حکومت کا رکن اسمبلی کی گرفتاری سے متعلق رولز میں ترمیم کا فیصلہ

حکومت نے پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم خان سواتی کی متنازعہ ٹویٹ پر گرفتاری کے بعد قومی اسمبلی کے کسی بھی رکن کی گرفتاری سے متعلق رولز میں ترمیم کرنے کا اہم فیصلہ کرلیا۔

مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی محمد سجاد نے ایوان میں ترمیم پیش کی، جس میں لکھا گیا ہے کہ ’جب کسی رکن کو کسی فوجداری الزام پر یا جرم پر گرفتار کرنا پڑے یا کسی انتظامی حکم کے تحت حراست میں لینا پڑے تو سپرد کنندہ جج، مجسٹریٹ یا انتظامی حاکم مجاز گرفتاری کی وجوہات کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری طور پر اسپیکر کی منظوری حاصل کرے گا، ایسی گرفتاری یا حراست کے بعد یا کسی رکن کو قانون کی عدالت کی جانب سے قید کی سزا سنادی جائے تو سپرد کنندہ جج، مجسٹریٹ رکن کے مقام حراست کا قید سے مطلع کرے گا، کسی بھی رکن کو اسمبلی کے احاطے سے گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

باخبر ذرائع کے مطابق متنازع ٹوئٹ کرنے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما اعظم سواتی کی گرفتاری کے معاملے کے بعد حکومتی اتحادی جماعتوں میں بھی ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاریوں پر تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔حکومت ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاریوں کو بغیر اجازت روکنے کے لیے متحرک ہوگئی ہے،حکومت کی طرف سے کی گئی ترامیم کے مطابق کسی بھی رکن قومی اسمبلی کی گرفتاری کے لیے اسپیکر کی منظوری لینا ہوگی۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے نے 17 اکتوبر کو اعظم سواتی کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ کے سینئر سول جج محمد شبیر کی عدالت میں پیش کرکے مزید ریمانڈ کی استدعا کی تھی جسے مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا تھا، پی ٹی آئی سینیٹر اعظم خان سواتی کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف ٹوئٹ کرنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم سیل نے 12 اور 13 اکتوبر کی درمیانی شب گرفتار کیا تھا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کے مطابق ’پی ٹی آئی کے سینیٹر کو آرمی چیف سمیت ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز اور دھمکی آمیز ٹوئٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا،16 اکتوبر کو بھی انہیں اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ کے ڈیوٹی مجسٹریٹ شعیب اختر کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں ان کا دوسری بار ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا تھا جب کہ اس سے قبل بھی عدالت نے ان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

Back to top button