بلوچ قوم پرستوں کے بعد سندھی بھی سی پیک پر حملہ آور
سندھی بھی سی پیک پر حملہ آور
بلوچ قوم پرستوں کے بعد اب سندھی قوم پرستوں نے بھی پاک چین سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے حملے شروع کر دئیے ہیں۔ محکمہ داخلہ سندھ کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبے کے شمالی اضلاع میں کالعدم سندھو دیش ریولوشنری آرمی کے حملوں میں شدت آ گئی ہے، جس سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جون 2021 سے اکتوبر تک شمالی اضلاع میں ہونے والے 7 مختلف حملوں میں سے 4 کی ذمہ داری سندھو دیش ریولوشنری آرمی نے قبول کی ہے جو کہ تشویش کی بات ہے کیوں کہ اس سے پہلے بلوچ قوم پعدت ایسے حملوں میں ملوث تھے۔
محکمہ داخلہ سندھ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ: ’ان حملوں میں شدت کے بعد چینی شہریوں کی سکیورٹی اور سی پیک کے تحت سندھ میں چلنے والے منصوبوں کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں امن و امان کی صورت حال بگڑ کر مذید دگر گوں ہو سکتی ہے۔‘
سکھر میں تعینات سندھ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’سی پیک کے آغاز کے بعد شمالی سندھ میں سندھو دیش ریولوشنری آرمی حملے کیا کرتی تھی، مگر بلوچ شدت پسندوں سے ملنے کے بعد ان کے حملوں میں شدت آگئی ہے۔ یاد رہے کہ 2015 میں سی پیک کے آغاز کے ساتھ ہی کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی نے صوبے کے مختلف شہروں میں حملے شروع کر دیے تھے، مگر اب کالعدم اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگر میں شمولیت کے بعد اب سندھو دیش ریولوشنری آرمی کے حملوں میں شدت آگئی ہے۔ حالیہ دنوں میں سندھ میں رینجرز اور چینی شہریوں پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری بھی سندھو دیش ریولوشنری آرمی نے قبول کی تھی۔
شدت پسند گروہوں پر تحقیق کرنے والے سینئر صحافی ضیا الرحمٰن کے مطابق 2010 میں قائم ہونے والے اس گروہ نے 2020 کے وسط تک حملوں میں لوگوں کو نشانہ بنانے کی بجائے اپنی موجودگی دکھانے کے لیے ریاستی املاک کو نقصان پہنچایا۔ ریاستی اداروں کی جانب سے کسی بڑے کریک ڈاؤں سے بچنے کے لیے بھی یہ گروہ اس وقت لوگوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرتا تھا۔‘ بقول ضیا الرحمٰن: ’ماضی میں سندھو دیش ریولوشنری آرمی اور سندھ لبریشن آرمی سرکاری املاک بشمول سرکاری بینک کے اے ٹی ایم، برانچوں، ریل کی پٹریوں اور بجلی کے کھمبوں کو نقصان پہنچانے کی غرض سے معمولی نوعیت کے دھماکے کرتی تھیں اور ان تنظیموں کی کوشش ہوتی تھی کہ حملوں میں انسانی جانوں کا نقصان نہ ہو۔ مگر جولائی 2020 میں کالعدم اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگر میں شمولیت کے بعد سندھو دیش ریولوشنری آرمی کے حملوں کی نوعیت میں تبدیلی آ گئی اور اب یہ تنظیم باقاعدہ تخریبی سرگرمیوں میں سندھ میں مقیم پنجابی اور پشتو بونے والوں کو بھی نشانہ بنارہی ہے۔
براس یا بلوچ نیشنل فریڈم موومنٹ 2018 میں قائم ہوئی تھی۔ اس مسلح اتحاد میں چار بلوچ مزاحمتی کالعدم تنظیمیں بلوچ لبریشن فرنٹ بشیر زیب بلوچ گروپ، بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچ ری پبلکن آرمی گلزار امام گروپ اور بلوچ ری پبلکن گارڈز شامل ہیں جبکہ 2020 میں سندھو دیش ریولوشنری آرمی بھی اس اتحاد میں شامل ہو گئی تھی۔
یاد رہے کہ سندھی قوم پرست شدت پسند گروپ سندھو دیش ریولوشنری آرمی نے نومبر 2010 سے جنوری 2019 تک نو سالوں میں 61 شدت پسند حملے کیے تھے۔ چنانچہ اسی برس حکومت پاکستان نے مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر بنی شدت پسند تنظمیوں سمیت سندھ کی قوم پرست جماعتوں جیے سندھ قومی محاذ اور سندھو دیش لبریشن آرمی کے علاوہ سندھو دیش ریولوشنری آرمی کو بھی پاکستان مخالف سرگرمیوں اور تخریب کاری کے الزام میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت کالعدم قرار دے دیا تھا۔ سال 2021 میں اس شدت پسند تنظیم کے 4 عہدیداروں کو انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا۔ جون 2021 میں سندھ کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے مختلف جرائم میں انتہائی مطلوب افراد کے کوائف پر مشتمل ’ریڈ بک‘ کے نویں ایڈیشن کے حصہ سوئم میں بلوچ لبریشن آرمی اور لیاری گینگ وار سے منسلک عسکریت پسندوں سمیت سندھودیش لبریشن آرمی کے 4 لوگوں کے نام شامل کرتے ہوئے انہیں انتہائی مطلوب دیشت گرد قرار دیا تھا۔
