حلال بگھی، حرام بگھی!

 

 

 

 

تحریر: انصار عباسی

بشکریہ: روزنامہ جنگ

 

 

اسلام آباد میں 14 اگست کی تقریب کے دوران چیف کمشنر اور آئی جی کے ایک رسمی بگھی میں سوار ہونے کا معاملہ سخت عوامی ردعمل کے نتیجے میں ایک تنازعہ بن گیا۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بگھی میں کون بیٹھا، کس کے کہنے پر بیٹھا اور کس مقصد کیلئے استعمال ہوئی۔ اصل سوال یہ ہے کہ پومپ اینڈ شو، پروٹوکول اور عوامی نمائندگی کے نام پر ہونے والی نمائش کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟ وزیر داخلہ محسن نقوی نے وضاحت کی کہ چیف کمشنر اور آئی جی کی کوئی غلطی نہیں تھی۔ ان کے مطابق چیف گیسٹ اور دیگر شخصیات صدر اور وزیراعظم کی ملاقات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئیں، جبکہ عوام کافی دیر سے تقریب میں موجود تھے۔ چنانچہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ پروگرام شروع کیا جائے تاکہ لوگوں کو مزید انتظار نہ کرنا پڑے۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ بگھی اصل میں چیف گیسٹ کے لیے رکھی گئی تھی اور افسران نے ابتدا میں اس میں سوار ہونے سے بھی گریز کیا، مگر انہیں پروگرام آگے بڑھانے کی ہم نے ہی ہدایت کی۔ یہ وضاحت اپنی جگہ اہم ہے۔ اگر افسران واقعی کسی انتظامی ضرورت کے تحت، اعلیٰ حکام کی ہدایت پر وہاں پہنچے اور پروگرام کو آگے بڑھایا تو یہ مسئلہ صرف دو افسران کے کنڈکٹ کے متعلق نہیں بلکہ اُس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے دونوں افسران کو جاری کئے گئے خطوط نے معاملے کا ایک دوسرا اور زیادہ بنیادی پہلو سامنے رکھ دیا۔ وزیراعظم نے بجا طور پر اس منظر کو نمود و نمائش، مراعات اور شان و شوکت کے اظہار کے طور پر دیکھا۔ ان کے مطابق سرکاری عہدے عوام کی امانت ہیں اور سرکاری افسران کو ہر وقت عاجزی، ضبط، وقار اور بہتر فیصلہ سازی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ یہاں وزیراعظم کی بات سے اصولی طور پر اختلاف کی گنجائش کم ہے۔ مگر اسی اصول کو اگر واقعی اصول مانا جائے تو پھر اسے صرف چیف کمشنر اور آئی جی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایک سرکاری افسر کا بگھی میں بیٹھنا اسلئے نامناسب ہے کہ اس سے ’’پومپ اینڈ شو‘‘، مراعات اور شخصی نمود و نمائش کا تاثر پیدا ہوتا ہے، تو یہی منظر کسی سیاسی شخصیت کیلئے بھی اتنا ہی نامناسب ہونا چاہیے۔ اگر بگھی ایک سرکاری افسر کے وقار اور منصب کے تقاضوں سے متصادم ہے تو محض اسلئے اسکی حیثیت تبدیل نہیں ہو جاتی کہ اس میں کوئی وزیر، سیاسی رہنما، صدر، وزیراعظم یا کوئی دوسرا بااثر شخص بیٹھا ہو۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:کیا مسئلہ بگھی میں بیٹھنے والے شخص کا ہے یا خود اس کلچر کا ہے جس میں سرکاری تقریبات کو شان و شوکت، غیر ضروری پروٹوکول اور عوام سے فاصلے کی علامت بنا دیا جاتا ہے؟اگر بگھی چیف گیسٹ کیلئے رکھی گئی تھی، جیسا کہ وزیر داخلہ نے وضاحت کی، تو پھر اس اصول پر بھی غور ہونا چاہئے کہ چیف گیسٹ کیلئے ایسی شاہانہ سواری کا اہتمام ہی کیوں ضروری تھا؟ اگر عوامی تقریب کا مقصد قومی دن منانا، لوگوں کو شریک کرنا اور ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنا ہے تو کیا گھوڑوں کی بگھی، پروٹوکول کے طویل سلسلے اور شخصیات کیلئے غیر معمولی انتظامات واقعی اس مقصد کو تقویت دیتے ہیں؟ ہماری سیاسی اور سرکاری زندگی میں المیہ یہ ہے کہ ہم اکثر دکھاوے کو صرف اس وقت مسئلہ سمجھتے ہیں جب کوئی دوسرا شخص اسکا مظاہرہ کر رہا ہو۔ اپنے لئے وہی چیز پروٹوکول، روایت، سکیورٹی یا سرکاری ضرورت بن جاتی ہے اور دوسرے کیلئے پومپ اینڈ شو۔ وزیراعظم کا مؤقف اگر اصولی ہے تو اسے سب کیلئے یکساں ہونا چاہئے۔ سرکاری افسر ہو یا سیاسی شخصیت، حکمران ہو یا اپوزیشن رہنما، چیف گیسٹ ہو یا کوئی دوسرا بااثر فرد، عوامی عہدے کا بنیادی تقاضا یہی ہونا چاہئے کہ منصب کو ذاتی نمود و نمائش کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ اس واقعے میں شاید اصل سبق یہی ہے کہ ہمیں افراد کے بجائے رویہ اور کلچر دیکھنا چاہئے۔ اگر چیف کمشنر اور آئی جی نے واقعی ہدایت پر بگھی استعمال کی تو ان کیخلاف کارروائی سے زیادہ اہم یہ سوال ہے کہ ایسی صورتحال پیدا ہی کیوں ہوئی۔ کیا آج کی سیاست زدہ بیوروکریسی میں کوئی سرکاری افسر اپنے سیاسی باس کی ہدایت کا انکار کر کے اپنے عہدے پر قائم رہ سکتا ہے؟ ویسے اگر میں سرکاری افسر ہوتا تو میں خود بگھی میں بیٹھنے کی بجائے عوام میں موجود کسی بزرگ اور بچے کو بٹھا دیتا چاہےنقوی صاحب ناراض ہو جاتے۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر بگھی واقعی چیف گیسٹ کیلئے تھی تو پھر یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ کیا عوامی تقریب میں ایسی نمائش کو ہمارے قومی مزاج اور ریاستی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہئے۔

عوام آج پہلے ہی حکمران اشرافیہ اور عام شہری کے درمیان فاصلے کو محسوس کرتے ہیں۔ ایسے میں بگھی، لمبا پروٹوکول، سڑکوں کی بندش اور خصوصی مراعات جیسی چیزیں اس فاصلے کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔ حکمران اور افسر شاید اسے ایک معمول کی سرکاری روایت سمجھیں، مگر عام آدمی اسے طاقت اور مراعات کی نمائش کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس لیے اس واقعے کو محض دو افسران کی بگھی سواری کا قصہ بنا کر ختم نہیں کرنا چاہیے۔ اگر وزیراعظم واقعی یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سرکاری منصب عوام کی امانت ہے اور اس میں عاجزی، سادگی اور ضبط ضروری ہے تو پھر یہی معیار ہر سطح پر نافذ ہونا چاہئے۔ صرف متعلقہ افسران سے نہیں بلکہ نقوی صاحب سے بھی پوچھا جانا چاہئے کہ اُنہوں نے ان افسران کو ایسی ہدایت کیوں جاری کی جو غیرمناسب تھی۔ بگھی میں بیٹھنے والا افسر ہو یا سیاسی رہنما، اصول ایک ہی ہونا چاہئے- ریاستی منصب خدمت کیلئے ہے، نمائش کے لیے نہیں۔ یہی اس پورے واقعے کا اصل سبق ہے۔

 

Back to top button