تحریک لبیک پر پابندی واپس لینے پر اختلاف کیوں ہوا؟

وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان پر عائد پابندی ختم کرنے کی منظوری تو دے دی ہے لیکن یہ فیصلہ متفقہ نہیں تھا اور کئی اہم وفاقی وزرا نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ٹی ایل پی کو کالعدم جماعتوں کی لسٹ سے نکالا گیا تو سپاہ صحابہ پاکستان اور لشکر طیبہ کے علاوہ الطاف حسین کی ایم کیو ایم پر بھی پابندی کا جواز ختم ہو جائے گا اور یہ جماعتیں بھی پابندی ہٹانے جانے کا مطالبہ کر دیں گی۔ اپنے اختلافی نوٹ میں مخالفت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے وفاقی وزرا نے موقف اختیار کیا کہ ان تین تنظیموں کے جرائم بھی وہی ہیں جو کہ ٹی ایل پی کے ہیں لہذا بہتر یہی ہوگا کہ سب شدت پسند عناصر سے ایک ہی طرح نمٹا جائے اور لبیک کو کالعدم ہی رہنے دیا جائے۔ یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ ٹی ایل پی کو کلیئر کرنے سے عالمی منظر نامے پر بھی برے اثرات مرتب ہوں گے اور پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کا موقف تھا کہ چونکہ تحریک لبیک کے ساتھ پابندی ختم کرنے کا معاہدہ ہو چکا ہے لہذا پیچھے ہٹننے کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کا ہے اور وہ اس معاملے میں انکے ساتھ ایک ہی پیج پر ہیں۔ لہذا وفاقی کابینہ کے کچھ لبرل اراکین کے تحفظات کے باوجود وزیر اعظم عمران خان نے تحریک لبیک کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے ہٹانے کی وزارت د اخلہ کی سمری منظور کر لی۔
وزارت داخلہ کے مطابق یہ سمری وفاقی کابینہ کے 27؍ وزراء کو بزریعہ سرکولیشن منظوری کیلئے بھیجی گئی تھی جس کی منظوری کیلئے 1 وزراء کی حمایت درکار تھی۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ وفاقی وزراء نے اپنے سابقہ موقف کے عین مطابق قانونی وجوہات کی بناء پر اس سمری کی مخالفت کی۔ ایک اہم وزیر کا تو یہ موقف تھا کہ تحریک لبیک پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ قومی مفاد کے نام پر کیا جا رہا ہے حالانکہ ایسا کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے اور اس کا خمیازہ نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلیں بھی بھگتیں گی۔ لیکن ان خیالات کے حامل وزراء کی تعداد زیادہ نہیں تھی لہذا لبیک کو بحال کرنے کی سمری واضح اکثریت سے منظور ہو گئی۔ سینئر صحافی اعزاز سید کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹی ایل پی اور حکومت کا معاہدہ دو وزراء یعنی شاہ محمود قریشی اور علی محمد خان کے سوا کسی کو نہیں دکھایا گیا جس سے کابینہ ارکان کی فیصلہ سازی کے انداز پر سوال اٹھتے ہیں۔ یعنی کابینہ کے اکثریتی وزراء نے لبیک سے پابندی ہٹانے کی منظوری تو دے دی لیکن ایسا کرتے ہوئے انہوں نے یہ جاننے کی جسارت نہیں کی کہ اصل میں اس حوالے سے معاہدہ کیا ہوا ہے۔
لیکن اس بارے ایک سابق کابینہ سیکریٹری کا کہنا تھا کہ معاہدے کی معلومات نہ ہونے سے کابینہ کے فیصلے پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ وزیر کا استحقاق ہے کہ وہ اس معاملے پر سوال اٹھائے یا نہیں۔ لیکن وزرا کو یہ ضرور بتایا گیا تھا کہ ٹی ایل پی نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ آئندہ پر تشدد مظاہرے نہیں کرے گی۔ تاہم کچھ وزیروں نے سمری پر دستخط سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا اور وزیراعظم کو بتایا کہ اس سے نہ صرف حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی متاثر ہوگی۔ یہ وارننگ بھی دی گئی کہ اگر پابندی کا شکار دیگر تنظیمیں اس فیصلے کو بنیاد بناتے ہوئے عدالت چلی گئیں تو حکومت کے لیے سنجیدہ مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ لہذا یہ تجویز بھی دی گئی کہ اس فیصلے کے دونوں پہلوئوں پر مفصل بحث کی جائے۔ اعزاز سید کے مطابق ایک وزیر نے اپنے اختلافی لکھا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کی سیکشن 11 بی کے تحت کسی تنظیم کو تب دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے جب وہ دہشت گردی میں ملوث ہو، دہشت گردی کی تیاری کرے، دہشت گردی کی سرپرستی کرے، اس کی حمایت یا معاونت کرے، مذہبی بنیادوں پر نفرت پھیلانے کا باعث بنے، فرقہ ورانہ یا نسلی و لسانی بنیادوں پر امن عامہ میں خلل ڈالے یا ایسے لوگوں کو ہیرو سمجھے جو دہشت گردی میں ملوث ہوں۔ وفاقی وزیر نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ یہ تمام الزامات ٹی ایل پی صادق اتے ہیں۔ ٹی ایل پی کی قیات کیخلاف دہشت گردی اور۔پولیس والوں کے قتل کے مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ وزیر نے اپنے اختلافی نوٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے غلام حسین کیس کے فیصلے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 6؍ میں دہشت گردی کے حوالے سے منصوبے اور مقصد کے بارے میں بات واضح کر دی تھی، اور تحریک لبیک اس تشریح پر پورا اترتی ہے۔ اختلافی نوٹ میں یاد دلایا گیا کہ سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس میں واضح کر دیا تھا کہ ٹی ایل پی کی سرگرمیاں ماورائے آئین ہیں۔ اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران ٹی ایل پی کو روکتے ہوئے 6 پولیس اہلکار شہید ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے، اگر ان کے قاتلوں کو سزا نہ دی گئی تو یہ شہداء کے ساتھ دھوکا ہوگا، اگر حکومت پولیس کے ساتھ کھڑی نہ ہوئی تو مستقبل میں حکومت کیا، ریاست کے ساتھ بھی کوئی کھڑا نہیں ہوگا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اگر لبیک کو کالعدم جماعتوں کی لسٹ سے نکالا گیا تو ریاست کی اتھارٹی ختم ہو جائے گی اور قانون کے اداروں خصوصاً پولیس کی رٹ بھی صفر ہو جائے گی۔ لبیک پر پابندی کے خاتمے کی مخالفت کرنے والے وزرا نے یہ وارننگ بھی دی کہ اس سے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے لیے اور بھی مشکلات پیدا ہو جائیں گی اور ملک عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔
تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے موقف اختیار کیا کہ اب چونکہ لبیک سے معاہدہ ہو چکا ہے لہٰذہ پیچھے ہٹنا ممکن نہیں اور ویسے بھی اس معاہدے میں مرکزی کردار فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ہے۔ چنانچہ حکومت نے 8 نومبر کو اتوار کی چھٹی کے باوجود پھرتیاں دکھاتے ہوئے انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997کی ذیلی شق ایک کے تحت تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم جماعتوں کی لسٹ سے نکال دیا۔
