کیا مہنگائی نے کار والوں کو موٹر سائیکل لینے پر مجبور کر دیا؟
موٹر سائیکل لینے پر مجبور
ملک میں ہوشربا مہنگائی کے باوجود پاکستان بھر میں غریب کی سواری کہلانے والی موٹرسائیکل کی فروخت بڑھ گئی ہے۔ حکومتی وزراء بھی مہنگائی کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے اپنے موقف کے حق میں یہی ثبوت دیتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان کے شہروں اور گاؤں میں موٹر سائیکل کی فروخت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ دراصل موٹر سائیکل خریدنے والوں کا تعلق مڈل کلاس سے ہے جو پہلے گاڑیوں پر سفر کرتے تھے لیکن اب مہنگائی اور قوت خرید کم ہوجانے اور پٹرول مینگا ہو جانے کے باعث موٹر سائیکل کو اپنی سواری بنانے پر مجبور ہو گے ہیں۔ تاہم موٹرسائیکل مینو فیکچرنگ سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے باوجود اس آئیٹم کی فروخت میں اضافے کی بنیادی وجہ قسطوں پر موٹر سائیکل کا مل جانا ہے۔ لوگ اب یکمشت ساری قیمت ادا کرنے کی بجائے صرف دس فیصد ایڈوانس جمع کروا کر باقی 90 فیصد ادائیگی کئی سال تک قسطوں میں کرتے رہتے ہیں۔
ملک میں مہنگائی بڑھنے کے ساتھ جہاں کئی اشیا کی فروخت میں کمی ہوئی ہے وہاں کئی مہنگی اشیا کی فروخت حیران کن طور پر بڑھ گئی ہے، ان میں سے ایک آئیٹم موٹرسائیکل بھی ہے۔ رواں برس مقامی طور پر تیار ہونے والی چینی اور جاپانی موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں کئی مرتبہ اضافہ ہوا لیکن ان کی فروخت میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہوگیا۔ ایٹلس ہونڈا لیمیٹڈ جہاں فروخت کے نئے ریکارڈ بنا رہی ہے وہیں چینی موٹر سائیکلیں تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی معمول کی فروخت برقرار رکھنے میں بھی مشکلات کا شکار ہیں۔
اعدادوشمار شمار کے مطابق ایٹلس ہونڈا نے نومبر کے مہینے میں ایک لاکھ 28 ہزار 503 یونٹس فروخت کر کے ماہانہ فروخت کا نیا ریکارڈ بنایا اور اکتوبر کے مہینے میں ایک لاکھ 25 ہزار 31 یونٹس کی فروخت کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ ڈالا۔ جولائی سے نومبر کے دوران اٹلس ہونڈا کی فروخت 5 لاکھ 63 ہزار 575 یونٹس رہی جو کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 5 لاکھ 12 ہزار 10 یونٹس تھی۔ اس عرصے میں جاپانی کمپنی سوزوکی کی فروخت 71 فیصد اضافے کے ساتھ 8 ہزار 719 یونٹس سے بڑھ کر 14 ہزار 915 یونٹ ہوگئی جبکہ یاماہا کی فروخت 14 فیصد اضافے سے 8 ہزار 733 یونٹس سے بڑھ کر 9 ہزار 962 یونٹس ہوگئی ہے۔
دوسری جانب چینی موٹر سائیکل بنانے والی کمپنی روڈ پرنس کی فروخت 23 فیصد کمی کے بعد 52 ہزار 289 رہی جبکہ یونائیٹڈ آٹو موٹر سائیکل کی فروخت 20 فیصد کمی کے ساتھ 1 لاکھ 36 ہزار 812 یونٹس رہی، راوی موٹر سائیکل کی فروخت 53 فیصد کمی کے بعد 3 ہزار 879 یونٹس سے ایک ہزار 810 یونٹس پر آ گئی۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے اکتوبر 2021ء میں ملک میں موٹر سائیکلوں کی تیاری میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کی نسبت 5 فیصد کمی آئی اور یہ 8 لاکھ 7 ہزار 230 سے کم ہو کر 7 لاکھ 69 ہزار 802 یونٹس پر آگئی، اسی طرح اکتوبر 2021ء میں بھی موٹرسائیکلوں کی تیاری میں گزشتہ اکتوبر کی نسبت 13 فیصد کمی آئی اور یہ 2 لاکھ 21 ہزار 655 سے ایک لاکھ 92 ہزار 450 یونٹس رہی۔
نسبتا سستے سمجھے جانے والے روڈ پرنس موٹر سائیکلز کی مینوفیکچرنگ کرنے والے سہیل عثمان کے مطابق ذیادہ تر خریدار اب چینی موٹر سائیکلوں سے ہونڈا سی ڈی 70 کی جانب جا رہے ہیں جوکہ ہونڈا کی ریکارڈ فروخت سے بھی ظاہر ہے، ان کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں کے خریدار جن کی آمدن کم ہوئی ہے، وہ اب کم قیمت کی چینی موٹر سائیکلیں بھی نہیں خرید رہے، انکا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل کی مارکیٹ میں مقابلہ بڑھنے سے چینی موٹر سائیکلیں بنانے والوں کے لیے اہنا معیار برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک موٹر سائیکل ڈیلر صابر شیخ نے بتایا کہ ملک میں بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے مڈل کلاس طبقہ چینی موٹر سائیکلوں کو ہی ترجیح دیتا تھا تاہم گزشتہ کچھ مہینوں سے ان کی جانب سے بھی موٹر سائیکل کی خریداری کم ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیہاتوں میں اچھی فصل ہونے کی وجہ سے کسان چینی موٹر سائیکلوں کے بجائے ہونڈا موٹر سائیکلوں کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ یہ دیرپا بھی ہوتی ہے اور پٹرول بھی کم کھاتی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ مالی سال 2022ء میں مجموعی طور پر چینی موٹر سائیکلوں کی تیاری کم ہی رہے گی اور جاپانی موٹرسائیکلوں کے لیے رواں سال کا اختتام پیداوار میں اضافے کے ساتھ ہوگا۔
اُن کا کہنا تھا کہ 70 سی سی کی چینی موٹر سائیکل کی قیمت 2 سال قبل 41 ہزار روپے تھی جوکہ اب 69 ہزار ہو چکی ہے جبکہ ہونڈا کی موٹر سائیکل کی قیمت 65 ہزار سے 94 ہزار 500 روپے ہو چکی ہے۔ ہونڈا کی سی جی 125 کی قیمت ایک لاکھ 8 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ 52 ہزار ہو چکی ہے، سوزوکی 150 سی سی کی موٹر سائیکل ایک لاکھ 68 ہزار سے بڑھ کر 2 لاکھ 32 ہزار کی ہو گئی جبکہ یاماہا 125 سی سی کی قیمت ایک لاکھ 32 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ 90 ہزار ہو چکی ہے۔
جاپانی موٹر سائیکلیں بنانے والوں کے مطابق شہری علاقوں میں جاپانی موٹر سائیکلوں پر ملنے والے فوائد بھی ایک اہم عنصر ہیں، کئی ڈیلر صارف سے 50 سے 70 ہزار روپے ایڈوانس لیتے ہیں اور بقیہ رقم آسان ماہانہ اقساط میں معمولی سود پر وصول کرتے ہیں۔ انکے مطابق طویل سفر کرنے والے افراد بھی 125 اور 150 سی سی کی موٹر سائیکلیں خرید رہے ہیں جبکہ کراچی اور لاہور کے صارفین بھی بہتر سسپینش اور انجن کے باعث انہیں چینی موٹر سائیکلوں پر ترجیح دے رہے ہیں۔
