خواتین کے مسائل کو بہتر انداز سے سمجھ سکتی ہیں۔
ان کے ایک کلاس فیلو نجیب بلوچ نے ان کی قتل کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک انتہائی باصلاحیت اور متحرک خاتون تھی۔ انہوں نے بتایا کہ شاہینہ شاہین خود اپنی محنت سے اس مقام پر پہنچی تھی۔ انہوں نے نہ صرف اپنے بیچ میں گولڈ میڈل حاصل کیا بلکہ بلوچی زبان میں بھی پرائیویٹ طالبہ کی حیثیت سے ٹاپ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کلاس کی ذہین ترین طالبہ ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی مدد کےلیے ہمہ وقت تیار رہتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خواتین کے حقوق اور زندگی کے ہر شعبے میں ان کی برابری کی علمبردار تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button