تحریک طالبان نے پاکستان میں اپنے گورنر نامزد کر دئیے


اقوام متحدہ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی تازہ ترین کارروائیاں تحریک طالبان پاکستان اور القاعدہ کے ایک بار پھر متحرک ہونے کا ثبوت ہیں جسکی ایک ممکنہ وجہ افغانستان میں افغان طالبان کا تیزی سے بڑھتا ہوا اثر و رسوخ بھی ہے۔ ماضی میں پاک فوج کے آپریشن کلین اپ کا سامنا کرنے والے جہادی گروپ کے حوصلے اس قدر بلند ہوچکے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان نے ملک کے مختلف شہروں میں اپنے گورنر بھی نامزد کر دیے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پیش کی گئی حالیہ رپورٹ میں یہ بات بتایا گیا ہے کہ امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا اور ملک میں طالبان کے بڑھتے کنٹرول کے پیش نظر تحریک طالبان بھی ایک بار پھر پاکستان میں اپنے پنجے گاڑنے لگی ہے اور اس عمل میں القاعدہ اسکی مدد گار ہے۔ تحریک طالبان کے حملوں کی نئی لہر کا ذکر حال ہی میں ٹی ٹی پی کے امیر نور ولی خان محسود نے سی این این دیے کو گئے اپنے پہلے ویڈیو انٹرویو میں بھی کیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہماری جنگ کا مرکز صرف پاکستان ہے اور پاکستانی طالبان پاکستانی فورسز سے جنگ لڑ رہے ہیں جسکا مقصد قبائلی سرحدی علاقوں کا کنٹرول حاصل کر کے ان کو آزاد بنانا ہے۔
تاہم گذشتہ چند ماہ میں تحریک طالبان کی جانب سے صرف قبائلی علاقوں کو ہی نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ کوئٹہ کے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں واقع فائیو سٹار سرینا ہوٹل کو بھی خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے جبکہ چین کے سفیر بال بال بچ گئے۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔ چنانچہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی تازہ کارروائیاں تحریک طالبان کے دوبارہ متحرک ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی ایک ٹیم کی جانب سے مرتب کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان کی دھڑے بندی کے بعد دسمبر 2019 اور اگست 2020 کے دوران علیحدگی اختیار کرنے والے گروپوں کی جانب سے ٹی ٹی پی میں شمولیت میں تیزی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جماعت الاحرار، حزب الاحرار، شہریار محسود گروپ، امجد فاروقی گروپ، اور لشکر جھنگوی کا عثمان سیف اللہ گروپ تحریک طالبان میں ضم ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ان دھڑوں کی تحریک طالبان پاکستان میں ایک بار پھر شمولیت میں القاعدہ نے ایک ثالث کا کردار ادا کیا جو کہ دونوں گروپوں میں قریبی روابط کا واضح ثبوت ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی اور تحریک طالبان پاکستان کے مابین اب بھی پہلے کی طرح کے تعلقات قائم ہیں۔ سی این این کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے امیر نور ولی محسود کا افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغان طالبان کی فتوحات پر کہنا تھا کہ طالبان کی فتح تمام مسلمانوں کی فتح ہے اور ہمارا ان سے تعلق اسلامی اصولوں، اخوت اور بھائی چارے پر مشتمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک مسلمان کی جیت دوسرے مسلمان کے لیے سود مند ہے لیکن یہ وقت بتائے گا کہ افغان طالبان کی یہ جیت پاکستانی طالبان کے لیے کیسے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان میں دیگر انتہا پسند گروپوں کی شمولیت نے ٹی ٹی پہ کو نہ صرف تقویت پہنچائی ہے بلکہ ان کے جنگجوؤں کی تعداد کو ڈھائی ہزار سے چھ ہزار تک بڑھا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ ایک سال میں آٹھ جہادی گروپ تحریک طالبان پاکستان میں ضم ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک طالبان کی جانب سے حال ہی میں پاکستان کے کئی شہروں میں اپنے گورنر بھی نامزد کئے گے ہیں۔ عمر خالد خراسانی کو پشاور، شاہد عمر کو باجوڑ، مفتی برجان کو مالاکنڈ، علیم خان کو بنوں جبکہ ابو یاسر کو ڈی آئی خان کا گورنر نامزد کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق جہادی دھڑوں کی تحریک طالبان میں شمولیت کے بعد تنظیم کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ایک بار پھر تیزی آئی ہے اور سو سے زائد سرحد پار حملے کیے گئے ہیں۔ ان دھڑوں کی شمولیت سے پہلے اور دوران یعنی سال 2020 کے پہلے چھ ماہ میں تحریک طالبان کی جانب سے 48 حملے کیے گئے تھے جبکہ ان دھڑوں کے ضم ہونے کے بعد یعنی 2020 کے آخری چھ ماہ میں تنظیم کی جانب سے 101 حملے کیے گئے جبکہ 2021 کے پہلے تین ماہ میں تنظیم نے 61 حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ تحریک طالبان میں دھڑا بندی کم ہونے سے نہ صرف اس کے حملوں میں تیزی آئی ہے بلکہ ایک بار پھر اہم افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کی حالیہ مثال سرینا ہوٹل اور قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے ہیں۔ اس کے علاوہ افغان طالبان کی جانب سے چمن کی سرحد کا کنٹرول لیننے کے بعد تحریک طالبان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں پاکستانی عہدیداروں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی جاری کی گئی۔ اس مقصد کے حصول کے لئے کمانڈر نورولی محسود نے پاکستان کے مختلف بڑے شہروں میں ٹی ٹی پی کے گورنر بھی مقرر کر دیے ہیں۔

Back to top button