بلڈ پریشر کی نئی دواء”پولی پلز” لاکھوں اموات کو روک سکتی ہے

طبی ماہرین نے کہا ہے کہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی بلند سطح کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات کا مرکب یعنی دواء ’پولی پلز‘ کے ذریعے سالانہ لاکھوں کی تعداد میں قبل از وقت اموات، دل کے دورے اور فالج کے کیسز سے بچا سکتا ہے۔
محقیقن کے مطابق پولی پلز استعمال نہ کر کے عالمی صحت نے مہلک قیمت ادا کی ہے۔ پولی پل میں بلڈ پریشر کم کرنے والی سستی ادویات، اسٹیٹنس اور ایسپرن کے تمام مرکبات کو ملا کر ایک گولی کی صورت میں دی جاتی ہے، ادویات کی وسیع پیمانے پر دستیابی بڑی حد تک قلبی امراض کے خطرات کو کم کردے گی اور یہ دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگوں کی دسترس میں ہوگی۔
اس حوالے سے ورلڈ ہارٹ فیڈریشن کے صدر پروفیسر فوسٹو پِنٹو کا کہنا تھا کہ پولی پلز کے مؤثر، محفوظ اور قوتِ خرید میں ہونے کے ٹھوس سائنسی شواہد کے باوجود ایسے کچھ ہی ممالک ہیں جہاں ایسے چند ہی مرکبات ملتے ہیں اور ان کا استعمال بھی کم ہے، پایولیشن ہیلتھ ریسرچ کے ایگزیکٹِو ڈائریکٹر اور مک ماسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر ایمریٹس سلیم یوسف کا کہنا تھا کہ نظام کی یہ ناکامی ایک عالمی المیہ ہے کیوں کہ متعدد افراد کی امراضِ قلب سے ہونے والی قبل از وقت اموات کو روکا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ افراد کی امراضِ قلب سے موت ہوتی ہے جن میں 80 فی صد کا تعلق کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں سے ہے اور اس تعداد سے تین گُنا زیادہ تعداد ایسے افراد کی ہے جو غیر مہلک امراض قلب میں مبتلا ہیں۔
