عمران نئے الیکشن کی خاطر لانگ مارچ کیوں نہیں کر رہے؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کا نصرت جاوید نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے حالیہ ضمنی الیکشن کے نتائج نہ توعمران خان کے حق میں ریفرنڈم قرار دیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی انکے نتیجے میں فوری الیکشن کا کوئی امکان نظر آرہا ہے کیونکہ پی ڈی ایم حکومت نے واضح طور پر اعلان کردیا ہے کہ نئے انتخابات موجودہ پارلیمنٹ کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد ہوں گے۔ لہذا اب اپنا انتخابات کا مطالبہ منظور کروانے کے لیے عمران خان کے پاس واحد آپشن لانگ مارچ اور دھرنے کا ہے لیکن وہ اسے استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں کیونکہ اگر یہ حربہ بھی رائیگاں گیا تو ان کا ٹرمپ کارڈ بھی ضائع ہو جائے گا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ضمنی الیکشن کے بعد عمران کامل اعتماد سے یہ اصرار کرتے سنائی دیتے کہ الیکشن نتائج حکومت کے خلاف ”ریفرنڈم“ ہے جس نے ایک بار پھر سے ثابت کر دیا کہ وہ مقبول ترین سیاست دان ہیں۔ لیکن نصرت جاوید کہتے ہیں کہ میں ”ریفرنڈم“ والے دعویٰ کو تسلیم کرنے سے قاصر ہوں۔ تاہم خان صاحب کے خیال میں اتوار کے ”ریفرنڈم“ نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت فوری انتخاب کی شدت سے متمنی ہے۔ انہیں کامل اعتماد ہے کہ فوری انتخابات ہو گئے تو وہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ نہ سہی کم از کم بھاری بھر کم اکثریت سے اقتدار میں واپس لوٹ آئیں گے۔ فوری انتخاب کے مطالبے کو جائز یا ناجائز ثابت کرنے کی بحث میں الجھنا بھی وقت کا زیاں ہو گا۔ یہ سوال مگر اپنی جگہ قائم ہے کہ نئے انتخاب کون دے گا۔ پاکستان کا ”تحریری آئین“ اگر اب بھی کوئی وقعت رکھتا ہے تو نئے انتخابات فقط اسی صورت ممکن ہیں اگر وزارت عظمیٰ کے منصب پر ان دنوں فائز شہباز شریف صدر علوی کو موجودہ قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی درخواست کریں۔ ضمنی انتخابات کے نتائج آ جانے کے بعد شہباز شریف نے واضح طور پر فوری انتخابات کا امکان رد کر دیا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ عمران نے قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں اپنی دوست سیٹیں ہار دی ہیں۔

نصرت جاوید کے بقول اگر ”تحریری آئین“ ہی کو بروئے کار لانا ہے تو فوری انتخاب کے حصول کا دوسرا راستہ یہ ہے کہ عمران اپنے ان اراکین سمیت قومی اسمبلی میں واپس لوٹ آئیں جنکے استعفے ابھی تک سپیکر راجہ پرویز اشرف نے منظور نہیں کیے ہیں۔ لیکن تحریک انصاف اگر اپنے تئیں قومی اسمبلی میں لوٹ بھی آئے تو اس کے پاس شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے والے نمبر موجود نہیں ہیں۔ سابق وزیر اعظم کو ایک بار پھر ان ہی ”اتحادیوں“ سے رجوع کرنا ہو گا جن کے تعاون سے انہوں نے جولائی 2018 ء کے انتخابات کے بعد حکومت بنائی تھی۔ رواں برس اپریل میں وہ ان سے جدا ہو گئے تو شہباز شریف کو برسراقتدار لانے کی چال کامیاب ہوئی۔ آخری وقت پر ساتھ چھوڑ جانے والے ”اتحادیوں“ کو لیکن خان صاحب معاف کرنے کو آمادہ نہیں۔ نئے انتخابات یقینی بنانے کے لئے سابق وزیر اعظم ازخود کوئی سیاسی گیم لگانے کے بجائے ”انہیں“ یاد دلائے چلے جا رہے ہیں کہ ملک کے ”وسیع تر قومی مفاد“ کی خاطر وہ ”نیوٹرل“ رہنے کے بجائے ”سیاسی“ کردار ادا کرنے کو رضا مند ہوجائیں۔ نظر بظاہر ”وہ“ مائل نہیں ہو رہے۔

لہٰذا ”ان“ پر دباؤ بڑھانے کے لئے عمران خان کو اپنے وعدے کے مطابق رواں مہینے کے اختتام سے قبل اسلام آباد پر لانگ مارچ کے ذریعے ”دھاوا“ بولنا ہو گا۔ نواز شریف کی پہلی حکومت کے اختتامی دنوں میں بھی ان دنوں کی اپوزیشن جماعتیں ویسا ہی ماحول بنانا چاہ رہی تھیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو مگر ان دنوں کے آرمی چیف نے مذاکرات کے لئے اپنا ہیلی کاپٹر بھیج کر مدعو کر لیا۔ اس ملاقات کی بدولت ”کاکڑ فارمولا“ نمودار ہوا۔ صدر غلام اسحاق خان اور وزیر اعظم نواز شریف اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے۔ معین قریشی کو امریکہ سے ہنگامی طور پر مدعو کرنے کے بعد عبوری وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ 1993ء میں تاہم ان کی نگرانی میں جو انتخاب ہوئے اس کے نتیجے میں محترمہ بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئیں اور تین برس تک اقتدار میں رہیں۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ میں ہرگز یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ اگر اب کی بار ”کاکڑ فارمولا“ جیسا کوئی راستہ بن گیا تو یہ بالآخر عمران خان کے بجائے ان کے سیاسی مخالفین خاص طور پر نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ ہی کے کام آئے گا۔ یہ بات تقریباً یقینی نظر آ رہی ہے کہ موجودہ حالات میں نئے انتخاب ہوئے تو وہ عمران ہی کو فائدہ پہنچائیں گے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اگر نیوٹرل کی معاونت سے نئے انتخابات عمران خان کی خواہش کے مطابق ”مسلط“ ہوتے نظر آئے تو حکومت میں بیٹھی بے بس و لاچار اتحادی جماعتیں کیا رویہ اپنائیں گی۔ فی الوقت تو یہ نظر آ رہا ہے کہ وقت سے پہلے اقتدار کھو دینے کے بعد یہ جماعتیں عمران کی طرح ”خطرناک“ نہیں بن پائیں گی۔ ”وقت“ مگر کبھی ساکن نہیں رہتا۔ شہباز شریف دباؤ کے تحت مستعفی ہونے کے باوجود شاید ”باغی“ ہونے سے گریز کریں گے۔ لندن میں مقیم ان کے بڑے بھائی مگر یکسر مختلف رویہ اپنا سکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت بھی ”غضب ناک“ ہو سکتے ہیں۔ سندھ میں آئے سیلاب کی تباہ کاریوں نے پیپلز پارٹی کو ویسے ہی بوکھلا رکھا ہے۔ اقتدار سے ”زبردستی“ نکالے جانے کے بعد وہ ایک بار پھر ”سندھ کارڈ“ کو بھی زندہ کر سکتی ہے۔

مگر نصرت جاوید کہتے ہیں کہ یہ حقائق ہمارے روایتی اور سوشل میڈیا میں فی الوقت زیربحث نہیں۔ عمران خان تو انہیں کسی خاطر میں ہی نہیں لا رہے۔ البتہ ملکی سیاست کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے میں اس خدشے کے اظہار کو مجبور ہوں کہ محض عمران کے دباؤ کے تحت ہوئے فوری انتخاب وطن عزیز کو استحکام فراہم نہیں کر پائیں گے بلکہ ملک کو مزید سیاسی عدم استحکام کا شکار کر دیں گے۔

Back to top button