عمران خان کی حکمت عملی سے PTIکا جنازہ کیسے نکالا؟

سینئر صحافی عادل شاہ زیب کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سکڑتے سکڑتے اب آزاد ہو چکی ہے۔ بلا اور بلے باز دونوں منظرعام سے ہٹ چکے ہیں لیکن تحریک انصاف کے نووارد رہنماؤں کو ابھی تک اس بات کا ادراک نہیں ہو پا رہا کہ وہ غلطی پر غلطی کر رہے ہیں اور بلے کا نشان کھونے کے بعد تحریک انصاف نے کھل کر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک باقاعدہ مہم چلانی شروع کر دی ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عادل شاہ زیب کا مزید کہنا ہے کہ اب جبکہ انتخابات میں چند ہفتے رہ گئے ہیں، تحریک انصاف کو انٹرا پارٹی انتخابات میں اصلاح کا ایک موقع دیا جا سکتا تھا لیکن ایسا کرنا صرف سپریم کورٹ کا اختیار تھا اور ایسے فیصلے زبردستی نہیں لیے جا سکتے بلکہ سادگی سے اپنی غلطی تسلیم کر کے ایسا کچھ ممکن ہوا کرتا ہے۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس کیس میں تحریک انصاف کے کسی وکیل کی بنیادی سوالات کا جواب دینے کے لیے تیاری تک نہیں تھی۔ 2021 سے مسلسل آپ انٹرا پارٹی انتخابات کو ٹالتے رہے۔ آپ کو آخری موقع بھی ملا اور ایسے وقت میں جب آپ کو اندازہ تھا کہ اس بار موقع ملتے ہی تاک میں بیٹھے آپ سے تگڑے کھلاڑی یہ بلا اڑا لے جائیں گے، آپ نے پھر بھی آ بیل مجھے مار کے مصداق آنکھیں بند کر کے متنازع انتخابات کروائے۔
عادل شاہ زیب کے مطابق پی ٹی آئی کے وکلاء عدالتی فیصلے سے پہلے بلند و بالا دعویٰ کرتے رہے کہ اکبر ایس بابر تحریک انصاف کے رکن ہی نہیں تو انٹرا پارٹی انتخابات پر سوال کیسے اٹھا سکتے ہیں؟ لیکن سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے وکلا کی براہ راست نشر ہونے والی کارکردگی نے بہت سارے سوال اٹھا دیے ہیں۔سونے پہ سہاگہ، اس کے بعد لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا مقدمہ عدالت پر تقریباً عدم اعتماد کر کے واپس لے لیا گیا۔
عادل شاہ زیب کا مزید کہنا ہے کہ اب جبکہ پانی تقریباً سر سے گزر چکا ہے، تحریک انصاف کو مزید نقصان سے بچنے کے لیے تین باتیں ذہن نشین کرنی ہوں گی۔ایک تو یہ کہ مقدمات عدلیہ میں لڑے جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر نہیں اور عدالت میں دستاویز/ ثبوت چلتے ہیں، کوئی مقبول یا پاپولسٹ بیانیہ نہیں۔دوسری بات یہ کہ اب جب انتخابات میں چند ہفتے رہ گئے ہیں تو مزاحمتی سیاست پس پشت ڈال کر انتخابی سیاست کے تقاضوں پر توجہ مرکوز کریں۔ مریم نواز کا پہلا پرجوش جلسہ اور بلاول بھٹو کے جلسوں پر نظر رکھیں، کیونکہ انتخابات سوشل میڈیا پر نہیں میدان میں ہونے ہیں۔تیسری بات یہ کہ پارٹی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں سے ابھی سے عہد و پیمان کر لیں، ورنہ تو یہ لکھ کر لے لیں کہ صرف قومی اسمبلی میں دو درجن سے زیادہ لوگ جیتنے کی صورت دوسری طرف پرواز کا وعدہ ابھی سے کر چکے ہیں۔
سینئر صحافی کا مزید کہنا ہے کہ ’آٹھ فروری کو عام انتخابات ہونے ہیں، جن میں ایک جماعت کے گلے نو مئی ایسا پڑ چکا ہے کہ شاید ہی ان کے لیے 10 مئی کا سورج کبھی چڑھ پائے۔ کیونکہ امپائر کے غیرجانبدار ہونے کے بعد تماشائی تک بدل چکے ہیں اور اب آپ کی بہترین کور ڈرائیو کو بھی داد نہیں ملنی، لہٰذا نوشتہ دیوار یہی ہے کہ بچی کھچی عزت بچائیں اور اگلے ورلڈ کپ کی تیاری پکڑیں، کیونکہ جن تگڑی ٹیموں کو آپ کے لیے میدان سے باہر نکالا گیا، وہ ٹیمیں اب بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتاری جا چکی ہیں۔امپائر اور تماشائی تک اپنے نہیں رہے تو بہتری اسی میں ہے کہ اپنا سازوسامان لے کر اگلی باری کا انتظار کریں۔
عادل شاہ زیب کے مطابق تحریک انصاف کو بھی اب یہ بات ذہن نشین کرنی ہو گی کہ وہ دیوار سے ٹکریں مار مار کر اپنا اتنا نقصان کر چکی ہے کہ اس وقت اٹھنے کے قابل نہیں رہی، اب جو غلطیاں ہو چکی ہیں ان کا مداوا ہونا چاہیے نہ کہ مزید غلطیاں۔ویسے بھی وہ سیاسی جماعت ریاست سے نہیں لڑ سکتی، جس کو بنایا اور چلایا ہی خود مقتدرہ نے ہو۔اس وقت پی ٹی آئی مکمل طور پر ہائی جیک ہو چکی ہے۔ علی محمد خان جیسے پارٹی کے وفادار سیاسی چہروں کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہا، کچھ وکلا حضرات کی لاٹری نکل آئی اور ساتھ میں بیرون ملک بیٹھے وی لاگرز اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کی بھی، جو پارٹی کی حمایت میں صرف اپنی پروفائل تو بنا رہے ہیں لیکن پارٹی کا ستیاناس کر رہے ہیں۔‘
عادل شاہ زیب کے مطابق اب بھی وقت ہے کہ نووارد وکلا کی جگہ اگر عمران خان پارٹی کے کسی سیاسی چہرے کو سامنے لائیں تو معاملات مزید بگڑنے سے بچ سکتے ہیں۔ اگر کسی وکیل کو ہی آگے لانا ہے تو حامد خان اور بیرسٹر علی ظفر جیسی شخصیات موجود ہیں، جن کی پارٹی سے وفاداری میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ورنہ تحریک انصاف کے سکڑنے کا عمل رکنا تو دور کی بات اس میں مزید تیزی آئے گی اور سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا کہ بیرسٹر گوہر ایک مقدمہ لڑنے کا اعلان کریں گے، شیر افضل مروت کہیں گے کہ خان نے تو ایسا کرنے کو نہیں کہا، یہ دونوں آپس میں دست و گریباں ہوں گے اور لطیف کھوسہ مقدمہ واپس لینے کا اعلان کر دیں گے۔
