تحریک لبیک کا اسلام آباد دھرنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج

تحریک لبیک پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کے سنگم میں واقع فیض آباد چوک پر دیا جانے والا دھرنا وفاقی حکومت کے لیے ایک پریشان کن چیلنج بنتا جا رہا ہے چونکہ وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ جب تک پاکستان میں تعینات فرانس کے سفیر کو واپس نہیں بھیجا جاتا، وہ دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ تاہم حکومت پاکستان نے ابھی تک ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
یاد رہے کہ تحریکِ لبیک نے اتوار 25 نومبر کو فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف راولپنڈی میں لیاقت باغ سے فیض آباد تک ’ناموسِ رسالتِ ریلی نکالی تھی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔ اس کے شرکا پیدل راولپنڈی سے مارچ کر کے رات گئے اسلام آباد میں فیض آباد پل پر پہنچے جہاں انہوں نے دھرنا دے دیا۔ یہ وپی مقام ہے جہاں یہ جماعت 2017 اور پھر 2018 میں بھی دھرنا دے چکی ہے اور ماضی میں خفیہ ایجنسیوں سے ایک معاہدے کے بعد اس نے دھرنا ختم کیا تھا۔ 2017 میں دھرنا ختم کرنے کے کے معاہدے پر لیفٹیینٹ جنرل فیض حمید نے دستخط کیے تھے جو اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ ہیں۔ یہ معاہدہ تحریک لبیک کے سربراہ خادم رضوی کے ساتھ کیا گیا تھا۔ تاہم اتوار کی رات فیض آباد میں دیا جانے والا دھرنا ختم ہونے کا ابھی کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ لبیک کے ترجمان قاری زبیر کے مطابق مولانا خادم حسین رضوی نے ہدایت کی ہے کہ جب تک حکومت پاکستان فرانس کے سفیر کو بے دخل نہیں کرتی اور فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم نہیں کرتی ان کا دھرنا چلتا رہے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ ابھی کوئی حکومتی نمائندہ ان سے مذاکرات کے لیے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ اس ریلی اور دھرنے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ زخمیوں میں ٹی ایل پی کے کارکن اور پولیس اہلکار دونوں شامل ہیں۔ تحریک لبیک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی پولیس اب تک ان کے سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کر چکی ہے۔ دوسری طرف پولیس کا دعویٰ ہے کہ ریلی میں شریک مظاہرین نے نہ صرف مری روڑ پر واقع دکانوں میں توڑ پھوڑ کی بلکہ وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ بھی کیا تھا۔ راولپنڈی پولیس نے 200 سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ فیض آباد میں ہونے والے دھرنے کے باعث راستے بند سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے رہائشیوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔دھرنے کی وجہ سے اسلام آباد ہائی وے کو کھنہ پل کے مقام پر بند کر دیا گیا ہے جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے دیگر راستوں پر بھی ناکے لگا دیے گئے ہیں یا انھیں کنٹینر رکھ کر بند کیا گیا ہے۔ دھرنے کے مقام کی جانب جانے والے تمام راستے بھی بند ہیں جبکہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے ٹریفک کے لیے متبادل راستوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور خاص طور پر ڈپلومیٹک انکلیو کی طرف جانے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں پولیس کے علاوہ رینجرز کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ 16 نومبر بروز پیر کو راستوں کی بندش کی وجہ سے جہاں بچوں کی ایک بڑی تعداد سکول نہیں جا سکی وہیں پاک سیکریٹریٹ سمیت دیگر اہم نجی و سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے لوگ بھی کام پر جانے سے قاصر رہے۔ راولپنڈی، اسلام آباد کے بیشتر علاقوں میں اتوار کی صبح سے موبائل فون سروس بند کی گئی تھی جو پیر کو جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ دھرنے کے مقام پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس دونوں معطل ہیں جبکہ جڑواں شہروں میں انٹرنیٹ کی سروس عمومی طور پر متاثر ہے۔ اتوار کو ریلی کے دوران جماعت کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کے دوران بھاری مقدار میں آنسو گیس بھی استعمال کی تھی۔ ٹی ایل پی کا دعویٰ ہے کہ ریلی کے دوران پولیس کی جانب سے ہونے والی آنسو گیس شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں لگنے سے اُن کے 50 سے زائد کارکن زخمی ہوئے ہیں تاہم پولیس حکام نے اس کی تردید کی ہے۔ ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس سے درجن بھر اہلکار بر طرح زخمی ہوئے ہیں۔
دھرنے میں موجود تحریک لبیک کے ترجمان قاری محمد زبیر نے الزام لگایا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب سے راولپنڈی پولیس اور اسلام آباد پولیس کی جانب سے شیلنگ کا سلسلہ جاری ہے اور رات گئے سے اب تک صرف دو گھنٹوں کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ رکی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ شیلنگ کی وجہ سے ٹی ایل پی کے 50 کے قریب کارکن زخمی ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے کارکن پُرامن تھے لیکن پولیس نے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کر کے اُنھیں احتجاج کرنے اور دھرنا دینے پر مجبور کر دیا۔ تاہم راولپنڈی اور اسلام آباد میں پولیس کے حکام اس دعوے کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا کہ مظاہرین نے ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض تصاویر میں پولیس کے زخمی اہلکاروں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اتوار کی شب تحریک لبیک کی ریلی فیض آباد پہنچنے پر انتظامیہ نے فیض آباد سمیت گرد نواح کی سٹریٹ لائٹس بند کر دی تھیں۔ راولپنڈی کے ایک رہائشی نے بتایا کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان اتوار کی شام کے بعد سے شدید جھڑپیں شروع ہوئی تھیں۔ اس دوران پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی تھی اور لاٹھی چارج بھی کیا تھا جس کے بعد ہنگامے شروع ہوگئے اور دونوں اطراف سے لوگ زخمی ہوئے۔
پولیس اور تحریک لبیک کے کارکنوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں پولیس کی جانب سے فائر کیے گئے آنسو گیس کے شیل مقامی آبادی اور بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی میں بھی گرے۔ جس کے باعث گھروں میں موجود خواتین، بچوں اور بزرگ افراد سمیت ہسپتال میں مریضوں کے ساتھ ساتھ تیمارداروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دلچسپ بات یہ یے کہ جب مظاہرین اتوار کی شام لیاقت باغ سے چلے تو اس موقع پر پولیس نے جلوس کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ اب جبکہ وہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں تو پولیس کے لئے ان کو قابو کرنا مشکل تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق خادم حسین رضوی کے بیٹے سعد رضوی جلوس میں موجود ہیں اور مظاہرین کی قیادت کر رہے ہیں جو کہ ڈنڈوں اور پتھروں سے لیس ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس ان مظاہرین کو کتنا جلد منتشر کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔
