بندیال، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے اعزاز میں سپریم کورٹ کے فل کورٹ ریفرنس کے منعقد ہونے سے متعلق چہ میگوئیاں شروع ہو چکی ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے اپنے ماضی کی جانبداریت کی وجہ سے فل کورٹ ریفرنس لینے کا امکانات معدوم ہیں۔
سوموار کے روزنئے عدالتی سال کے آغاز پر منعقدہ فل کورٹ ریفرنس کے بعد سپریم کورٹ کے تقریباتی ہال میں صحافی نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے سوال کیا کہ کیا آپ فل کورٹ ریفرنس لے رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے ابھی تک اس بارے میں نہیں سوچا اورفیصلہ نہیں کیا ،فاضل جج نے مسکراتے ہوئے صحافی سے سوال کردیا کہ کیا آج والا ریفرنس کافی نہیں ؟ایک ہی شخص کو سن سن کرآپ لوگ بور ہوجائیں گے،بعد ازاںصحافی نے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے بھی یہی سوال کیا کہ کیا چیف جسٹس کو فل کورٹ ریفرنس دیا جارہا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم بھی انتظار کررہے ہیں، جیسے پتا چلے گا بتادیں گے، ویسے انہوں نے آج تقریرمیں توکہا ہے کہ شاید یہ ان کا آخری خطاب ہے۔
خیال رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال اپنے آخری دنوں میں جہاں ایک طرف دھڑا دھڑ سیاسی مقدمات کے فیصلے سنا رہے ہیں وہیں دوسری طرف ان الوداع کرنے کہ تیاریاں بھی شروع ہو چکی ہیں تاہم الوداعی تقریبات میں سب سے اہم تقریب فل کورٹ ریفرنس قرار دی جا رہی ہے تاہم لگتا ہے کہ جسٹس بندیال ماضی کی روایات کے برعکس فل کورٹ ریفرنس نہیں لینگے کیونکہ عمومی طور پر فل کورٹ ریفرنس میں جہاں نہ صرف جسٹس بندیال خطاب کرینگے بلکہ جسٹس قاضی فائز عیسی بھی کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر فل کورٹ ریفرنس دیا جاتا ہے تو جسٹس قاضی فائز عیسی اپنے خطاب میں نہ صرف اپنا روڈ میپ واضح کرینگے بلکہ ماضی میں جس طرح سپریم کورٹ میں مقدمات کو چلایا گیا اس پر بھی بات کر سکتے ہیں۔ شاید اسی لئے سینئر صحافی حسنات ملک کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس منعقد کرنے کی ابھی منظوری نہیں دی ہے کیونکہ اس فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس عمر عطا بندیال کے ساتھ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی تقریر کرنا ہے، تاہم فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تقریر کا بہت انتظار کیا جارہا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ممکنہ طور پر اپنی تقریر میں چیف جسٹس بننے کے بعد اپنا لائحہ عمل بتاسکتے ہیں۔
دوسری جانب سینئر صحافی افتخار احمد کو دعوی ہے کہ چیف جسٹس بندیال کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ایسے ایسے فیصلے آنے والے ہیں کہ لوگ حیران پریشان ہو جائیں گے اور تینوں ریاستی اداروں کے الگ الگ اختیاراتی دائروں کا تصور دفن ہو کر رہ جائے گا۔
دوسری جانب نمائندہ خصوصی جیو نیوز عبدالقیوم صدیقی کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال پر ریٹائرمنٹ سے قبل کام کا خاصا بوجھ ہے، سینکڑوں ایسے مقدمات ہیں جن کے فیصلے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے لکھنے ہیں جو انہوں نے نہیں لکھے ہیں، نیب ترامیم سے متعلق ایسے فیصلے آسکتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ مقدمات جو ختم ہوچکے یا مختلف عدالتوں کو بھیجے گئے ہیں ان کے اندر روح پھینک دی جائے۔اس کے علاوہ کوئی ایسا اہم مقدمہ نہیں رہ گیا جس پر چیف جسٹس پاکستان ایسا فیصلہ لکھیں جو کسی حکومت یا کسی شخص کیلئے نقصان کا باعث بن سکتا ہو۔ عبدالقیوم صدیقی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ساس کی آڈیو کا جو پس منظر تھا اس حوالے سے لگتا ہے دل پر خاصے زخم لگے ہیں، ممکن ہے آڈیو لیکس پر بننے والا اگلا بنچ ان سوالات کی طرف چل پڑے جو ایک کمیشن کے سامنے آئے تھے، اس کے بعد آڈیو لیکس کی تحقیقات جوڈیشل سائڈ پر شروع ہوسکتی ہیں۔
دوسری طرف سینئر صحافی حسنات ملک نے کہا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی اگلے ہفتے زیادہ تر مصروفیات اپنے اعزاز میں ہونے والی تقاریب میں شرکت ہوگی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس منعقد کرنے کی ابھی منظوری نہیں دی ہے، اس فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس عمر عطا بندیال کے ساتھ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی تقریر کرنا ہے۔فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تقریر کا بہت انتظار کیا جارہا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ممکنہ طور پر اپنی تقریر میں چیف جسٹس بننے کے بعد اپنا لائحہ عمل بتاسکتے ہیں۔
