بلوں میں چھپے بیٹھے یوتھئے رہنما الیکشن کیسے لڑینگے؟

الیکشن کی آمد میں 3 ہفتے سے بھی کم عرصہ باقی ہے۔ پی ٹی آئی کے سوا تمام سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم جوش و خروش سے جاری ہے تاہم تحریک انصاف کے اکثر رہنما سانحہ 9 مئی میں سرپسندانہ کارروائیوں کی وجہ سے یا تو پابند سلاسل ہیں یا گرفتاریوں کے ڈر سے بلوں میں چھپے بیٹھے اچھے وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ملک بھر کی طرح خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کے سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم شروع کر دی ہے لیکن تحریک انصاف کے روپوش امیدواروں کے لیے الیکشن مہم چلانا ایک امتحان بن گیا ہے۔تحریک انصاف کے بیشتر امیدواروں کو مختلف مقدمات میں مطلوب ہونے کی وجہ سے گرفتاری کا خوف ہے جس کی وجہ سے وہ انتخابی مہم میں براہ راست حصہ لینے سے کترا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے بیشتر رہنما 9 مئی واقعات کے بعد مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں جس کے بعد وہ منظر عام سے غائب ہو گئے ہیں۔ ان میں سابق صوبائی وزیر عاطف خان، شہرام ترکئی، شوکت یوسفزئی، تیمور سلیم جھگڑا، فیصل امین گنڈا پور، سابق وفاقی وزیر مراد سعید اور علی امین گنڈا پور سمیت دیگر سابق ارکان اسمبلی شامل ہیں۔
تاہم سوال پیدا ہوتا یے کہ عمرانڈو رہنماو ایک طرف بلوں میں دبکے بیٹھے ہیں اور دوسری جانب الیکشن میں 80 فیصد حلقوں میں اپنی فتح کا دعوی کر رہے ہیں تاہم سوال یہ پیدا ہوتا یے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی روپوشی میں انتخابی مہم کیسے چلائی جا رہی ہے؟
مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنما آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں مگر ان کی گرفتاری کا خدشہ اب بھی موجود ہے جس کے پیش نظر روپوش امیدواروں نے الگ انتخابی مہم کی حکمت عملی اپنا لی ہے۔سابق صوبائی وزراء عاطف خان، کامران بنگش سمیت دیگر رہنما اپنے حلقوں میں موجود نہیں تاہم وہ کارنر میٹنگز، جلسوں میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہو رہے ہیں۔سابق صوبائی وزیر فیصل امین گنڈا پور نے بتایا کہ ’ہم عوام کے پاس نہیں جا سکتے لیکن ہماری انتخابی مہم کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔‘انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ووٹرز تک ہمارا پیغام پہنچ رہا ہے تاہم پی ٹی آئی کے کارکن بھی گھر گھر جا کر مہم چلا رہے ہیں۔فیصل امین گنڈا پور کے مطابق ’روایتی انداز میں انتخابی مہم نہ ہونے کے باوجود ہم کامیاب ہوں گے۔‘
دوسری جانب خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے سربراہ اکرام کٹھانہ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے بیشتر امیدواروں کی انتخابی مہم سوشل میڈیا کے ذریعے ہو رہی ہے جس کا پیغام مؤثر طریقے سے ہر یونین کونسل سطح تک پہنچ رہا ہے۔انہوں نے بتایا ’امیدوار ویڈیو ریکارڈ کرکے واٹس ایپ گروپوں میں شیئر کر رہے ہیں جو تمام کارکنوں اور ووٹرز تک پہنچ جاتی ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ عاطف خان نے مردان میں اپنے حلقے میں ویڈیو لنک کے ذریعے جلسے میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ اسی طرح شاندانہ گلزار کے لیے بھی الیکشن مہم سوشل میڈیا کی مدد سے چلائی جا رہی ہے۔اکرام کٹھانہ نے مزید بتایا کچھ رہنماؤں نے عدالت سے ضمانت لے رکھی ہے۔ وہ اپنے حلقوں میں باقاعدہ مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے روپوش امیدواروں کی جگہ ان کے بھائی اور دیگر رشتہ دار بھی الیکشن مہم میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ کچھ حلقوں میں خواتین اپنے رشتہ دار امیدواروں کے لیے انتخابی میدان میں نظر آ رہی ہیں۔
