جنرل باجوہ نے رانا ثنا پر منشیات کیس جھوٹا قرار دے دیا


عمران خان کے دور حکومت میں منشیات اسمگلنگ کیس میں اینٹی نارکوٹکس فورس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے رانا ثنا اللہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ جنرل قمر باجوہ نے انہیں اپوزیشن کے زمانے میں ہی بتا دیا تھا کہ آپ کیخلاف بنایا گیا کیس جھوٹا ہے لیکن اس سے فوج کاکوئی تعلق نہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف منشیات کیس بنانے والی اینٹی نارکوٹکس فورس کے سربراہ ایک حاضر سروس میجر جنرل تھے جنہوں نے شہریار آفریدی کے ساتھ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ کہ مسلم لیگی رہنما رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ یہ اب کی بات نہیں ہے بلکہ جب ہم اپوزیشن میں تھے، تب ایک بریفنگ میں آرمی چیف سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے گلہ کیا کہ میرے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے جبکہ اے این ایف کا سربراہ ایک حاضر سروس فوجی افسر ہے۔ جنرل باجوہ نے مجھے جواب دیتے ہوئے بہت واضح طور پر اس تاثر کو مسترد کیا کہ اس کیس میں فوج کا کسی قسم کا کوئی کردار تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب میں ضمانت پر رہا ہوا تھا تو آرمی چیف کی طرف سے مجھے ایک صاحب ملے اور مجھے کہا کہ آپ اگر کوئی درخواست دیں تو ہم اس معاملے کی انکوائری بھی کریں گے۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ میں نے آرمی چیف کو بھی درخواست دی اور چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی درخواست دی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے انکوائری کی تھی جس کی بنیاد پر انہوں نے کہا کہ میرے خلاف منشیات کا کیس جھوٹا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عمران خان ہمارے خلاف جھوٹے اور جعلی مقدمات بنانے کیلئے اے این ایف، ایف آئی اے اور نیب کے سربراہان کو مجبور کرتا رہا۔ انہوں نے کہا عمران نے نیب چیئرمین کی ویڈیو لیک کروائی تاکہ وہ نیب کو مجبور کر سکے کہ وہ ہمارے خلاف جھوٹے کیسز بنائے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس جاوید اقبال کے ہاتھوں جنسی ہراسانی کا شکار ہونے والی خاتون طیبہ گل اب اس بات کی تصدیق کرچکی ہے۔

قبل ازیں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے پاس ثبوت ہیں کہ میرے خلاف کیس کے لیے ہیروئن عمران خان اور شہزاد اکبر نے فراہم کی، جب اسلام آباد پولیس نے میرے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کیا تو اے این ایف کو استعمال کیا گیا۔ خیال رہے کہ پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ رانا ثنا اللہ پر مقدمہ میں نے نہیں اے این ایف نے بنایا تھا۔ آفریدی نے کہا کہ اے این ایف کے افسران نے قسمیں کھا کر انہیں بتایا تھا کہ رانا ثناءاللہ سے منشیات برآمد ہوئی ہیں اس لئے میں نے ان کی باتوں پر یقین کر لیا۔ لیکن یہ وہی شہریار آفریدی ہیں جو پریس کانفرنس میں بیٹھ کر اللہ اور اس کے رسول کی جھوٹی قسمیں کھاتے تھے اور کہتے تھے کہ رانا ثناء اللہ خان پر بنایا گیا کیس سو فیصد سچا ہے۔

خیال رہے رانا ثنا اللہ کو انسداد منشیات فورس نے یکم جولائی 2019 کو گرفتار کیا تھا۔ اے این ایف نے رانا ثنا اللہ کو پنجاب کے علاقے سیکھکی کے نزدیک اسلام آباد-لاہور موٹروے سے گرفتار کیا تھا۔ ترجمان اے این ایف نے بتایا تھا کہ رانا ثنااللہ کی گاڑی سے 15 کلو منشیات برآمد ہوئی ہیں جس پر انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ رانا ثنا کی گرفتاری پر پریس کانفرنسز کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے جذباتی انداز اپنایا اور کہا کہ میں نے جان اللہ کو دینی ہے’ اسی لئے کوئی جھوٹا مقدمہ نہیں بنایا۔ تاہم اب انہوں نے اس کیس پر مکمل خاموشی اختیار کر لی اور یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ انہیں اے این ایف کے لوگوں نے بتایا تھا رانا ثناء اللہ منشیات سمگلنگ کرتے ہوئے گرفتار ہوئے تھے۔ رانا ثناء اللہ کو "منشیات سمگلنگ” کے الزام میں یکم جولائی 2019 سے 26 دسمبر 2019 تک چھ ماہ کے عرصے کے لیے ڈیتھ سیل اور قید تنہائی میں رکھا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق ان پر الزام تھا کہ وہ 21 کلو گرام ہیروئن اسمگل کر رہا تھے تاہم عدالتی چالان میں ہیروئن کی مقدار 15 کلو گرام لکھی گئی۔ جبکہ انہیں 90 دن سے زائد ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔ انتہائی کمزور اور ثبوتوں کی عدم فراہمی کے باعث نے بالآخر لاہور ہائی کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

Back to top button