بلوچستان: مچھ میں حملہ، ہزارہ کمیونٹی کے 11 کان کن ہلاک

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب نامعلوم مسلح افراد نے ایک حملے میں 11 کان کنوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ مرنے والوں کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے بتایا جا رہا ہے۔
نامعلوم مسلح افراد نے مچھ کے علاقے گیشتری کے کوئلہ فیلڈ میں کام کرنے والے کان کنوں کو آدھی رات کو اغوا کیا۔اہلکار کے مطابق مسلح افراد کان کنوں کو قریبی پہاڑوں میں لے گئے۔ جہاں پہلے انہوں نے ان کی شناخت کی اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہلاک کیا۔لیویز حکام کے مطابق پہاڑوں سے آٹھ افراد کے لاشیں ایک جگہ جب کہ 3 لاشیں دوسری جگہ سے ملی ہے۔
ضلع بولان کی تحصیل مچھ میں یہ واقعہ پیش آیا، جہاں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے کان کنوں کو قتل کردیا۔واقعے کے بعد پولیس، ایف سی اور انتظامیہ کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی جبکہ قریبی کوئلہ کانوں کے مزدور جمع ہوگئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ فائرنگ کے واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے۔
پولیس حکام نے ابتدائی طور پر بتایا کہ مسلح افراد نے مچھ کوئلہ فیلڈ میں کام کرنے والے کان کنوں کو اغوا کیا اور قریبی پہاڑی علاقوں میں لے گئے جہاں ان پر فائرنگ کی۔پولیس نے بتایا تھا کہ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد کان کن زخمی ہوئے تھے، جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جن کی حالت تشویشناک تھی۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر بولان مراد کاسی نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 11 کان کن جاں بحق ہوگئے جبکہ 4 زخمی ہیں۔
وہیں امریکی خبررساں ادارے اے پی نے بتایا کہ لیویز فورس کا ایک عہدیدار معظم علی جتوئی کا کہنا تھا کہ 6 کان کن موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے جبکہ 5 شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گئے۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ حملہ آوروں نے کان کنوں میں سے اہل تشیع ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والوں کو شناخت کرکے الگ کیا اور انہیں دور لے جار کر قتل کردیا جبکہ دیگر کو نقصان نہیں پہنچایا۔تاہم ابھی تک اس واقعے کی ذمہ داری کیس نے قبول نہیں کی۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان کے علاقے مچھ میں 11 کان کنوں کے قتل پر مذمت کا اظہار کیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ مچھ بلوچستان میں 11 بےقصور کان کنوں کا قابل مذمت دہشتگردی کا ایک اور بزدلانہ غیرانسانی عمل ہے۔انہوں نے لکھا کہ میں نے ایف سی سے کہا ہے کہ وہ ان قاتلوں کو پکڑنے اور انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔ساتھ ہی وزیراعظم نے لکھا کہ حکومت متاثرین کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
خیال رہے کہ صوبہ بلوچستان گزشتہ چند سالوں سے بدامنی کا شکار ہے اور یہاں سیکیورٹی فورسز پر حملے، دھماکے اور مختلف واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، جس کے پیچھے بیرون دشمنوں کا ہاتھ ہونے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے۔سال 2020 کے آخری مہینے میں بھی بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ، دھماکے سمیت لوگوں کی لاشیں بھی ملیں تھیں۔27 دسمبر کو بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی پوسٹ پر دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں 7 جوان شہید ہوگئے تھے۔
اس سے ایک روز قبل 26 دسمبر کو بلوچستان کے ضلع پنجگور میں دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے تھے۔پولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ دھماکا مقامی گراؤنڈ میں فٹ بال میچ کے دوران ہوا تھا جس سے قریبی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
23 دسمبر کو صوبہ بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے سلک کور میں کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک اور ایک کو گرفتار کرلیا گیا تھا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کا حوالدار شہید ہوگیا تھا۔22 دسمبر کو آواران میں ہی خفیہ اطلاع پر کیے گئے آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 10 مشتبہ دہشتگرد ہلاک ہوگئے تھے۔
قبل ازیں 21 دسمبر کو ضلع آواران کے قریب سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے پاک فوج کا ایک جوان شہید ہوا تھا۔مزید برآں دسمبر کے اوائل میں لیویز فورسز نے مکران ڈویژن کے ضلع کیچ میں 2 مختلف مقامات سے 5 گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد کی تھی۔
مچھ کا علاقے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پر بولان کے پہاڑی سلسلوں میں واقع ہے۔ یہاں کوئلے کی کانوں کے علاوہ قدیم کوئلہ ڈپو بھی ہے۔ جہاں ملک بھر سے کان کن کام کی غرض سے آتے ہیں۔یہاں پر موجود مچھ جیل کا شمار ملک کی بڑی اور قدیم جیلوں میں ہوتا ہے۔
