نظر کی عینک کا متبادل آئی ڈراپس تیار ہو گئے

نظر کی عینک


کمزور نظر کا شکار افراد کے لیے خوشخبری ہے کہ چشمے کا متبادل آئی ڈراپس مارکیٹ ہو گے ہیں جو انہیں عینک سے چھٹکارا حاصل کروا دیں گے۔ بتایا جاتا رہا ہے کہ یہ آئی ڈراپ آنکھ میں ڈالنے کے 15 منٹ بعد چشمے کی ضرورت ختم کر دیتے ہیں مگر ان کی افادیت عروج پر پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ قریب کی کمزور نظر کے مسئلے کا سامنا دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو ہوتا ہے جس کے باعث انہیں مطالعے کے لیے چشمے کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ مگر اب ایسے افراد کو قریب کی نظر کی خرابی کے لیے چشمے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
یہ آئی ڈراپ presbyopia کی علامات کے علاج کے لیے تیار کیا گے ہیں، یہ بینائی کا ایسا مرض ہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ قریب کی اشیا پر آنکھوں کی فوکس کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق بینائی کا یہ مسئلہ 10 سال کی عمر سے شروع ہوسکتا ہے اور 70 سال کی عمر تک آنکھ کے فوکس کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہوسکتی ہے، تاہم بیشتر مریضوں کو اس کا احساس عمر 50 برس کا ہو جانے کے بعد ہوتا ہے۔
امراض چشم کے ماہرین کے مطابق اس عارضے میں آنکھوں کے لینس کی لچک ختم ہونے لگتی ہے جس کے باعث اس کے لیے اپنی ساخت کو بدلنا مشکل ہوتا ہے، لہذا دور پڑی اشیا کو تو صاف دیکھنا ممکن ہوتا ہے مگر قریب کی اشیا یا مطالعے کے دوران توجہ مرکوز کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ کمزور نظر والوں کے لئے خوشخبری ہے کہ امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ان آئی ڈراپس کے استعمال کی منظوری دے دی ہے جو ایسے افراد کے لیے مددگار ثابت ہوگا جن کو مطالعے کے لیے چشمے کی ضرورت ہوتی ہے یا کچھ پڑھتے ہوئے آنکھوں کو سکڑنا پڑتا ہے، ان کے لیے ویوٹی Vuity نامی آئی ڈراپس کا روزانہ استعمال مددگار ثابت ہوگا۔
ان آئی ڈراپس میں ایک جز پائلوکارپائن موجود ہے جو آنکھوں کی پتلیوں کے حجم کم کرتا ہے تاکہ آنکھوں کو کسی چیز پر فوکس کرنے میں مدد مل سکے۔ ماہرین کے مطابق آئی ڈراپ میں موجود پائلوکارپائن پتلیوں کو چھوٹا کرکے بینائی کو بہتر بناتا ہے، اس سے 2 سے 3 گھنٹوں تک قریب کی نظر بہتر رہتی ہے مگر اس سے presbyopia کو مکمل طور پر ریورس نہیں کیا جاسکتا۔ یہ نیا آئی ڈراپ 40 اور 50 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے بہترین ہوگا مگر ہوسکتا ہے کہ 55 سال سے زائد عمر افراد کے لیے زیادہ بہترین نہ ہو۔ آسان الفاظ میں یہ آئی ڈراپ بنیادی طور پر اس بیماری کی وجہ کا علاج کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کی علامات کو ٹھیک کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ یعنی آنکھوں کے لینس کی بجائے یہ ڈراپس آنکھوں کی پتلیوں کو چھوٹا کرکے پن ہول ایفیکٹ پیدا کرے گا جس سے توجہ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
امراض چشم کے ماہرین کے مطابق اگر آپ کے پاس ایک کیمرا ہے اور آپ اس کا آپرچر چھوٹا کرکے کچھ روشنی کو اندر آنے دیں تو اشیا پر فوکس کرنے کی صلاحٰت بڑھ جائے گی، ایسا ہی کچھ آنکھوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور پن ہول ایفیکٹ سے دور کے ساتھ ساتھ قریب موجود اشیا کو بھی صاف دیکھنا ممکن ہوجاتا ہے۔ اس آئی ڈراپ کے 2 ٹرائل 40 سے 55 سال کی عمر کے 750 افراد پر کیے گئے تھے، جن کو 2 گروپس میں تقسیم کرکے ایک کو آئی ڈراپ اور دوسرے کو پلیسبو 30 دن تک روزانہ ایک بار استعمال کرایا گیا۔ نتائج میں دریافت کیا گیا کہ یہ آئی ڈراپس محفوظ اور مؤثر ہیں جبکہ ٹرائل میں شامل افراد کم روشنی میں چارٹ پر موجود الفاظ کی 3 لائنوں کو پڑھنے میں کامیاب رہے، جبکہ پلیسبو گروپ میں شامل افراد ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ یہ آئی ڈراپ آنکھ میں ڈالنے کے بعد 15 منٹ میں چشمے کی ضرورت ختم کردیتے ہیں مگر انکی افادیت عروج پر پہنچنے میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت لگتا ہے۔

Back to top button