تحریک انصاف اپنی خیبر پختونخواہ حکومت کو خود ہی ڈبونے والی ہے؟

تحریک انصاف کی یہ پالیسی ان کو نتائج دے رہی ہے کہ مسائل حل کرنے کے بجائے احتجاج کرتے جاؤ۔ کوئی ان سے یہ نہیں پوچھ سکے گا کہ جدھر تمہاری حکومت تھی وہ صوبہ ہزار ارب کا مقروض کیسے ہو گیا۔ یہ البتہ یوتھیۓ وفاقی حکومت کو آگے لگا لیں گے کہ ساڈا حق ایتھے رکھ . پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت مرکز کے ساتھ محاذ آرائی تو کر لے گی۔ اس کا جواز بھی کسی حد تک بنا لے گی مگر یہ محاذ آرائی بہت ممکن ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو ہی لے بیٹھے۔ خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ کی وزیراعظم سے ملاقات بتاتی ہے کہ پبلک پریشر اور مالی معاملات سیاست میں نرمی لاسکتے ہیں۔ لوگوں کو تو اپنے کام کرانے ہوتے ہیں وہ کب تک سڑکوں پر رہیں اور احتجاج کریں؟ نیوز ویب سائیٹ وی نیوز کی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں خود پی ٹی آئی کی حکومت 10 سال سے چلی آ رہی ہے۔ 10 سال میں تحریک انصاف نے اپنی شدید محنت، کوشش اور ہمت سے صوبہ دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا ہے۔ خود علی امین گنڈاپور کے الفاظ ہیں کہ جنہوں نے صوبہ کو ہزار ارب کا مقروض کیا ان سے پوچھا تو جانا چاہیے۔ تیمور جھگڑا کو صوبائی وزیر خزانہ نہ بنانے پر چلتی بحث کا یہ جواب گنڈاپور نے نام لیے بغیر دیا۔
علی امین گنڈا پور نے خیبر پختونخوا کا بجلی کا منافع یکمشت ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ فاٹا کے انضمام کے بعد نئی صورتحال کے مطابق نیشنل فنانس بل میں حصہ بڑھانے کا مطالبہبھی کیا ہے۔ ساتھ ایک دو بڑھکیں بھی لگائی ہیں کہ پیسے نہ ملے تو ہم بجلی بھی نہیں دیں گے۔ صوبے میں لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے، اب بجلی کے بلوں کی ادائیگی کرتے صوبہ کی رائلٹی کاٹنے جیسے عوامی مطالبات بھی کیے جائیں گے۔ پی ٹی آئی کی یہ حکمت عملی اچھی ہے،یعنی وفاقی حکومت ابھی ٹھیک سے بنی اور بیٹھی بھی نہیں ہے اور پی ٹی آئی کا اگلا پروگرام تیار ہے۔ علی امین گنڈا پور نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔ اس میں خیبر پختونخوا کے واجبات اور سیاسی امور پر بات چیت بھی ہوئی۔ پی ٹی آئی نے جو حکمت عملی بنائی ہے، بہت زود اثر ہے۔ اے این پی مرحوم خیبر پختونخوا کی تگڑی سیاسی جماعت ہوا کرتی تھی۔ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرنا اور اپنے لیے شناخت کا حصول، کالا باغ ڈیم کی مخالفت 2 ایسے مطالبات تھے جنہوں نے اے این پی کی سیاست کو جوان رکھا۔ صوبے کا نام تبدیل ہو کر خیبر پختونخوا ہوا، کالا باغ ڈیم ویسے ہی کھو کھاتے چلا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اے این پی اللہ کو پیاری ہو گئی۔ یہ جماعت بھاگتی دوڑتی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے لیکن ووٹ سپورٹ اور نوٹ اس سے روٹھ چکے۔ ویسے کپتان نے جو مذہبی سیاسی برانڈ متعارف کرایا اس نے جماعت اسلامی اور جے یو آئی کی مذہبی سیاست بھی ٹھکانے لگا دی ہے۔
تحریر میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کی نااہلی کے لیے ایک دلچسپ کیس بھی فائل ہو گیا ہے۔ کپتان کے ساتھ ملاقاتوں پر وقتی پابندی بھی لگ گئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ہیں۔ ان کا سیاسی بیک گراؤنڈ نہیں ہے وہ نگراں وزارت اعلیٰ سے وفاقی وزارت داخلہ تک پہنچے ہیں۔ کسی کو بہت پیارے ہوں گے تبھی تو ممبر قومی اسمبلی یا سینیٹر بنے بغیر ہی وزیر بن گئے ہیں۔ سینیٹر بھی بن ہی جائیں گے۔ پی ٹی آئی کو سیاسی انداز سے ڈیل کرنے اور لاڈلا رہنے کا جو تاثر تھا وہ محسن نقوی کے وزیر داخلہ بننے کے بعد قائم نہیں رہ سکے گا۔ دھاندلی کی خبروں سے اڑی دھول اب بیٹھ رہی ہے۔ الیکشن نتائج پر اعتراض اور احتجاج کرنے والے بھی حلف اٹھا چکے ہیں۔ معیشت اب حکومت کا فوکس رہے گا۔ نئے وزیر خزانہ ٹیکنو کریٹ ہیں۔ وہ کھاتے سیدھے کریں گے۔ ایسا کریں گے تو شور مچے گا۔ ایک تجویز میڈیا میں رپورٹ ہوئی ہے کہ وفاقی حکومت ان علاقوں میں فنڈنگ بند کر دے جو وفاق کے بجائے صوبوں کی ڈومین ہیں۔ ایسا کر کے وفاق ہزار ارب روپے بچا لے گا۔ ایسا ہوا تو اس بچت کا دوسرا مطلب یہ ہو گا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی چادر سکڑ کر رومال سی رہ جائے گی۔ وفاق سے لڑائی، محاذ آرائی کرنے کو صوبائی حکومت کو ایک اور آپشن مل جائے گا۔ لیکن سوال بس ایک ہی ہے کہ کیا صرف محاز آرائی سے پی ٹی آئی اپنی سپورٹ برقرار رکھ پائے گی؟ کیوں کہ لوگوں کو تو اپنے کام کرانے ہوتے ہیں وہ کب تک سڑکوں پر رہیں گے اور احتجاج کریںگے ؟
