بنوں میں خواتین کا واحد پارک ملاؤں نے کیوں بند کرا دیا؟


خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کی خواتین کا واحد تفریحی پارک مستقل بندش کے خطرے سے دوچار ہوگیا، جس کی بڑی وجہ علمائے اکرام اور مدارس کے طلبا ہیں جو نہیں چاہتے کہ خواتین پردہ میں بھی تفریح سے لطف اندوز ہوں، علما کا کہنا تھا کہ خواتین کی تفریحی مقامات اور مزارات پر جانے پر بھی پابندی ہونی چاہئے۔اس پارک کے حوالے سے گذشتہ ایک ہفتے سے احتجاج ہو رہا تھا اور یہ کہا جا رہا تھا کہ اس پارک سے علاقے میں فحاشی پھیل رہی ہے، اس بارے میں بنوں کے ضلع پولیس افسر ڈاکٹر اقبال سے رابطہ قائم کیا گیاتو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، ان کے مذاکرات ہو رہے ہیں اور یہ پارک بند نہیں کیا جائے گا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ یوم آزادی یعنی 14 اگست کے دن جب سب لوگ جشن منا رہے تھے تو اس وقت بڑی تعداد میں خواتین سفید برقعے پہن کر علاقے کے واحد لیڈیز پارک پہنچ گئی تھیں، لوگوں نے بتایا کہ اس قدر رش تھا کہ پارک اندر سے بھر گیا اور باقی اندر جانے کی جگہ نہیں رہی اور بڑی تعداد میں خواتین پارک کے باہر جمع ہو گئی تھیں، اس پارک کے اندر صرف خواتین کو جانے کی اجازت ہے یہاں تک کہ 10 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

خواتین جب پارک کے باہر کھڑی تھیں تو تب باقی لوگ وہاں جمع ہوگئے جس سے بعض لوگوں نے اعتراض شروع کر دیا کہ خواتین کے باہر نکلنے سے فحاشی پھیل رہی ہے، لوگوں نے بتایا کہ گھریلو خواتین اپنے بچوں اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ہمراہ پارک آئی تھیں، اس سے فحاشی کا تاثر لینا انتہائی غلط ہے، یہ پارک بنوں کے چھائونی کے علاقے میں واقع ہے اور اس کا دروازہ بھی چھائونی میں ہی تھا، کچھ عرصہ پہلے مقامی انتظامیہ کی درخواست پر شہری علاقے کی جانب بھی پارک کا ایک دروازہ کھول دیا گیا تاکہ چھائونی کے باہر کی خواتین بھی اس پارک میں جا سکیں، اس بارے میں احتجاج میں شامل مولانا نسیم شاہ کا کہنا تھا کہ خواتین کو تفریحی مقامات اور مزارات پر جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے، پشاور اور مردان میں خواتین کو یہ اجازت ضرور ہوگی لیکن وہ بنوں میں اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔

یاد رہے کہ جشن آزادی کی خوشی میں کچھ خواتین جو سفید برقعے پہنے اپنے بچوں چھوٹی بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ پارک آئی تھیں، وہ جھولوں میں بیٹھ گئیں، پارک میں موجود کچھ مولویوں کو یہ ناگوار گزرا اور انہوں نے اسے اپنی انا، غیرت کے خلاف سمجھا۔ ان کے نزدیک خواتین کا برقعے پہن کر بھی جھولوں میں بیٹھنا بے حیائی ہے اور انھیں ایسا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ جھولوں میں اپنے بچوں یا چھوٹی بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ بیٹھ سکیں۔

اس حوالے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں نظر آتا ہے کہ ایک نوجوان ویڈیو بھی بناتا رہا اور خواتین کو بُرا بھلا بھی کہتا رہا یہاں تک کہ وہ گالم گلوچ بھی کرتا رہا۔خواتین اور ان کے ساتھ آنے والے بچے گھبرا کر جھولوں سے نیچے اترتے ہیں لیکن وہ نوجوان انھیں پھر بھی بُرا بھلا کہتا رہتا ہے۔ اس موقع پر موجود لوگ اس نوجوان کے عمل کو سراہتے رہے اور کہتے رہے کہ ’یہ کیا بے شرمی ہے کہ اب خواتین جھولوں پر آئیں گی، یہ تو بے حیائی ہے اور اسے وہ کسی طور پر برداشت نہیں کریں گے، یاد رہے کہ وہاں ایک پولیس اہلکار بھی موجود تھا لیکن کسی نے اس نوجوان کو روکا نہیں کہ وہ کیوں خواتین کو برا بھلا کہہ رہا ہے اور انھیں گالیاں دے رہا ہے۔

اس واقعے پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس نے باغ میں جھولے پر بیٹھنے والی خواتین کا مذاق اڑایا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ شخص اب اپنے کیے پر پشیمان ہے اور اس کا کہنا تھا کہ اس سے غلطی ہو گئی، لیکن اس گرفتاری پر مقامی علما نے احتجاج کیا اور کہا کہ وہ خواتین کو کسی بھی صورت پارکوں میں آنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔اس بارے میں صوبائی حکومت نے اب تک کوئی اقدامات نہیں کیے اور نہ ہی وزیر اعلیٰ یا متعلقہ وزرا نے اس پر کوئی کارروائی کی ہے، اس لیے صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ضلعی حکومت کا مسئلہ ہے اور وہاں ضلعی انتظامیہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی رٹ قائم ہے اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی۔

Back to top button