کراچی کے مہاجر اب بھی الطاف حسین کے ساتھ کیوں ہیں؟


ایم کیو ایم لندن کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے قومی اسمبلی کی دو سیٹوں پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں بائیکاٹ کی کال کامیاب ہونے کے بعد شہر میں ووٹر ٹرن آؤٹ صرف 20 فیصد رہا۔ یوں ایک مرتبہ پھر بانی ایم کیو ایم نے ثابت کردیا ہے کہ کراچی کے مہاجر عوام اب بھی ان کے ساتھ ہیں اور ایم کیو ایم کے باقی سب دھڑے فارغ ہیں۔ یاد رہے کہ 2018 میں الطاف حسین کی جانب سے فوج کے خلاف ایک تقریر کی جانے کے بعد انکی پارٹی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور انکے تمام قریبی ساتھیوں نے قائد تحریک سے لا تعلقی کا اعلان کر دیا تھا۔ تب سے الطاف حسین کی جماعت ایم کیو ایم لندن اور ان کے باغیوں کی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کہلاتی ہے جو اس وقت بہادر آباد عارضی مرکز سے چلائی جا رہی ہے، لیکن اس دوران ایم کیو ایم کے مزید دو دھڑے بھی وجود میں آ چکے ہیں۔

اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے، آپسی اختلافات اور پسند ناپسند کی بنیاد سے شروع ہونے والا سلسلہ اب گروہ بندی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ ماضی میں کئی ریاستی آپریشن کا سامنا کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ اب اقتدار میں ہونے اور گورنر شپ سمیت وفاقی وزارتیں ہونے کے باوجود بے بس ہے۔ پارٹی میں اس وقت چار گروہ کام کر رہے ہیں، ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کی لابی مضبوط ہو اور وفاق اور صوبے سے معاملات ان کے ذریعے چلائے جائیں۔ کراچی کے ضمنی انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ کی اندرونی دھڑے بندی بھی کھل کر سامنے آ گئی اور ثابت ہو گیا کہ قائد تحریک کہلانے والے الطاف حسین اب بھی الیکشن کے بائیکاٹ کی کال دیں تو اس پر ان کے کارکنان لبیک کہتے ہیں۔ الطاف حسین نے اپنی بائیکاٹ کی اپیل کو کامیاب بنانے پر ایک ویڈیو پیغام میں ورکرز کا شکریہ ادا کیا ہے۔

یاد رہے کہ ضمنی الیکشن میں کراچی کے ملیر اور کورنگی کے دونوں حلقوں سے ایم کیو ایم پاکستان کے امیدواروں کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ بنیادی وجہ یہ ہے کہ مہاجر قوم خالد مقبول صدیقی والی ایم کیو ایم کو اصلی ایم کیو ایم تسلیم نہیں کرتی۔ الطاف حسین سے لاتعلقی کے اعلان کے بعد وجود میں آنے والی ایم کیو ایم پاکستان بھی اب دھڑے بندی کا شکار ہو چکی ہے۔ اس میں سال 2018 میں پہلی بار تب اختلافات سامنے آئے تھے جب سابق سربراہ ایم کیو ایم ڈاکٹر فاروق ستار نے کامران ٹیسوری کو سینٹ الیکشن کا ٹکٹ دیا تھا۔ اس الیکشن میں ایم کیو ایم دو حصوں میں انتخابات کا حصہ بنی تھی اور انہیں پہلی بار الیکشن میں شکست کا سامنا ہوا تھا۔ابتدائی طور پر ایم کیوایم کے دو گروپ سامنے آئے تھے جن میں ایک بہاردر آباد اور دوسرا پی آئی بی کے نام سے تھا۔ اب سندھ میں گورنر کی تعیناتی پر بھی ایم کیو ایم پاکستان تقسیم ہے اور ایک مضبوط گروہ کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ کامران ٹیسوری کو گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔

ایم کیو ایم کو رپورٹ کرنے والے سینئر صحافی عمران احد خان کے مطابق ایم کیو ایم اس وقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، معاملات اتنے آگے نکل گئے ہیں کہ کئی رہنما ایک دوسرے سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس کے علاوہ ایم کیو ایم کی مسلسل ناکامیوں کی ایک وجہ پیپلز پارٹی سے ایم کیو ایم کا اتحاد بھی ہے۔ سندھ کے شہری علاقوں میں رہنے والوں کا ماننا ہے کہ انکے مسائل حل نہ ہونے کی بڑی وجہ پیپلز پارٹی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کا پی پی سے اتحاد عوام میں پسند نہیں کیا جا رہا۔‘عمران احد خان کا کہنا تھا کہ ’سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم پاکستان کی کم ہوتی مقبولیت کی ایک اور وجہ بانی ایم کیو ایم سے لاتعلقی بھی ہے۔ کراچی کے ضمنی انتخابات میں یہ بات رپورٹ ہوئی ہے کہ ووٹنگ ٹرن آئوٹ کم رہا ہے اور بانی متحدہ نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔‘

کراچی کے سینئر صحافی عبدالجبار کے مطابق ’کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کی اپنی کوئی پوزیشن نہیں ہے۔ ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کے دور کی متحدہ قومی موومنٹ کی حیثیت کو اب تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ماضی میں سندھ کے شہری علاقوں کی مقبول جماعت اب اپنی مقبولیت کھو چکی ہے۔‘’آپسی اختلافات اور عوامی مسائل میں غیر سنجیدگی اپنی جگہ لیکن الطاف حسین سے علیحدگی کے بعد اسے کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں کی سیاست میں جگہ نہیں مل سکی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ایم کیو ایم پاکستان کو سندھ کے کئی شہری علاقوں میں شکست سے دو چار ہونا پڑا ہے۔ ماضی میں ایم کیو ایم کے مضبوط سمجھے جانے والے شہری علاقے بھی ایم کیو ایم کے ہاتھ سے چھن گئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی ایم کیو ایم کو مشکلات کا سامنا ہے۔ 1988 کے بعد پہلی بار ایسا ہوا کہ ایم کیو ایم کے پاس شہر کے تمام علاقوں سے انتخابات کے لیے امیدوار بھی پورے نہیں ہوسکے ہیں۔ کئی وارڈ اور یونین کونسل پر ایم کیو ایم نے اپنے نمائندے کھڑے نہیں کیے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان میں بلدیاتی نمائندوں کے حصے کو دیکھنے والے گروپ کی سربراہی وسیم اختر کے پاس ہے۔ این اے 245 میں شکست پر پارٹی میں سخت رویوں کے بعد وہ بھی تقریباً غیرفعال ہی ہیں۔

اس کے علاوہ عامر خان گروپ اپنی مضبوط تنظیمی پوزیشن کے ساتھ موجود ہے اور وفاقی حکومت کے معاملات پر فعال ہے۔ حال ہی میں ایم کیو ایم پاکستان کا حصہ بننے والے رہنما ڈاکٹر صغیر، وسیم آفتاب، سلیم تاجک سمیت دیگر بھی پارٹی کی سرگرمیاں دیکھ رہے ہیں، لیکن ان کی واپسی سے اب تک کوئی خاص جگہ نہیں بن سکی ہے۔ چوتھا اور آخری سسٹم عبدالوسیم اور دیگر کے پاس ہے جنہوں نے حالیہ ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم پاکستان کی انتخابی مہم سمیت دیگر ذمہ داری نبھائی تھی۔ ان سب کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ہیں، لیکن پارٹی رہنماؤں میں ڈسپلن نہ ہونے کی وجہ سے پارٹی سربراہ بھی اپنی حیثیت کھو چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان اس وقت بلدیاتی انتخابات کروانے کے حق میں نہیں ہے، اور اس وقت اگر بلدیاتی انتخابات ہوجاتے ہیں تو متحدہ کراچی کے کئی علاقوں سے سیٹیں نکالنے میں ناکام رہے گی۔

Back to top button