فوج مخالف عمرانڈو سواتی کو بھی ضمانت ملنے کا امکان

جنرل باجوہ کے خلاف عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی جانب سے فوجی جوانوں کو عسکری قیادت کے خلاف اکسانے کے الزام میں ضمانت ملنے کے بعد اب آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے خلاف ٹوئیٹ کرنے والے سینیٹر اعظم سواتی کو بھی ضمانت ملنے جا رہی ہے۔
19 اکتوبر کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف ٹوئٹ کرنے پر گرفتار سینیٹر اعظم خان سواتی کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران ان کے وکیل بابر اعوان نے کہا ہے کہ کسی سیاسی شخصیت کا بیان پاکستان کی آرمڈ فورسز پر اثر انداز نہیں ہوسکتا لہذا ایک ٹوئیٹ پر بغاوت کا کیس بنا دینا مناسب نہیں۔ واضح رہے کہ 17 اکتوبر کو جسمانی ریمانڈ میں مزید ایک روز کی توسیع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اعظم خان سواتی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا تھا جس کے فوری بعد ان کے وکلا کی جانب سے درخواست ضمانت دائر کی گئی تھی جس پر آج سماعت ہوئی۔
اعظم سواتی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کے دوران انکے وکیل بابر اعوان، سپیشل جج سینٹرل راجا آصف محمود کی عدالت میں پیش ہوئے۔وکیل بابر اعوان نے ایف آئی آر پڑھ کر عدالت کو سنائی، انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں اعظم خان سواتی کے ٹوئٹ کو ملکی سالمیت کے خلاف تصور کیا گیا ہے، سات بجے ٹوئٹ کی اور ایک بجے پرچہ ہوگیا، کہاں انکوائری ہوئی اور کب ہوئی؟ تین سے چار گھنٹے میں کارروائی کی گئی مجھے بتایا بھی نہیں۔
انہوں نے دلائل دیے کہ ایف آئی اے بغیر انکوائری کے کیسے بندے کو گرفتار کر سکتی ہے، 7 بجے ٹوئٹ ہوا اور رات کو ایک بجے ایک بندہ شکایت کنندہ بن بھی گیا، پہلے نوٹس ہوتا ہے پھر پرچہ ہوتا ہے لیکن اس کیس میں بغیر انکوائری کے کارروائی کی گئی اور نوٹس نہیں لیا گیا، کسی سیاسی شخصیت کا بیان پاکستان کی مسلح افواج پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ اعظم سواتی کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ایک کیس میں چیف جسٹس نے کہا تھا کہ عدلیہ اور پاکستان کے ادارے اتنے کمزور نہیں ہیں کہ ایک ٹوئٹ سے گر جائیں، آپ بتائیں کہ کہاں بغاوت ہوئی؟ انکا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے صحیح کہا کہ کیا فوج جیسے ادارے اتنے کمزور ہیں کہ ایک ٹوئٹ سے ڈر کر بھاگ جائیں گے؟
بابر اعوان نے کہا کہ جوانوں نے تو سرحدوں پر چھاتیاں پیش کرنی ہوتی ہیں، جواب میں جج نے ریمارکس دیے کہ اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ جس کے منہ میں جو آئے وہ بول دے۔ جج نے بابر اعوان سے کہا کہ آپ ناقابل ضمانت دفعات پر غور کریں اور قابل ضمانت پر بحث نہ کریں، بابر اعوان نے کہا کہ اعظم سواتی بطور پیشہ وکیل بھی ہیں۔اس کے ساتھ ہی سینیٹر اعظم سواتی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان کے دلائل مکمل ہوگئے جس کے بعد عدالت نے اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی کو دلائل دینے کے لیے کہا جس پر انہوں نے دلائل کے لیے مزید وقت مانگ لیا۔جج نے ریمارکس دیے کہ آپ بچے نہیں ہیں کہ آپ کو تیاری کے لیے وقت دیا جائے، تاہم عدالت نے پراسیکیوٹر کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ بابر اعوان کا کہنا ہے کہ اعظم سواتی کو 20 اکتوبر کو ضمانت مل جانے کا قوی امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایف آئی اے نے 17 اکتوبر کو اعظم سواتی کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ کے سینئر سول جج محمد شبیر کی عدالت میں پیش کرکے مزید ریمانڈ کی استدعا کی تھی جسے مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا تھا۔ تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم خان سواتی کو آرمی چیف جنرل باجوہ کے خلاف ٹوئٹ کرنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم سیل نے 12 اور 13 اکتوبر کی درمیانی شب گرفتار کیا تھا۔ ایف آئی اے کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کے مطابق ’پی ٹی آئی کے سینیٹر کو آرمی چیف سمیت ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز اور دھمکی آمیز ٹوئٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا‘۔16 اکتوبر کو انہیں اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ کے ڈیوٹی مجسٹریٹ شعیب اختر کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں ان کا دوسری بار ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا تھا جب کہ اس سے قبل بھی عدالت نے ان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔
