بھارتی سیاست میں عروسہ عالم مسلسل بحث کا موضوع

بھارتی پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹین امریندر سنگھ کے پاکستانی صحافی عروسہ عالم کے ساتھ تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہیں لیکن اسوقت یہ تعلقات انڈین سیاست میں گرما گرم بحث کا موضوع بن چکے ہیں اور سابق پاکستانی خاتون صحافی پر طرح طرح کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ عروسہ عالم معروف پاکستانی گلوکار فخر عالم کی والدہ ہیں اور جنرل یحییٰ خان کی دوست اقلیم اختر عرف جنرل رانی کی بیٹی ہیں۔
یاد رہے کہ امریندر سنگھ نے حال ہی میں ریاست کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفی دینے کے بعد ایک نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ردعمل میں پنجاب کے نائب وزیر اعلیٰ سکھجندر سنگھ رندھاوا نے کہا تھا کہ پنجاب حکومت کیپٹن امریندر کی دوست عروسہ عالم کے آئی ایس آئی کے ساتھ تعلقات کی تحقیقات کرے گی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سے عروسہ عالم کے آئی ایس آئی سے تعلقات’ کی تحقیق کرنے کے لیے کہیں گے۔ رندھاوا نے مزید کہا کہ وہ ڈی جی پی سے امریندرسنگھ کی وزارت اعلیٰ کے زمانے میں پاکستان سے آنے والے ڈرونز کی رپورٹس کی تحقیقات کرنے کو بھی کہیں گے۔
سکھجندر سنگھ رندھاوا نے بعد میں این ڈی ٹی وی نیوز چینل کو بتایا کہ ‘کپتان کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کو آئی ایس آئی سے خطرہ ہے۔ اس لیے ہم عروسہ عالم کے آئی ایس آئی سے تعلق کی بھی تحقیقات کریں گے۔’
دوسری جانب ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے امریندر سنگھ نے عروسہ عالم کی تقریباً ایک درجن تصاویر فیس بک پر پوسٹ کیں جن میں وہ کانگریسی رہنما سونیا گاندھی، سابق مرکزی وزراء سشما سوراج، اشونی کمار اور یشونت سنہا، اداکار شتروگھن سنہا اور دلیپ کمار، لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ سمیت دوسرے اور انڈین معززین کے ساتھ نظر آ رہی ہیں۔ ان تصاویر کے ساتھ انھوں نے طنزاً لکھا کہ ‘میرے خیال سے یہ سبھی آئی ایس آئی سے رابطے میں ہیں۔’ انھوں نے مزید لکھا کہ ‘ایسا کہنے والوں کو بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے۔ بدقسمتی سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان اس وقت ویزا پر پابندی ہے ورنہ میں انھیں دوبارہ دعوت دیتا۔ انہوں نے لکھا کہ اتفاق سے میں مارچ 2022 میں 80 سالا کا اور مسز عروسہ عالم اگلے برس 69 سال کی ہونے جا رہی ہیں۔ لیکن پھر بھی ایسا لگتا ہے کہ تنگ نظری عام ہو چکی ہے۔’
یاد رہے کہ کیپٹن امریندر سنگھ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کانگریس پارٹی کے رکن تھے اور دو بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ سے انکے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو سے جھگڑے جاری تھے۔ کانگریس نے امریندر نے استعفی دینے کے بعد سدھو کی حمایت کرنے کے بجائے چرنجیت سنگھ چنی کو وزیر اعلیٰ منتخب کروایا اور جسکے بعد ناجوت سنگھ سدھو نے کانگریس پنجاب کی صدارت سے استعفی دے دیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بھارتی کانگریس میں دو دھڑے بن چکے ہیں اور دونوں کے پارٹی چھوڑنے کی افواہیں چل رہی ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ عروسہ عالم، جو کہ 2004 میں امریندر سنگھ کے دورہ پاکستان کے دوران پہلی مرتبہ ان سے ملی تھیں، اب 15 برس سے ان سے کافی قریب ہیں۔ وہ تب 2018 میں بھی بحث کا موضوع تھیں جب امریندر سنگھ نے عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت اور پاکستانی آرمی چیف کو گلے لگانے کے لیے نوجوت سنگھ سدھو کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
2007 میں اسی طرح کے تنازعات کے بعد عروسہ عالم نے کہا تھا کہ امریندر سنگھ ان کے اچھے دوست ہیں اور انڈین میڈیا ان کے رشتے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔
عروسہ عالم نے مزید کہا تھا کہ ان کے رشتےکے بارے میں اس طرح کی خبروں سے پاکستان میں ان کی شہرت پر برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ان کا سماجی کردار ہے اور ایسی خبروں سے ان کی سماجی زندگی پر اثر پڑے گا۔
ان کا یہ ردعمل اس وقت آیا تھا جب پنجاب اسمبلی میں بعض ممبران نے عروسہ عالم اور امریندر سنگھ کے رشتے پر آواز اٹھائی تھی اور مبینہ طور پر عروسہ کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ بتایا تھا اور امریندر سنگھ کے ساتھ ان کی دوستی کو ملک کے لیے خطرناک کہا گیا تھا۔ عروسہ عالم ایک پاکستانی صحافی ہیں جنہوں نے اپنی کیریئر کا آغاز اسی کی دہائی میں کیا۔ عروسہ عالم اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگلش نیوز پیپر پاکستان آوبزرو اور ’دی مسلم‘ کے ساتھ منسلک رہیں جہاں وہ زیادہ تر دفاعی امور سے متعلق کی کوریج کرتی تھیں۔ وہ ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن (سیفما) کی صدر بھی رہی ہیں۔ عروسہ عالم کے عالم کے دو بیٹے ہیں جن میں ایک گلوکار فخر عالم ہیں جبکہ ان کے ایک وکالت شعبے سے منسلک ہیں۔ عروسہ عالم کی اقلیم اختر کی بیٹی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستانی فوجی سربراہ جنرل یحیٰ خان سےاچھے تعلقات کی وجہ انھیں جنرل رانی بھی کہا جاتا تھا۔
دوسری جانب عروسہ عالم کا۔کہنا ہے کہ ان کا کیپٹن امریندر سنگھ سے ایک ’خوبصورت‘ رشتہ ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا۔‘
