طالبان واپسی کے بعد KP کے وزرا سے بھی بھتہ مانگنے لگے


سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی زیر قیادت عسکری حکام سے مذاکرات کے بعد پاکستان واپس لوٹنے والی تحریک طالبان کے جنگجوؤں نے اب امرا کے بعد خیبر پختونخوا کی حکومت کے وزراء سے بھی بھتہ مانگنا شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں تازہ ترین دھمکی آمیز خط صوبائی وزیر عاطف خان کو موصول ہوا ہے جس میں ان سے تین روز کے اندر 80 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا گیا ہے۔ طالبان نے صوبائی وزیر خوراک اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی عاطف خان کو ایک خط لکھ کر تنبیہ کی ہے کہ ’آپ ٹی ٹی پی مردان چیپٹر کے مطلوبہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ اگر آپ کو ٹی ٹی پی کے مطلوبہ افراد کی فہرست سے نکلنا ہے تو اسکے لیے 80 لاکھ روپے دینے ہوں گے۔ خط میں صوبائی وزیر کو انتباہ کیا گیا کہ ہمارے پاس آپ کے حوالے سے مکمل معلومات اور ریکارڈ موجود ہے، لہذا 3 روز کے اندر رقم فراہم کریں ورنہ اپنے انجام کے لیے تیار رہیں۔

دوسری جانب عاطف خان نے کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے بھتے کی رقم کا خط موصول ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے خفیہ ایجنسیوں اور وزیر اعلیٰ محمود خان کو بھی اس خط کے حوالے سے آگاہ کردیا ہے۔ عاطف خان سے سوال کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان آپ کو کیسے تحفظ دیں گے کیونکہ وہ تو خود ایسا خط موصول ہونے کے بعد چھپتے پھر رہے ہیں، تو انہوں نے ہنسنا شروع کر دیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سینیٹ کی کمیٹی برائے دفاع کو بریفنگ میں سکیورٹی حکام نے ٹی ٹی پی کے دوبارہ سر اٹھانے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’مبالغہ آرائی‘ قرار دیا تھا۔

سکیورٹی حکام نے ان خبروں کی بھی تردید کی تھی کہ ’ٹی ٹی پی کے مسلح افراد‘ کو امن مذاکرات کے دوران طے پانے والے کسی سمجھوتے کے تحت افغانستان میں ان کے محفوظ ٹھکانوں سے وطن واپس آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ افغان طالبان کے ایماء پر تحریک طالبان کے ساتھ پاکستانی عسکری حکام کے مذاکرات کا آغاز سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید کی زیر قیادت ہوا اور یہ مذاکرات انکے کور کمانڈر پشاور بننے کے بعد بھی جاری رہے۔ لیکن جب طالبان کے مطالبات حد سے بڑھ گئے تو پاکستانی حکام نے نہ صرف فیض حمید کو ٹرانسفر کرکے بہاولپور بھیج دیا بلکہ مذاکرات بھی منسوخ کر دیے۔

یاد رہے کہ ٹی ٹی پی کے سینکڑوں جنگجو پاکستانی سکیورٹی حکام کے ساتھ امن مذاکرات شروع ہونے کے بعد جون اور جولائی میں سرحد پار سے وہاں واپس آ گئے تھے، واپس آنے والے عسکریت پسندوں کو پہلی مرتبہ اگست کے شروع میں سوات کے علاقے دیر میں دیکھا گیا جب انہوں نے ایک فوجی افسر اور ایک پولیس اہلکار کو یرغمال بنایا تھا اور صوبائی حکومت کو مذاکرات پر مجبور کر دیا تھا۔ بعدازاں دونوں کو مقامی عمائدین کے ساتھ بات چیت کے بعد رہا کردیا گیا تھا، اس کے بعد سے علاقے میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے واقعات کی اطلاعات ہیں۔ حالیہ دنوں میں سوات کے عوام نے طالبان جنگجوؤں کی واپسی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی کیے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ طالبان اور عسکری حکام کے مابین مذاکرات کے نتیجے میں تقریباً 450 عسکریت پسندوں کو ہتھیاروں سمیت پاکستان واپسی کی اجازت ملی تھی۔تب یہ بھی کہا گیا تھا کہ انہیں پہاڑیوں میں ہتھیار رکھنے کی اجازت تھی، لیکن انہیں غیر مسلح ہو کر اپنے گھروں میں جانا تھا۔ تب یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ مذاکرات کرنے والوں نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر 100 سے زائد زیر حراست طالبان جنگجوؤں کو رہا کر دیا تھا اور انکے گھر والوں کو واپس جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ لیکن اب عسکری حکام کا دعویٰ ہے کہ ٹی ٹی پی کیساتھ وطن واپسی بارے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا تھا اور چند عسکریت پسند چھپ کر پاک افغان سرحد میں واقع بغیر باڑ والے حصوں سے پاکستان میں گھس آئے ہیں جو دہشت گردی بھی کر رہے ہیں اور بھتے کی پرچیاں بھی بانٹ رہے ہیں۔

Back to top button