بھارت نے جاسوسی کے لیے عمران کا فون نمبر کیوں چنا؟

معلوم ہوا ہے کہ بھارتی ایجنسیوں نے اسرائیلی سافٹ وئیر دا پیگاسس کی مدد سے جن عالمی سیاستدانوں کی جاسوسی کی ان میں وزیراعظم عمران خان کا موبائیل نمبر ’پرسن آف انٹرسٹ‘ کے طور پر چنا گیا تھا۔
انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فرانسیسی میڈیا گروپ ’فوربڈن سٹوریز‘ کو جن 50 ہزار نمبروں پر مشتمل ریکارڈ تک رسائی ملی ہے اس فہرست میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان، فرانسیسی وزیر اعظم ایمینوئل میکخواں، مراکش کے بادشاہ شاہ محمد ششم سمیت دنیا بھر کے 14 حکمرانوں کے نمبر شامل ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فوربڈن سٹوریز کے ساتھ ’دا پیگاسس پراجیکٹ‘ میں کام کرنے والے 17 صحافتی اداروں نے اس فہرست میں شامل فون نمبروں اور دیگر مواد سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ ان نمبروں کو اسرائیلی کمپنی این ایس او کی بنائے ہوئے پیگاسس سپائی ویئر استعمال کرنے والے کن ممالک نے منتخب کیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کا نمبر 2019 میں انڈیا نے بطور ’پرسن آف انٹرسٹ‘ یعنی اہمیت رکھنے والی شخصیت کے طور پر منتخب کیا تھا۔ تحقیق کے مطابق اس فہرست میں تین موجودہ صدور یعنی فرانس، عراق اور جنوبی افریقہ کے، اور تین موجودہ وزرائے اعظم یعنی پاکستان، فرانس اور مراکش کے شامل تھے۔
واضح رہے کہ اس فہرست میں نمبر موجود ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس شخص کو پیگاسس کے ذریعہ ہیک کیا گیا ہو یا ہیک کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ یہ فہرست ان افراد کا تعین کرتی نظر آئی ہے جن کو ’پرسن آف انٹرسٹ‘ کے طور پر منتخب کیا گیا ہو۔ تاہم اس فہرست میں شامل افراد میں سے چند کے موبائل فونز کا تجزیہ کیا گیا تو اس سے معلوم ہوا کہ انھیں پیگاسس کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان رہنماؤں سے رابطہ کیا گیا تاہم ان میں سے کسی نے بھی اپنا فون تجزیہ کرنے کے لیے نہیں دیا جس سے اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ آیا ان افراد کے فونز کو کامیابی سے ہیک کیا گیا تھا یا ہیک کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ اسرائیلی سافٹ وئیر بنانے والی کمپنی این ایس او نے مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا سپائی وئیر صرف اور صرف سرکاری اداروں کو جانچ کے بعد بیچا جاتا ہے اور اس کا مقصد صرف دہشت گردی اور جرائم پیشہ عناصر کو روکنا ہے۔
18 جولائی 2021 کو متعدد عالمی صحافتی اداروں میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فرانسیسی میڈیا گروپ ‘فوربڈن سٹوریز’ کو 50 ہزار سے زیادہ فون نمبرز پر مشتمل ریکارڈ تک رسائی حاصل ہوئی جن کو اسرائیلی نجی کمپنی این ایس او کے جاسوس سافٹ ویئر ‘پیگاسس’ کو استعمال کرتے ہوئے نگرانی اور جاسوسی کا ہدف بنایا گیا تھا۔ اس فہرست میں پاکستان اور انڈیا سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زائد فون نمبرز شامل تھے۔اس تحقیق کے لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ‘فوربڈن سٹوریز’ نے 17 مختلف صحافتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جن میں واشنگٹن پوسٹ، گارجئین، دا وائیر، ہاریٹز، لے مونڈ اور دیگر ادارے شامل ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیلی جاسوس سافٹ ویئر این ایس او کی مدد سے صارف کسی بھی فون نمبر کے ذریعہ اپنے ممکنہ ہدف کے فون تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اس کی مدد سے فون کے تمام ڈیٹا کو حاصل کر سکتا ہے اور فون استعمال کرنے والے کی نقل و حرکت کو بھی جانچ سکتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور’فوربڈن سٹوریز’ کی جانب سے اس ڈیٹا کا تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ این ایس او کا سافٹ ویئر استعمال کرنے والے 12 صارف ممالک نے نہ صرف 21 ممالک میں کام کرنے والے کم از کم 180 صحافیوں کی نگرانی کرنے کے لیے ان کے نمبرز منتخب کیے تھے بلکہ فون نمبرز کی اس فہرست میں حکومتی عہدے داروں، کاروباری شخصیات، جج، اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں کے نام بھی شامل ہیں۔ تحقیق کے مطابق پیگاسس کا استعمال کرنے والے این ایس او کے صارف ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈیا، بحرین، ہنگری، آذربائیجان، میکسیکو اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ فہرست میں شامل نمبروں میں سے دو نمبر انڈیا کی دوسری سب سے بڑی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی نگرانی کے ممکنہ اہداف میں شامل تھے۔اس کے علاوہ راہول گاندھی کے پانچ قریبی دوست اور کانگریس سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کے نمبر بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔
تحقیق کی تفصیلات کے مطابق انڈیا سے تعلق رکھنے والے ہزار سے زیادہ نمبر جن کو جاسوسی کے لیے بطور ہدف چنا گیا تھا ان میں کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں، پاکستانی سفارتکاروں، چینی صحافیوں، سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنان اور کاروباری افراد شامل ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ، جو کہ اس تحقیقی منصوبے کا حصہ ہے، کے مطابق انھوں نے وزیر اعظم عمران خان سے رد عمل لینے کے لیے رابطہ کیا لیکن انھیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب این ایس او کا پاکستان سے تعلق جوڑا گیا ہو۔
نومبر 2019 میں برطانوی اخبار گارجئین کی ایک خبر کے مطابق اس برس اسرائیلی کمپنی این ایس او کی بنائی گئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم دو درجن پاکستانی سرکاری اور فوجی حکام کے موبائل فونز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس خبر کے بعد پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے جاری کیا گیا ایک ’خفیہ‘ مراسلہ منظر عام پر آیا جس میں کہا گیا کہ ’وہ سینیئر حکومتی اہلکار جو کہ حساس عہدوں پر فائز ہیں وہ میسیجنگ ایپ واٹس ایپ پر سرکاری دستاویزات نہ بھیجیں، اپنے واٹس ایپ کو تازہ ترین اپ ڈیٹ کے ساتھ استعمال کریں اور 10 مئی 2019 سے پہلے خریدے گئے اپنے فون کا استعمال ترک کریں۔‘ اس مراسلے میں بتایا گیا تھا کہ ’دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں نے ایسی صلاحیت حاصل کر لی جس کی مدد سے موبائل فون تک رسائی ہو سکتی ہے اور کہا گیا کہ ایک اسرائیلی کمپنی این ایس او کے سپائی ویئر کی مدد سے 20 سے زائد ممالک میں صارفین متاثر ہوئے ہیں جس میں پاکستانی صارفین بھی شامل ہیں۔‘ مراسلے کی اشاعت کے چھ ہفتے بعد، 20 دسمبر کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پریس ریلیز جاری کی جس میں ’میڈیا رپورٹس‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’پی ٹی اے نے پاکستان میں متاثرہ صارفین کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے نہ صرف واٹس ایپ انتظامیہ کے ساتھ معاملہ اٹھایا ہے بلکہ واٹس ایپ انتظامیہ کی جانب سے اختیار کیے گئے حفاظتی اقدامات جن کے ذریعے مستقبل میں ہیکنگ کی روک تھام کی جا سکتی ہے کے بارے میں آگاہی حاصل کی جا سکے۔‘
