بھارت میں کسانوں کے شدید احتجاج نے مودی حکومت ہلا دی

بھارت میں نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج نے شدت اختیار کر لی ہے اور مودی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بج گئی ہیں۔ نئی دہلی میں ملک بھر سے اکٹھے ہونے والے کسانوں کی جانب سے شہر کے داخلی راستوں پر احتجاجی دھرنے کے باعث بھارت کا دارالحکومت مکمل طور پر جام ہو چکا ہے۔ یاد رے کہ ان کسانوں نے ستمبر میں مرکزی حکومت کی جانب متعارف کروائے جانے والے زرعی قانون کی مخالفت میں ’دہلی چلو‘ نعرے کے ساتھ دارالحکومت کا رُخ کیا تھا۔
احتجاجی مظاہرین نے نئی دہلی کو پنجاب اور ہریانہ سے ملانے والی مرکزی شاہراہوں پر دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ شاہراہیں شمالی ریاستوں اور قصبوں و دیہاتوں کو دارالحکومت سے ملاتی ہیں۔اسے بھارت میں حالیہ برسوں میں کسانوں کا یہ سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ قرار دیا جارہا ہے۔ ہزاروں کسان دہلی کی نواحی سرحدوں پر جمع ہوگئے ہیں اور انہوں نے وہاں اپنے خیمے گاڑ دیے ہیں۔ صورت حال سے نمٹنے کےلیے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی متعدد سینیئر وزیروں اور حکام کے ساتھ میٹنگیں بھی ہوئیں۔ مودی حکومت نے کسانوں سے مذاکرات بھی کیے لیکن انہیں احتجاجی مظاہرہ ختم کرنے پر آمادہ نہیں کر سکی۔ اس حوالے سے کسانوں کا کہنا ہے کہ متنازعہ قوانین واپس لیے جانے تک وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ خواہ اس کےلیے انہیں چھ ماہ تک انتظار ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ کسانوں کے مظاہروں کی وجہ سے ملک کے دیگر حصوں کو قومی دارالحکومت سے جوڑنے والی بیشتر اہم قومی شاہراہیں بند ہوگئی ہیں۔ کرونا کی وجہ سے جو چند ایک ٹرینیں چل رہی تھیں ان میں سے بھی بیشتر کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب کسانوں کی اس تحریک کو مختلف حلقوں سے حمایت مل رہی ہے۔ طلبہ تنظیمیں اور ٹرانسپورٹ یونینوں کے بعد اب حکومت کی بعض حلیف جماعتیں بھی کسانوں کی حمایت میں سامنے آ گئی ہیں۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے کسانوں کی حمایت میں آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو وہ اپنے ایوارڈ واپس کردیں گے۔ ہاکی کے سابق اولمپک کھلاڑی ارجن ایوارڈ یافتہ سجان سنگھ چیمہ نے کہا کہ کسان پچھلے کئی مہینوں سے پرامن احتجاج کر رہے ہیں لیکن ان پر پانی کی تیز دھار کا استعمال کیا گیا، آنسو گیس کے شیل داغے گئے۔ ہم کسانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کےلیے پانچ دسمبر کو دہلی مارچ کریں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسانوں کے ساتھ ‘مول بھاؤ‘ کرنے کے لحاظ سے اس مرتبہ حکومت کی پوزیشن کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ گوکہ وزیر اعظم مودی نے قوانین کو واپس لینے یا ان کے نفاذ کو موخر کرنے کے امکان کو یکسر مسترد کردیا ہے لیکن حکومت شاید یہ اندازہ پوری طرح نہیں لگا سکی کہ کسانوں نے فصلیں کاشت کر لی ہیں اور ان کے پاس اس وقت ‘آرام کا وقت‘ ہے۔ کسان مظاہرین کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں افراد یکجہتی کےلیے آ رہے ہیں۔ انقلاب زندہ باد اور آزادی کے نعروں سے دن بھر مجمع آباد رہتا ہے۔ کسانوں نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ مظاہرین نے خوراک کےلیے اپنے ٹریکٹروں کی ٹرالیوں میں دالیں، چاول اور دیگر ضروری اشیاء ساتھ لائی ہوئی ہیں جب کہ دہلی کے نواح میں موجود مختلف تنظیمیں اور ٹریڈ یونین قائدین بھی کسانوں کو خوراک اور فروٹ وغیرہ فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔ تقریباً تین کلومیٹر کے علاقے پر پھیلے ہوئے یہ کسان مظاہرین احتجاج کی لمبی تیاری کے ساتھ آئے ہوئے ہیں۔ رات کے وقت یہ کسان ٹریکٹر ٹرالیوں اور ٹرکوں کے نیچے سو جاتے ہیں، دن کو تازہ دم ہو کر انقلابی نعروں کے ذریعے مجمعے کو گرماتے رہتے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ احتجاج ستمبر میں شروع ہوا تھا لیکن گزشتہ ہفتے اس احتجاج کی طرف اس وقت توجہ مبذول ہوئی جب کسانوں نے ہندوستان کی سب سے بڑی زرعی ریاست شمالی پنجاب اور ہریانہ سے دہلی کی طرف مارچ شروع کیا۔ دارالحکومت جاتے ہوئے، انہوں نے پولیس کے ذریعہ لگائی گئی ٹھوس رکاوٹوں کو ایک طرف دھکیل دیا اور آنسو گیس، لاٹھیوں اور واٹر کینن کا مقابلہ کرتے ہوئے پولیس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ کسانوں نے اب اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو دارالحکومت کا محاصرہ کیا جائے گا۔ یہ ایک طویل جنگ ہوگی حکومت کی ذمہ داری ہے وہ جب چاہے اس جنگ کو ختم کرسکتی ہے، اس کے خاتمے کا ایک ہی راستہ ہے کہ کسانوں کے مطالبات منظور کئے جائیں۔
یاد رہے کہ بھارتی پارلیمان نے ستمبر کے تیسرے ہفتے میں زراعت کے متعلق یکے بعد ديگرے تین بل متعارف کرائے جنہیں فوراً قانونی حیثیت دے دی گئی۔ ان میں ایک ’زرعی پیداوار تجارت اور کامرس قانون 2020‘ ہے جب کہ دوسرا ’کسان (امپاورمنٹ اور پروٹیکشن) زرعی سروس قانون 2020‘ ہے جس میں قیمت کی یقین دہانی اور معاہدے شامل ہیں۔ تیسرا قانون ’ضروری اشیا (ترمیمی) قانون‘ ہے۔
ان قوانین پر ملک میں منقسم رائے پائی جاتی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا دعویٰ ہے کہ ان قوانین سے جو اصلاحات کی جا رہی ہے وہ زراعت کے شعبے کےلیے ایک اہم موڑ ثابت ہوں گی۔ دوسری طرف بھارت کی حزب اختلاف نے ان قوانین کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسانوں کےلیے موت کا پروانہ ثابت ہوں گے۔ اس لیے کسانوں نے بھی یہ اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے ان قوانین کو واپس لینے تک دہلی کو جام کر کے رکھیں گے اور اگر ان کے مطالبات نہ مانے تو وہ یہ احتجاج ملک بھر میں پھیلا دیں گے۔
