جب عدلیہ آزاد ہوگئی

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
ہمارے ہاں عدلیہ کب آزاد ہوجائے ،کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ مثال کے طور پر1992ء میںچیف جسٹس افضل ظلہ سے منسوب یہ بیان اخبارات کی زینت بن چکا تھا کہ اگر صدر غلام اسحاق خان نے ایک بار پھر 58ٹوبی کے تحت وزیراعظم نوازشریف کی حکومت برطرف کی تو وہ اپنے چیمبر میں سماعت کرکے اس صدارتی حکم کو معطل کردیں گے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نوازشریف سے بول چال بند ہونے کے باوجود غلام اسحاق خان نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے سے گریز کیا۔ جسٹس افضل ظلہ نے 18اپریل 1993ء کو ریٹائر ہونا تھا اور وہ ایک دن پہلے ہی بیرون ملک روانہ ہو گئے تو جسٹس نسیم حسن شاہ کو قائم مقام چیف جسٹس بنادیا گیا۔یہی وہ موقع تھا جب صدر غلام اسحاق خان نے نوازشریف کو گھر بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔
جسٹس سجاد علی شاہ جو تب سپریم کورٹ کے جج تھے اور بعد ازاں چیف جسٹس بنے،وہ اپنی کتاب ’’Law courts in a glass house‘‘میں لکھتے ہیں کہ نوازشریف کی برطرفی سے پہلے صدر اور وزیراعظم کے مابین بہت تناؤ تھا اور دونوں ایک دوسرے کیخلاف سخت باتیں کہہ چکے تھے۔ جسٹس افضل ظلہ کی ریٹائرمنٹ قریب آرہی تھی۔ صدر چیف جسٹس کے ریٹائر ہونے کا انتظار کررہے تھے ۔جس دن جسٹس افضل ظلہ نے ریٹائر ہونا تھا اس روز انہوں نے فلائٹ پکڑی اور وسط ایشیائی ممالک کے دورے پر نکل گئے۔ جسٹس نسیم حسن شاہ کو قائم مقام چیف جسٹس بنایا گیا مگر وہ ناخوش تھے کیونکہ وہ توقع کر رہے تھے کہ انہیں مستقل چیف جسٹس تعینات کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر گوہر ایوب کی طرف سے صدارتی اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا اور پھر نوازشریف نے بذات خود سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کردی۔قائم مقام چیف جسٹس ،نسیم حسن شاہ نے اس درخواست کی سماعت کیلئے 11ججوں پر مشتمل فل کورٹ بنچ تشکیل دیدیا اور پہلی سماعت پر ہی یہ کہہ کر خطرے کی گھنٹی بجادی کہ میں جسٹس منیر نہیں ہوں ،ایسا فیصلہ دوں گا کہ قوم خوش ہو جائیگی۔ نسیم حسن شاہ کے ان ریمارکس کو ایوان صدر نے الٹی میٹم سمجھا اورنہ صرف انکی مستقل چیف جسٹس کے طور پر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا بلکہ لاہور ہائیکورٹ سے بطور جج ریٹائر ہونے والے جسٹس منظور حسین سیال جو جسٹس نسیم حسن شاہ کے عزیز تھے اور ان کے چیمبر میں کام بھی کرتے رہے،انہیں سپریم کورٹ کا جج تعینات کردیاگیا۔ نسیم حسن شاہ کیلئے یہ مقدمہ کسی آزمائش سے کم نہ تھا کیونکہ ایک طرف نگران وزیراعظم بلخ شیر مزاری کی وکالت ایس ایم ظفر کر رہے تھے جو تب ایوب خان کے ساتھ وزیر قانون کی حیثیت سے براجمان تھے جب نسیم حسن شاہ کو ہائیکورٹ کا جج مقرر کرنے سے پہلے انٹرویو کیلئے بلایا گیا۔ غلام اسحاق کی نمائندگی عزیز اے منشی جیسے قابل قانون دان کر رہے تھے تو سابق وزیراعظم نوازشریف کی وکالت سابق وزیراعظم چوہدری محمد علی کے صاحبزادے خالد انور ایڈوکیٹ کررہے تھے۔ خالد انور ایڈوکیٹ نے دلائل مکمل کرنے کے بعد یہ جملہ کہہ کر سب کو جذباتی کردیا ـ’’مائی لارڈ! میرا موکل نوازشریف نہیں، دستورِ پاکستان ہے۔‘‘
سماعت کے دوران ایک ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے سب کو افسرد ہ کردیا۔ بنچ میں شامل سینئر جج جسٹس شفیع الرحمان کے جواں سال بیٹے کرنٹ لگنے سے فوت ہوگئے۔ جج صاحبان کا خیال تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی کچھ عرصہ کے لئے ملتوی کر دی جائے یا پھرسپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت رکھ لی جائے مگر جب جسٹس شفیع الرحمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے رنج والم کی اس گھڑی میں بھی اپنے فرض سے کوتاہی برتنا گوارہ نہ کیا اور بیٹے کی تدفین کے اگلے روز لاہور سے اسلام آباد آکر مقدمے کی سماعت کرنے والے بنچ میں شامل ہوگئے۔
سپریم کورٹ نے اس اہم ترین مقدمے کی روزانہ سماعت کرتے ہوئے ایک ماہ کے مختصر عرصہ میں فیصلہ سنادیا ۔26مئی 1993ء کو 3بجکر 17منٹ پر چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے مختصر فیصلہ سنایا اور صدر غلام اسحاق خان کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی، وزیراعظم نوازشریف اور انکی کابینہ کو بحال کردیا گیا۔ جسٹس نسیم حسن شاہ نے لکھا کہ قومی اسمبلی کو صرف وزیراعظم کے مشورے سے ہی تحلیل کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس نسیم حسن شاہ نے یہ بھی لکھا کہ ہمارے آئینی نظام کے مطابق وزیراعظم امورِ حکومت کی انجام دہی میں صدر کو جواب دہ نہیں اور نہ وہ اسکا ماتحت ہے۔ وہ اپنی حکومت کی پالیسیاں تشکیل دینے اورامورِ حکومت چلانے کے سلسلے میں صدر مملکت کو نہیں بلکہ صرف قومی اسمبلی کو جواب دہ ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ جواز مسترد کر دیا کہ وزیراعظم کی تقریر کے نتیجے میںوفاق کو دستور کے تحت چلانا ممکن نہیں رہا تھا۔ دوران سماعت ایوان صدر کی طرف سے یہ جواز بھی پیش کیا گیا تھا کہ ارکان اسمبلی نے ایوان صدر کو استعفے جمع کروا دیئے تھے اس دلیل کو بھی مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ صدر کو ارکان قومی اسمبلی کے استعفے جمع کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ استعفے قومی اسمبلی کے اسپیکر کو ذاتی طور پر جمع کروائے جاتے ہیں۔ چنانچہ صدر کو جمع کروائے گئے استعفوں کی کوئی حیثیت یا وقعت نہیںاور نہ ہی انکی بنیاد پریہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ قومی اسمبلی نمائندگی کاحق کھو چکی ہے۔
سپریم کورٹ کے بنچ میں شامل 11میں سے 10ججوں نے جسٹس نسیم حسن شاہ کے تحریر کئے گئے فیصلے سے اتفاق کیا مگر بعض ججوں نے وجوہات سے متعلق الگ الگ فیصلے تحریر کئے مثلاً جسٹس رفیق تارڑنے قرار دیا کہ صدر کو وزیراعظم کے اقدامات کتنے ہی غیر قانونی ،غیر آئینی یا مفاد عامہ کے خلاف کیوں نہ محسوس ہوں، اسکے پاس براہ راست یا بالواسطہ وزیراعظم کو ہٹانے کا کوئی اختیار نہیں۔ اگر صدر 58(2)Bکے تحت قومی اسمبلی تحلیل کرے یا وزیراعظم کو برطرف کرے تو اس پر آئین کے آرٹیکل 6کے تحت آئین کو سبوتاژکرنے کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔ جسٹس شفیع الرحمان نے اپنے اضافی فیصلے میں لکھا کہ صدر کا صوابدیدی اختیار محض جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا چیئرمین تعینات کرنے تک محدود ہے جبکہ آرمی، نیوی یا ایئر فورس کے سربراہ کا تقرر صدر وزیراعظم کی مشاورت سے ہی کر سکتا ہے۔
جسٹس سجاد علی شاہ جنہوں نے اکثریتی فیصلے سے اتفاق نہ کرتے ہوئے اختلافی نوٹ لکھا ،جس کی تفصیل پھر بیان کروں گا۔
