تاحیات نا اہلی کیس میں واوڈا کا ایک اورجھوٹ پکڑا گیا


سپریم کورٹ میں عمران خان کے قریبی ساتھی فیصل واوڈا کو اپنی تاحیات نااہلی کے خلاف دائر کردہ کیس میں تب سخت خفت اٹھانا پڑ گئی جب دوران سماعت ان کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہو گیا جس پر عدالت سیخ پا ہو گئی۔ 19 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نا اہلی کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوران ان کے وکیل وسیم سجاد نے دعوی ٰکیا کہ 2018 کے الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت ریٹرننگ افسر نے واوڈا کا منسوخ شدہ امریکی پاسپورٹ دیکھ کر تسلی کی تھی اور تب ہی انکے کاغذات منظور کیے تھے۔

تاہم جسٹس عائشہ ملک نے اس دعوے کو بے نقاب کرتے ہوئے بھری عدالت میں انکشاف کیا کہ فیصل واوڈا جو منسوخ شدہ امریکی پاسپورٹ ریٹرننگ آفیسر کو دکھانے کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ ایکسپائرڈ تھا اور اسی لیے اس پر منسوخی کی مہر لگی تھی، جسٹس عائشہ نے کہا کہ انہوں نے ریٹرننگ افسر کو جو پاسپورٹ 2018 میں دکھایا تھا وہ تو تین برس پہلے سال 2015 میں ایکسپائر ہو چکا تھا، انہوں نے کہا کہ جب نیا پاسپورٹ بنوائیں تو پرانے پر منسوخی کی مہر لگتی ہے، اور واوڈا کے کیس میں بھی ایسا ہی ہوا لہذا انہوں نے منسوخی کی مہر والا پرانا پاسپورٹ دکھا کر اسے اپنی امریکی شہریت چھوڑنے کا ثبوت بنا کر پیش کیا جو کہ غلط بیانی ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ واوڈا کا جو امریکی پاسپورٹ ریکارڈ پر ہے اسکے اور منسوخ شدہ پاسپورٹ کے نمبرز مختلف ہیں، جن سے واضح ہے کہ موصوف کو اپنا پچھلا پاسپورٹ ایکسپائر ہونے کے بعد نیا پاسپورٹ بھی جاری ہوا تھا لیکن انہوں نے ریٹرننگ آفیسر کو ماموں بنانے کے لیے پرانا پاسپورٹ دکھایا۔

یہ سن کر عمرانڈو چیف جسٹس عمر عطا بندیال یہ ریمارکس دینے پر مجبور ہو گئے کہ یہ معاملہ تو بہت سنجیدہ ہوگیا ہے، یاد رہے کہ کیس کی پچھلی سماعت کے دوران چیف جسٹس بندیال نے تاحیات نااہلی کے قانون کو کالا قانون قرار دیا تھا حالانکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو تاحیات نااہل کرنے کا فیصلہ بھی خود موصوف نے ہی لکھا تھا۔ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عائشہ کی باتیں سن کر جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ جھوٹ بولنے پر نا اہل ہونے والے فیصل واوڈا کا اب ایک اور جھوٹ سامنے آ گیا ہے۔ اس پر واوڈا کے وکیل وسیم سجاد نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا کہ واوڈا کے بیان حلفی کا متن یہ تھا کہ ان کے پاس کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ نہیں ہے۔ لیکن جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ واوڈا کے بیان حلفی میں پاسپورٹ کا مطلب کسی دوسرے ملک کی شہریت ہونا تھا۔ فیصل واوڈا کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس تاحیات نا اہلی کا اختیار نہیں ہے جس پر جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ کے پاس تاحیات نااہل کرنے کا اختیار موجود ہے۔ واوڈا کے وکیل وسیم سجاد نے کیس میں مزید تیاری کیلئے وقت مانگا جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ان سولات کے جواب آپ کو آئندہ ہفتے بھی نہیں ملنے، تاہم عدالت نے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

Back to top button