بھارت: کرونا کا پھیلاؤ، تبلیغی جماعت کے امیر پرقتل کا الزام عائد

بھارت نے ملک کے تبلیغی جماعت کے سربراہ کے خلاف گزشتہ ماہ اجتماع منعقد کرنے کے الزام میں قتل کے مترادف الزامات عائد کردیے ہیں۔اس اجتماع کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس بڑی تعداد میں اس کی وجہ سے پھیلا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دہلی کے ایک کونے میں قائم تبلیغی جماعت کے مرکز کو سیل کردیا گیا ہے جبکہ اس تنظٰم کے ہزاروں اراکین بشمول انڈونیشیا، ملائشیا اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے افراد کو قرنطینہ میں رکھ دیا گیا۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے ابتدائی طور پر مرکز کے چیف محمد سعد قندھلوی کے خلاف بڑے اجتماعات پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا لیکن اب انہوں نے مجرمانہ قتل عام کے دفعات بھی اس میں شامل کرلیے ہیں۔پولیس افسر کا کہنا تھا کہ دہلی پولیس نے پہلے تبلیغی جماعت کے سربراہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی جس میں ’اب دفعہ 304 کو شامل کیا گیا ہے‘ جس میں مجرمانہ قتل عام کا ذکر ہے اور اس کے تحت زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔
تبلیغی جماعت کے ترجمان مجیب الرحمٰن نے یہ کہتے ہوئے رائے دینے سے انکار کیا کہ انہوں نے نئے الزامات کے بارے میں اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے۔تبلیغی جماعت 80 سے زیادہ ممالک میں پیروکاروں کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی سنی مسلمان مذہبی تنظیم ہے۔حکام نے ابتدا میں کہا تھا کہ اس وقت تقریباً وائرس کے 3 ہزار ککیسز میں سے ایک تہائی یا تو وہ لوگ تھے جو تبلیغی اجتماع میں شریک ہوئے تھے یا وہ لوگ جن کا بعد میں ان سے رابطہ ہوا تھا۔جمعرات کے روز تک بھارت میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد بڑھ کر 12 ہزار 380 ہوگئی ہے جن میں سے 414 افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔
شہری حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق دہلی کے کوروناوائرس جت ایک ہزار 561 کیسز میں سے ایک ہزار 80 کا تعلق اس تنظیم کے اجتماع سے تھا۔تبلیغی انتظامیہ نے پہلے کہا تھا کہ دہلی کے تاریخی نظام الدین مرکز کا دورہ کرنے والے پیروکار حکومت کی جانب سے 3 ہفتوں کے لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد پھنس گئے تھے اور مرکز نے انہیں پناہ دی تھی۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے ناقدین نے مسلمانوں پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا الزام عائد کرکے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کے خلاف حکومت کو خبردار کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button