نیا ٹرکش ڈرامہ پاکستان میں کیوں مقبول نہیں ہو سکا؟

ارطغرل غازی کی پاکستانی ڈرامہ شائقین کی جانب بے پناہ پذیرائی کےبعد رومی ثانی کہلانے وال معروف صوفی بزرگ اور شاعر یونس ایمرے کی زندگی پر بننے والے ڈرامے کو پی ٹی وی پر راہِ عشق کے نام سے قومی زبان میں نشر کیا جارہا ہے۔ تاہم یہ ڈرامہ وہ مقبولیت حصل نہیں کر سکا جو کہ ڈرامہ ارطغرل غازی کو ملی۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ ٹویٹ میں کہا ہے کہ صوفی ازم اور معرفت میں دلچسپی رکھنے والوں کیلئے میری پرزور تجویز ہےکہ وہ سلسلہ وار ڈرامہ یونس ایمرے ضرور دیکھیں جسے پی ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں پی ٹی وی کی جانب سے ڈرامے کا او ایس ٹی بھی جاری کیا گیا ہے جو بلھے شاہ کے کلام پر مبنی ہے اور اسے پاکستان کے معروف گلوکار ابرار الحق نے پڑھا ہے۔ یونس ایمرے ڈرامہ دراصل 13 ویں صدی کے ترک صوفی شاعر یونس ایمرے کی زندگی پر بنایا گیا ہے۔ یونس امرے کو ترکوں کے صوفی شاعر اور اہم ادبی اوائلی شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے اور ترک کی نئی نسل بھی ان کی خدمات کا اعتراف کرتی ہے۔انہی کی زندگی اور خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے محمد بوزداغ نے ان کی زندگی پر یونس ایمرے نامی ڈرامہ بنایا جو دیکھتے ہی دیکھتے ترکی میں مشہور ہوگیا۔
یونس ایمرے کو ترکی کے سرکاری ٹی وی چینل ٹی آر ٹی ون پر نشر کیا گیا تھا اور اس ڈرامے کا پہلا سیزن 2015 جبکہ دوسرا سیزن 2016 میں نشر کیا گیا تھا اور ڈرامے کی مجموعی طور پر 44 اقساط ہیں۔یونس ایمرے ایک سال سے بھی مختصر عرصے میں پاکستان کے سرکاری چینل پر نشر ہونے والا دوسرا ترک ڈرامہ ہے تاہم یہ ابھی ارطغرل غازی جتنا مقبول نہیں ہوا، جس نے نشر ہوتے ہی عوام مقبولیت حاصل کرلی تھی۔ خیال رہے کہ اسلامی فتوحات پر مبنی ڈرامے ارطغرل غازی کو وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی وی پر نشر کیا گیا اور ان دنوں اس ڈرامے کا دوسرا سیزن نشر کیا جارہا ہے۔
سات صدیاں بیت جانے کے بعد آج بھی وہ ترکوں کی محبوب شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ترکی باشندوں میں یونس ایمرے کا کلام آج بھی مقبول ہے اور ان کا نام نہایت عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔ترکی میں کرنسی پر تصاویر کے علاوہ کئی اہم مقامات اور عمارتوں میں یونس ایمرے کے مجسمے نصب ہیں۔ 1991ء میں یونس ایمرے کی 750ویں سالگرہ کے موقع پر اقوام متحدہ نے متفقہ طور پر اس سال کو پوری دنیا میں یونس ایمرے کے سال کے طور پر عالمی سطح پر منایا۔ ترکی اور وسطی ایشیا کے ممالک میں صوفی شاعر، درویش اور روحانی شخصیت کے طور پر مشہور یونس ایمرے 1238 میں پیدا ہوئے۔ رومی ثانی کہلائے جانے والے اپنی زندگی کے ایک حصے میں تصوف سے بیزار تھے اسی لئے قونیہ میں خود کو شریعت کے مسئلے سمجھنے میں مصروف رکھا۔
قابلیت، ذہانت، روشن فکر اور اجلے کردار کا پیکر یونس ایمرے مدرسے سے فارغ ہوئے تو انہیں قونیہ سے دور مضافاتی قصبے نالیحان میں قاضی بنا کر بھیج دیا گیا۔ اسی شہر کے ایک صوفی بزرگ تاپ دوک ایمرے سے ملاقاتوں کے بعد یونس ایمرے کی زندگی میں ایسا موڑ آیا کہ ظاہر پر یقین رکھنے والے قاضی یونس نے سرکاری عہدہ اور پرآسائش زندگی چھوڑ کر درگاہ کا رخ کرلیا۔ترکی کے معروف صوفی بزرگ حاجی بکتاش ولی کی ہدایت پر مشہور عالم تاپ دوک ایمرے سے یونس ایمرے نے قرآن و حدیث کے علم میں کمال حاصل کیا اور انہی کی خدمت میں روحانیت کے اسرار و رموز سیکھنے کیلئے 40 سال گزارے۔ ابتداء میں شاعری کو گمراہی سمجھنے والے یونس ایمرے کے کلام میں جہاں صوفی ازم، واحدت الوجود، دنیا کی بے ثباتی، انسانیت سے محبت و پیار، امن اور بھائی چارے کا پرچار ملتا ہے وہاں ترکی کی ابتدائی اور قدیم تہذیب و ثقافت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ نہایت پُراثر لب و لہجے کے مالک اور شیریں گفتار یونس ایمرے جب 1320 عیسوی میں دنیا سے رخصت ہوئے تو اناطولیہ سمیت ہر طرف ان کا چرچا تھا۔
