کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

 

 

 

 

تحریر: عمار مسعود

بشکریہ: وی نیوز

 

اعلیٰ عدالت کی جانب سے عمران خان کو شفا اسپتال شفٹ کرنے کی خبر نے تحریکِ انصاف کے کارکنوں اور باقی ماندہ قیادت کے دلوں میں امید کا غنچہ کھلا دیا۔ انہیں یوں لگا کہ انقلاب، جو مشرق کے افق پار سے دستک دے رہا تھا، اب درپیش ہو گیا۔ حکومت کا اقتدار لڑکھڑا گیا۔ وفاق میں سراسیمگی چھا گئی۔ اسلام آباد کے ڈرائنگ روموں میں سہم طاری ہو گیا، کیونکہ کسی مبینہ شیر کی آمد ہے جس کے توسط اور تعاون  سے رَن وغیرہ کانپ رہا ہے۔

 

تحریکِ انصاف کی بدقسمتی سے حکومت بھی وہیں پر قائم ہے۔ شہباز شریف کا اقتدار بھی سلامت ہے۔ حکومتی جماعتیں بھی ہلکی پھلکی کھٹ پٹ کے باوجود  باہم شیر و شکر ہیں۔ ون پیج بھی مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ تختِ اسلام آباد کی سلامتی کو بھی فی الوقت کوئی خطرہ نہیں۔

 

یہ صورتِ حال ان کارکنوں کے لیے ہضم کرنا بہت مشکل ہے جنہوں نے عدالتی حکم نامے کے نتیجے میں آرزوؤں کے قصر تعمیر کر لیے۔ جنہوں نے ڈائریکٹ اڈیالہ سے وزیراعظم ہاؤس کے لیے ٹرین چلا دی۔ جن کے مطابق حکمران طبقہ پسپا ہو گیا اور حق کی فتح کا وقت آن چلا تھا۔

 

جس رات عمران خان کو شفا اسپتال لے جانا تھا، یوٹیوبرز کا اشتیاق دیدنی تھا۔ انہوں نے اپنے اپنے یوٹیوب پر خصوصی نشریات کا بندوبست کیا۔ ویوز بھی ڈھیر سارے آ رہے تھے۔ ڈالر بھی برس رہے تھے۔ اسی بہانے انقلاب بھی آ رہا تھا۔ اسی چکر میں، بقول ان کے، ظلم کا باب بھی ختم ہو رہا تھا۔ جبر کے اسباب بھی دم توڑ رہے تھے۔ مشرق سے سورج بھی سوا نیزے پر طلوع ہو رہا تھا۔ لیکن کچھ نہ ہوا۔

 

 

خان صاحب شفا گئے ہی نہیں۔ پمز اسپتال میں معائنہ ہوا۔ شفا کے ڈاکٹر اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ ہمراہ تھیں۔ طبیعت بشاش پائی گئی اور چند گھنٹوں بعد سواری پھر اڈیالہ کی جانب چلی گئی۔

اب تحریکِ انصاف کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں رہ گیا کہ عدالت میں  حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست ڈالیں اور حکومت کو اسی چکر میں فارغ کروائیں۔ یہ بظاہر احمقانہ سی بات لگ رہی ہے، مگر ایسی احمقانہ مثالوں سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔ یوسف رضا گیلانی کو تیس سیکنڈ کی سزا سنائی گئی اور ان کی حکومت ختم کر دی گئی۔ اب کچھ اسی طرح کے خواب تحریکِ انصاف دیکھ رہی ہے۔

وہ چاہتے ہیں کہ گھی اگر احتجاجوں، ہنگاموں اور دھرنوں سے نہیں نکل رہا تو پھر عدالت کی الٹی انگلیوں سے گھی نکالا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا شہباز شریف کی حکومت توہینِ عدالت پر گھر جا سکتی ہے یا نہیں؟

اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اعلیٰ عدالت کے حکم نامے سے لے کر عمران خان کی پمز واپسی تک کے واقعات کا جائزہ لیں، تاکہ توہینِ عدالت کی ممکنہ کارروائی کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

عدالت کے حکم کے عین مطابق حکومت نے خان صاحب کا طبی معائنہ کروایا۔ ہدایات کے مطابق شفا کے ڈاکٹروں کا پینل بھی موجود تھا۔ فیملی بھی ہمراہ تھی۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ یہ معائنہ شفا اسپتال میں نہیں ہوا، پمز میں ہوا۔ عدالت کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔ وہ چاہے تو اس پر توہینِ عدالت لگا کر شہباز شریف حکومت کو فارغ بھی کر سکتی ہے، مگر حکومت کے پاس اپنے دفاع کے لیے کہنے کو بہت کچھ ہے۔

شفا انٹرنیشنل اسپتال میں اس اہمیت کے مریض کو داخل کرنے کی خواہش ہی غلط ہے۔ بلاشبہ شفا انٹرنیشنل اسپتال کا شمار پاکستان کے بہترین اسپتالوں میں ہوتا ہے۔ ایک وقت میں وہاں سیکڑوں نہیں، ہزاروں مریض موجود ہوتے ہیں۔ ان سب کی جان کو خطرے میں ڈال کر خان صاحب کا علاج نہیں کیا جا سکتا۔

اس رات آپ کو یاد ہوگا، شفا اسپتال کے چاروں طرف سیکیورٹی تھی۔ دور دور تک پرندہ پر نہیں مار سکتا تھا۔ اس حالت میں جو الم شفا کے مریضوں پر گزرے، اس کا کسی نے شمار نہیں کیا۔ کتنے سوگوار اپنے پیاروں کی میت کے منتظر رہے مگر ان کو اسپتال کے نزدیک پھٹنکے نہیں دیا گیا۔ کتنے ضروری آپریشن موخر ہو گئے کیونکہ اسپتال میں نہ عزیز رشتہ دار پہنچ سکے، نہ ادویات نہ مطلوبہ عملہ۔ کتنی ایمبولینسیں تڑپتے مریضوں کے ساتھ راستے میں روک دی گئیں۔ کتنے مریض ڈسچارج نہیں ہو سکے۔ کتنوں کے ڈاکٹر سیکیورٹی کی وجہ سے راستے میں روک دیے گئے۔ ایک گائناکالوجسٹ اپنی مریضہ کے پاس انتہائی اہم وقت میں پہنچ نہ پائیں۔

معاملہ سیکیورٹی کا بھی تھا اور ہجوم کا بھی۔ وعدے کے خلاف بہت سے لوگ شفا کے قریب پہنچے، جن میں تحریکِ انصاف کے جیالے بھی تھے، یوٹیوب کے متوالے بھی، جنہوں نے حالات کو مزید مخدوش بنا دیا۔ حکومت ان وجوہات کی بنا پر توہینِ عدالت کا شکار نہیں ہو سکتی۔

پمز سرکاری اسپتال ہے۔ وہاں اس طرح کی وی آئی پی موومنٹ کے لیے علیحدہ راستہ ہے، جس سے زرداری صاحب بھی گیارہ برس گزرتے رہے اور ٹریفک میں خلل نہیں پڑا۔

یہ بات اہم ہے کہ خان صاحب کو پمز پر کیوں اعتراض ہونے لگا؟ ان کے اپنے فرمودات ہیں کہ وہ معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں جہاں امیر کے لیے اسپتال الگ اور غریب کے لیے اسپتال الگ ہوتا ہے۔ تو حکومت نے تو خان صاحب کے معاملے میں عدالت سے زیادہ خان صاحب کے فرمودات کو اہمیت دی۔

حکومت پر توہینِ عدالت لگنا مشکل ہے، لیکن تحریکِ انصاف پر یہ کارروائی ہو سکتی ہے۔ عدالت کے حکم کے خلاف شفا کے باہر کارکن بھی جمع ہوئے اور قیادت بھی۔ عمران خان کی رپورٹس بھی میڈیا سے شیئر کی گئیں اور عدالت کے سختی سے منع کرنے کے باوجود عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان نے پریس کانفرنس بھی کی۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ عدالت کا ردِعمل کیا ہوتا ہے۔ وہ حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے یا خان صاحب کی ملاقاتوں پر پابندی لگاتی ہے لیکن تحریکِ انصاف کے یوٹیوبرز کے لیے قیامت کا سماں تھا جب عظمیٰ خان نے چھ دفعہ ماشاءاللہ کہہ کر کہا کہ عمران خان بالکل فٹ ہیں۔ بلڈ پریشر نارمل ہے۔ بینائی بھی مسلسل اور درست علاج سے بہتر ہو رہی ہے۔

تو وہ لوگ جو ہر روز اڈیالہ جیل سے بدخبریوں کا انکشاف اپنے یوٹیوب پر کرتے رہے، کبھی خان صاحب کو نابینا بتاتے رہے، کبھی نقاہت کے عالم کو رقت بھرے لہجوں میں بیان کرتے رہے اور حد تو یہ ہے کہ بہت سوں نے اڈیالہ میں ایک پراسرار لاش کو دفنانے کے دعوے بھی کر دیئے تھے۔ ان سب کو مل کر اس وقت چلو بھر پانی کی تلاش کرنی چاہیے تاکہ ڈوب مرنے میں سہولت ہو۔

 

 

Back to top button