بھارتی آرمی چیف اپنے ملک میں مظاہروں سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں

پاک فوج نے بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف بیپن روات کا بیان ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی دنیا کی توجہ شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) پر ہونے والے مظاہروں سے ہٹانے کی کوشش ہے۔
خیال رہے کہ بھارتی آرمی چیف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر حالات کسی بھی وقت کشیدہ ہوسکتے ہیں۔بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ‘ہم (بھارتی فوج) کسی بھی قسم کی کشیدگی نے نمٹنے کے لیے تیار ہیں’۔
Provocative statements and preparations for escalation along LOC by Indian COAS appear to be an effort as usual to divert world attention from wide spread protests in India against CAB. Pakistan Armed Forces shall befittingly respond to any Indian misadventure or aggression.
— DG ISPR (@OfficialDGISPR) December 19, 2019
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ بھارتی آرمی چیف بیپن روات کا بیان ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی دنیا کی توجہ شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) پر بھارت میں ہونے والے مظاہروں سے ہٹانے کی کوشش ہے۔
پاک فوج نے بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ پاکستانی افواج کسی بھی قسم کی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو روز قبل آزاد کشمیر کے دو مختلف سیکٹرز میں بھارتی فورسز کی ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ سے ایک پاکستانی بچہ شہید اور دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مرکزی حکومت نے گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں بھارتی شہریت کے حوالے سے متنازع بل منظور کیا تھا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل پڑوسی ممالک سے غیرقانونی طور پر بھارت آنے والے افراد کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمان اس کا حصہ نہیں ہوں گے۔
اس ترمیمی قانون کے بعد بھارت میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے اور شمال مشرقی ریاستوں میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ اور تشدد سے 6 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ انٹرنیٹ کی معطلی اور کرفیو بدستور نافذ ہے۔
واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون کا مقصد پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے 6 مذاہب کے غیرمسلم تارکین وطن ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ، جینز اور بدھ مت کے ماننے والوں کو بھارتی شہریت فراہم کرنا ہے، اس بل کے تحت 1955 کے شہریت ایکٹ میں ترمیم کر کے منتخب کیٹیگریز کے غیرقانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت کا اہل قرار دیا جائے گا۔
