بلوچستان لبریشن آرمی نے 6 مہینے تک حملوں کی منصوبہ بندی کی

26 اگست کو بلوچستان کے تمام بڑے شہروں میں ہونے والے بم دھماکوں اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں 60 افراد کی ہلاکت کے بعد تحقیقات میں معلوم ہوا یے کہ بلوچستان لبریشن آرمی نے اس دن کے کیے کم از کم چھ مہینے پہلے ہی شروع کر دی تھی، تاہم انٹیلی جینس ایجنسیز کی ناکامی یہ تھی کہ انہیں اس منصوبے بارے علم نہ ہو پایا۔ 26 اگست کو بلوچ قوم پرست لیڈر نواب اکبر بگتی شہید کی برسی کے موقع پر بلوچستان لبریشن آرمی نے نہ صرف صوبہ بھر میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا بلکہ تمام بڑی شاہراہیں بھی بلاک کر دیں۔ یاد ریے کہ اکبر بگٹی 26 اگست 2006 کو ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے درمیانی پہاڑی علاقے ترتانی میں جنرل مشرف کے حکم پر ایک فوجی آپریشن میں مارے گے تھے۔ اکبر بگٹی بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ اور گورنر کے عہدوں پر فائز رہنے والے ایک مقبول بلوچ سیاسی رہنما تھے جن کی شہادت کے بعد صوبے میں قوم پرستانہ علیحدگی اور شدت پسندانہ تحریک میں تیزی آ گئی تھی۔

بلوچستان میں ایک روز کے دوران حملوں میں کم از کم 60 افراد کی ہلاکت کے واقعات نے سیکیورٹی ماہرین اور حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی شورش کا رواں سال کا جائزہ لیا جائے تو بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں اپنی حکمتِ عملی میں منظم اور تجربہ کار ظاہر ہو رہی ہیں۔ ایک اعلیٰ پولیس عہدیدار نے کہا کہ یہ تع اندازہ تھا کہ کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں 26 اگست کو سیکیورٹی فورسز پر حملے کر سکتی ہیں لیکن یہ اندازہ قطعی نہیں تھا کہ بی ایل اے صوبے کے طول و عرض میں کارروائیاں کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے گی۔ پولیس افسر نے کہا: "ایسا لگتا ہے کہ بی ایل اے نے اس دن اپنی طاقت ظاہر کرنے کے لیے مہینوں تیاری کی تھی۔” کالعدم بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اسے ‘آپریشن ہیروف’ کا نام دیا ہے۔ واضح رہے کہ بی ایل ایل کے دو دھڑے ہیں۔ جس دھڑے کے ترجمان جیئند بلوچ ہیں اس کی سربراہی بشیر زیب کر رہے ہیں جب کہ دوسرے دھڑے کی سربراہی حیر بیار مری کر رہے ہیں۔

بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے بعد پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق جوابی کارروائیوں اور کلیئرنس آپریشنز کے دوران 21 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ بلوچستان کی شورش کا مطالعہ کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبے کے لگ بھگ 10 اضلاع میں متعدد حملوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ فعال کالعدم علیحدگی پسند تنظیمیں اپنے رہنماؤں کی برسی کے موقع پر پُرتشدد حملے کرنے کی روایات پر عمل پیرا ہیں۔ خطے میں شدت پسندی کے موضوعات پر تحقیق کرنے والے اسلام آباد میں قائم ادارے ‘دی خراسان ڈائری’ سے وابستہ محقق امتیاز بلوچ کہتے ہیں بلوچستان میں 26 اگست کو ہونے والی کارروائیوں کا تعلق نواب اکبر بگٹی کی 18 ویں برسی سے تھا۔ امتیاز بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں جن رہنماؤں کی برسی کے موقع پر عموماً بم دھماکے ہوتے ہیں، ان میں نواب اکبر بگٹی، بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنما غلام محمد بلوچ، بی ایل اے کے بانی رہنما بالاچ مری اور بی ایل اے کے فیلڈ کمانڈر اسلم اچھو شامل ہیں۔کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں 14 اگست کو پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر بھی دہشت گردی کی کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔

ٹرانسپورٹرز اور سیاسی رہنماؤں سے بات چیت کے دوران معلوم ہوا ہے کہ بی ایل اے نے بیک وقت صوبے کے متعدد اضلاع لسبیلہ، مستونگ، قلات، گوادر اور تربت میں لیویز، پولیس تھانوں، سیکیورٹی فورسز کے کیمپوں اور سرکاری املاک کو نشانہ بنا کر حملے کیے۔ بی ایل اے کے شدت پسندوں کی جانب سے قلات شہر میں لیویز فورس کے ایک تھانے اور قبائلی رہنما کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا۔
حکام کے مطابق قلات میں مجموعی طور پر 11 افراد کی لاشیں اسپتال لائی گئیں جن میں سے لیویز فورس کے چار، پولیس کے ایک اہلکار اور حکومت کے حامی قبائلی رہنما ملک ازبر کی لاش شامل ہے۔ قلات سے متصل ضلع مستونگ میں بھی لیویز فورس کے تھانے پر حملہ کیا گیا۔ مگر اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بلوچستان کے ساحلی شہر ضلع گوادر میں جیونی کے علاقے میں سنٹ سر پولیس اسٹیشن پر بھی اتوار کی شب مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔

صحافی اور محقق کیا بلوچ کافی عرصے سے بلوچ عسکریت پسندی کی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بی ایل اے نے پہلی مرتبہ لسبیلہ اور موسیٰ خیل جیسے پرامن سمجھے جانے والے اضلاع میں بھی کارروائیاں کی ہیں۔ ان کے بقول موسیٰ خیل میں حملہ ظاہر کرتا ہے کہ بلوچ مسلح گروہ پنجاب کے قریب بھی اپنی پہنچ کو بڑھا رہے ہیں۔ کالعدم بی ایل اے کے عسکریت پسندوں نے بلوچستان کو ملک کے دیگر تین صوبوں سے ملانے والی اہم شاہراہوں کوئٹہ کراچی، کوئٹہ ڈیرہ غازی خان اور کوئٹہ سکھر شاہراہوں کی ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کو روکا اور تلاشی لی۔
پختون اکثریتی ضلع موسیٰ خیل میں این 70 شاہراہ پر درجنوں مسلح افراد نے مختلف مقامات پر سڑک بند کی، مسافر بسوں، گاڑیوں اور مال بردار ٹرکوں کو روک کر مسافروں کو شناخت معلوم کرنے کے بعد 23 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کیا جن میں سے اکثریت کا تعلق پنجاب سے تھا۔ عسکریت پسندوں نے ضلع کچھی کے علاقے بولان میں ریلوے پل کو بھی دھماکہ خیز مواد سے اڑایا جب کہ پل کے قریب سے چھ افراد کی لاشیں بھی ملیں۔ مقتولین کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق شاید پنجاب سے ہے۔

بلوچستان میں دو دہائی سے جاری شدت پسندی کے واقعات میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے اساتذہ، حجاموں اور مزدوروں کو بڑی تعداد میں قتل کیا جا چکا ہے۔ رواں برس اپریل میں بھی بلوچ عسکریت پسندوں نے ضلع نوشکی میں ایک بس سے شناخت معلوم کرنے کے بعد منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو قتل کر دیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبے میں سیکیورٹی فورسز، چینی باشندوں اور ترقیاتی منصوبوں پر حملوں کی طرح پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں پر حملے کر کے علیحدگی پسند تنظیمیں پیغام دینا چاہتی ہیں کہ صوبے میں باہر سے آنے والے محفوظ نہیں ہیں۔

Back to top button