تحریک طالبان کا شمالی وزیرستان کا کنٹرول لینے کا دعویٰ

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے، جس میں کچھ لوگ تحصیل میر علی چوک میں تحریک طالبان پاکستان کا جھنڈا نصب کرنے کے بعد علاقہ مکینوں کو میرعلی پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کی اطلاع دے رہے ہیں۔ ویڈیو میں خود کو ٹی ٹی پی کے جنگجو ظاہر کرنے والے کچھ افراد رات کی تاریکی میں بندوق تھامے تحریک طالبان کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں اور شمالی وزیرستان کے عوام کے نام پیغام جاری کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی تنظیم کا جھنڈا میرعلی چوک میں گاڑ کر علاقے پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، لہٰذا عوام چین کی نیند سو سکتے ہیں۔ویڈیو میں نظر آنے والے بندوق بردار شخص نے سکیورٹی اداروں کو بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ شمالی وزیرستان سے نکل جائیں ورنہ ایک خونریز جنگ کے لیے تیار رہیں۔

انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے جنوبی و قبائلی اضلاع خصوصاً وزیرستان کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہاں ٹی ٹی پی ایک مرتبہ پھر قدم جمانے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ ویڈیو کے حوالے سے تفصیلات اور حقائق جاننے کے لیے جب ضلعی پولیس افسر شمالی وزیرستان فرحان خان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم انہیں ابھی تک شمالی وزیرستان کے کسی بھی تھانے یا عام عوام کی جانب سے اس ویڈیو کے مصدقہ ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور پولیس حکام میر علی بازار اور دیگر علاقوں میں اس واقعے کی چھان بین کر رہے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ ویڈیو میر علی کی بجائے کسی اور مقام پر ریکارڈ ہوئی  لگتی ہے۔ ڈی پی او شمالی وزیرستان نے کہا کہ میر علی بازار میں تین سو سے زائد دکانیں ہیں، جہاں سٹریٹ لائٹس تمام رات جلتی ہیں، وہاں سکیورٹی اداروں کی موجودگی میں کسی کالعدم تنظیم کی موجودگی اول تو ممکن ہی نہیں اور اگر کوئی ویڈیو ریکارڈ ہوئی بھی ہو تو باآسانی اس چوک یا بازار کے بارے میں فوراً معلوم ہو جاتا۔

ڈی پی او فرحان خان نے کہا کہ اس علاقے میں تحریک طالبان کے جنگجوئوں کی موجودگی اور نقل و حرکت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ شمالی وزیرستان ایک بہت بڑا علاقہ ہے، جہاں کئی ویران اور سنسان مقامات اور رستے بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں ضرور ٹی ٹی پی کی نقل و حرکت ہو گی، لیکن کسی شہری علاقے میں یوں کھلم کھلا انکا گھومنا اور جھنڈے لگانے مبالغہ آرائی لگتی ہے۔انڈپینڈنٹ اردو نے تھانہ میرعلی کے پولیس حکام سے بھی بات کی، جنہوں نے کہا کہ نہ تو علاقہ مکینوں کی جانب سے کوئی اطلاع ملی ہے اور نہ انہیں تحقیقات کرنے پر کوئی ثبوت ملا ہے۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر یہ خبر پھیلائی جا رہی ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ کسی صحافی نے تصدیق کے لیے ابھی تک ان سے رابطہ نہیں کیا۔ اگرچہ ویڈیو کی تصدیق اپنی جگہ باقی ہے، لیکن ٹی ٹی پی کے قبائلی اور دیگر اضلاع میں موجودگی سے پولیس حکام انکار نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ رواں سال مئی کے مہینے میں پاکستان حکومت نے مذاکرات کی راہ اپناتے ہوئے افغان طالبان کی ثالثی میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے لیے ایک وفد افغانستان بھیجا تھا، تاہم کالعدم ٹی ٹی پی نے کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل اپنی چند شرائط حکومت پاکستان کے سامنے رکھیں، اور عارضی مدت کے لیے جنگ بندی پر متفق ہو گئی۔ 30 نومبر 2022 کو کوئٹہ میں انسداد پولیو مہم کی ٹیم پر حملے کے بعد اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ٹی ٹی پی نے دوبارہ فائر بندی ختم کا اعلان کیا، جس کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے میڈیا کو بتایا تھا کہ قبائلی اضلاع میں جاری صورت حال کی وجہ سے مذاکرات کا عمل متاثر ہوا ہے، تاہم انہوں نے دوبارہ تحریک طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کی اور انہیں ہتھیار پھینک کر مذاکرات کی میز پر آنے کا کہا۔

تحریک طالبان کی جانب سے 28 نومبر کو ایک اعلان جاری ہوا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ضلع لکی مروت سمیت مختلف علاقوں میں پاکستان فوج کی جانب سے آپریشنز ہو رہے ہیں لہٰذا اب وہ بھی ملک بھر میں حملے کر سکتے ہیں۔ اس صورت حال کے بعد بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ مذاکرات کا عمل ناکام ہو گیا ہے، جو کہ حالیہ بنوں  واقعے سے مزید واضح ہو جاتا ہے، جس میں ٹی ٹی پی اور پاکستان فوج دونوں جانب سے سختی دکھائی گئی، اور کسی نے ایک دوسرے کی کوئی شرط نہیں مانی۔ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے متحدہ قبائل کمیٹی کے رکن اور قبائل عوامی پارٹی کے بانی اعظم محسود نے بتایا کہ ان مذاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جو وفد بھیجا گیا اس میں قبائلی اضلاع کے حقیقی نمائندگی کرنے والوں کو شامل نہیں کیا تھا۔ بلکہ جن لوگوں کو حکومت یا اداروں نے منتخب کیا تھا وہی لوگ گئے اور ناکام ہو کر لوٹ آئے۔ انکا کہنا تھا کہ ہمارے مسائل سے آشنا لوگ ہی طالبان کے ساتھ ان کی زبان میں بات کر سکتے ہیں۔ اگر وہی لوگ مذاکرات کے لیے جاتے جن کو قبائلی رسم و رواج اور روایات پر عبور حاصل ہے تو حالات کچھ اور ہوتے۔ جرگہ کرنے والے کبھی بطور قاصد نہیں جاتے بلکہ بطور ثالث جاتے ہیں، ورنہ یہ جرگہ توہین تصور ہوتا ہے۔‘

اعظم خان نے موجودہ حالات کے بارے میں بتایا کہ پولیس اور انتظامیہ اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ایسے واقعات کی تردید کرتی ہے، وگرنہ ٹی ٹی پی کی جانب سے ایسی ویڈیوز کا سوشل میڈیا پر چلانا اور ان کی جنوبی و شمالی وزیرستان میں نقل و حرکت کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں کچھ ہی ماہ قبل لدھا، کانی گرم اور بدر کے علاقوں میں تحریک طالبان کے جھنڈے لگائے گئے تھے۔ یہ لوگ باقاعدہ رات کو روڈ پر ناکے لگاتے ہیں، مکین میں جب اسی طرح جھنڈے لگائے گئے تھے تو تب حکومت کے حامی سرینڈر شدہ طالبان جیگری گروپ نے طالبان کو چیلنج بھی کیا تھا کہ اگر عام لوگوں کو ان سے کوئی نقصان پہنچا تو ذمہ داری ٹی ٹی پی عائد ہو گی۔

Back to top button