کیا واقعی پاکستان علاقائی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے؟

پاکستان گذشتہ کئی برسوں سے مختلف اندرونی مسائل کا شکار ہے اور ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت، سیاسی عدم استحکام اور بڑھتی ہوئی شدت پسندی کے واقعات نے پاکستان کو متعدد محاذوں پر مصروف کررکھا ہے۔ایسے میں ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی جہاں پاکستان کے لیے ایک پریشان کُن پیشرفت ہے وہیں اسے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات میں ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔پاکستان کے اپنے مشرقی اور مغربی پڑوسی ممالک انڈیا اور افغانستان کے ساتھ تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں اور ایسے میں ایران کے ساتھ محاذ آرائی کو خطے میں سفارتی اور جغرافیائی اعتبار سے بہت اہمیت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
اگر پاکستان کے اندورنی حالات پر نظر دوڑائی جائے تو پاکستان میں عام انتخابات ہونے میں صرف 20 دن باقی ہیں جبکہ ملک کو معاشی بدحالی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے دوست ممالک سے لیے گئے قرض واپس کرنے کی معیاد بڑھانے کی درخواست کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ایسے میں پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ پہلے سے اندورنی مسائل سے دوچار پاکستان اب اپنے تین ہمسایہ ممالک انڈیا، افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدی محاذ آرائی میں الجھ گیا ہے۔پاکستانی فوج پہلے ہی ملک کے اندر بہت سے شدت پسند اور باغی گروہوں سے لڑ رہی ہے اور اس صورتحال میں ایران کی جانب سے حملے نے پاکستان کے سکیورٹی سسٹم پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اس صورتحال میں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ پاکستان کی تین ہمسایہ ممالک کے ساتھ محاذ آرائی کی وجوہات کیا ہے؟ کیا ایسا پاکستان کی جغرافیائی، سکیورٹی صورتحال یا بین الاقوامی طاقتوں کے کردار کے باعث ہو رہا ہے؟ کیا پاکستان علاقائی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے؟
پاکستان کی اپنے تین ہمسایہ ممالک کے ساتھ محاذ آرائی کی وجوہات کے بارے میں بات کرتے ہوئے سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کی چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کو جغرافیائی سیاست کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک پاکستان کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں تو اس میں چین، ایران اور افغانستان سے ہمیشہ تاریخی اور دیرینہ تعلقات رہے ہیں مگر انڈیا کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا سبب یہ ہے کہ وہ خطے اور خصوصاً کشمیر میں بالادستی چاہتا ہے جبکہ پاکستان کشمیر کے تنازع کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت سیاسی حل چاہتا ہے۔
ایران کے ساتھ تعلقات اور حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ پاکستان کا کوئی بنیادی تنازع نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’ایران انڈیا نہیں ہے اور اس کے ساتھ خاموش سفارتکاری‘ کے ذریعے ہمارے رابطے شروع ہو گئے ہیں اور امید ہے کہ ہم بہتری کی طرف قدم اٹھائے گے۔‘وہ کہتےہیں گذشتہ روز پاکستان کے ایران میں جوابی حملے کے بعد ایرانی حکومت نے خود اس بات کو تسلیم کیا کہ اس میں غیر ایرانی باشندے مارے گئے ہیں، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کے دونوں اسلامی ہمسایہ ممالک میں چند ایسے عناصر موجود ہیں جہاں سے پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے کارروائی ہوتی ہے۔
بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار ڈاکٹر ہما بقائی کے مطابق یہ صورتحال کوئی نئی نہیں ہے۔ اس بارے میں پاکستان متعدد بار کہتا رہا ہے کہ اس کے ہمسایہ ممالک کی سرزمین اس کے خلاف استعمال ہو رہی ہے چاہے وہ انڈیا ہو، افغانستان ہو یا ایران ہو۔ہما بقائی کہتی ہیں کہ ’یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ پڑوسی ملک انڈیا میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں اور یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ جب انڈیا میں الیکشن ہو تو وہ پاکستان کی سرحد پر کوئی جارحیت کرنے کی کوشش کرتا ہے لہذا پاکستان کی جانب سے ایران پر جوابی حملہ صرف ایران کو ہی نہیں بلکہ انڈیا کو بھی ایک پیغام تھا کہ وہ کیس مس انڈوینچر کے بارے میں نہ سوچے۔‘ڈاکٹر ہما بقائی بھی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے رابطوں کا آغاز ہو گیا ہے اور جلد ہی اس تناؤ میں کمی آ جائے گی۔
ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی پر گہری نگاہ رکھنے والے پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کے مطابق پاکستان کا تینوں ہمسایہ ممالک کے ساتھ محاذ آرائی کا تاثر غلط ہے اور تہران کے ساتھ جاری تناؤ میں بھی کمی آ رہی ہے۔’ایران کے ساتھ پاکستان کے ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں۔ کچھ بارڈر منیجمنٹ کے مسائل تھے جو ابھی بڑھے ہیں، جو ایران نے کیا غلط تھا، ایران کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘
پاکستان کے علاقائی تنہائی کا شکار ہونے بارے سوال کے جواب میں سینیٹر مشاہد حسین سیدکہتے ہیں کہ یہ بات غلط ہے کہ پاکستان علاقائی تنہائی کا شکار ہے۔انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے اس وقت بھی چین، ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات ہیں۔‘’پاکستان خطے کا ایک جوہری ملک ہونے کے باعث بھی اہمیت کا حامل ہے۔‘
اعزاز احمد چوہدری بھی خطے میں پاکستان کے تنہا ہونے کے تاثر کو زائل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ان کے مطابق ایسا تاثر غلط ہے کہ پاکستان علاقائی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ مستقبل کی حکمت عملی کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایران اور افغانستان کے ساتھ اپنے بارڈر منیجمنٹ کے نظام کو مربوط کرتے ہوئے اپنے مسائل حل کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں بہتری لائیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ایران کے ساتھ سرحد پرامن رکھیں اور افغانستان کے ساتھ بھی بارڈر پر امن رکھنے کی کوشش کریں۔’وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ انڈیا کے ساتھ بارڈر پُرامن ہے لیکن اس کے ساتھ تعلقات میں بہت سرد مہری ہے اور اس کی وجہ خود انڈیا ہی ہے۔
