گلگت میں اگلی حکومت بنانے کا فیصلہ آزاد امیدوار کریں گے

گلگت بلتستان کی تاریخ کے تیسرے انتخابات میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور یہ بھی پہلی مرتبہ ہے کہ حکومتی پارٹی ریاستی مشنری اور وسائل کے بھر پور استعمال کے باوجود گلگت میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں آ سکی۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں اس مرتبہ حکومتی جماعت پی ٹی آئی آزاد امیدوار کو ساتھ ملا کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے یا پھر پیپلز پارٹی اور نون لیگ آزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
گگت کی 23 نشستوں کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف 9 عدد نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے جبکہ آزاد امیدوار 7 سیٹیں جیت کر دوسرے، پیپلز پارٹی 4 عدد نشستوں کے ساتھ تیسرے اور (ن) لیگ دو نشستوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ مجلس وحدت مسلمین ایک سیٹ جیت کر پانچویں نمبر پرہے۔ ذرائع کے مطابق فتح یاب ہونے والے7 آزاد امیدواروں میں سے دو کو پی ٹی آئی اور دو کو پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل تھی اور وہ اس جماعت کے ساتھ جائیں گے جو حکومت بنانے کی پوزیشن میں دکھائی دے گی۔
یاد رہے کہ حکومت بنانے کے لئے کم از کم 15 اراکین اسمبلی کی حمایت درکار ہوتی ہے جو پی ٹی آئی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے وفاق میں اپنے اقتدار کے دوران گلگت میں تقریبا اتنے ہی ممبران کی حمایت سے اپنی حکومتیں قائم کی تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ 9 نشستیں جیتنے کے باوجود پی ٹی آئی کی جانب سے وزارت اعلی کے مضبوط امیدوار ناشاد سکردو کے حلقے سے الیکشن ہار گئے ہیں۔ اسی طرح پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گلگت بلتستان کے سابق گورنر مہدی شاہ اور نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلی حفیظ الرحمن بھی الیکشن میں اپنے مخالفین سے شکست کھا گئے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی نے جی بی ٹو کے نتائج چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جی بی ٹو میں رات کو پیپلز پارٹی کے امیدوار جمیل احمد کو کامیاب قرار دیا گیا تھا جبکہ علی الصبح تحریک انصاف کے امیدوار فتح اللہ خان کو صرف دو ووٹوں کے فرق سے کامیاب قرار دیا گیا جسے پیپلز پارٹی نے مسترد کرتے ہوئے ہر فورم پر اسے چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ اگر پیپلزپارٹی جمیل احمد کی نشست بھی حاصل کر لیتی ہے تو پھر اس کے جیتنے والے امیدواروں کی تعداد چار سے بڑھ کر پانچ ہو سکتی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے کامیاب امیدواروں کی تعداد 9 سے کم ہو کر آٹھ رہ جائے گی۔
دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن نے گلگت انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز نے گلگت بلتستان کے الیکشن نتائج کو مسترد کرتے ہوئے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا نہ پہلے کوئی وجود تھا نہ اب ہے۔ اس کو بھیک میں ملنے والی چند سیٹیں دھونس، دھاندلی، مسلم لیگ ن سےتوڑے گئے امیدواروں اور سلیکٹرز کی مرہون منت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق میں موجود حکمران جماعت کو پہلی بار یہاں ایسی شکست فاش ہوئی ہے۔ یہ شکست آنے والے دنوں کی کہانی سنارہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی گلگت بلتستان کے الیکشن میں دھاندلی اور ریاستی طاقت کے استعمال کے الزامات عائد کیے ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ بلاول بھٹو بھی گلگت الیکشن کے نتائج کو مسترد کر دیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے گلگت بلتستان اسمبلی کی 23 عام نشستوں پر اتوار کو ہونے والی پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی اورغیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق اب تک کسی جماعت نے واضح اکثریت حاصل نہیں کی۔
وفاق میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر چھوٹی بڑی جماعتیں میدان میں ہیں۔ اب تک موصول ہونے والے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق 23 میں سے 9 نشستیں تحریک انصاف اور 7 نشستیں آزاد امیدواروں نے حاصل کی ہیں۔ پیپلز پارٹی کو چار اور مسلم لیگ (ن) کو دو نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔ تاہم دونوں بڑی اپوزیشن جماعتیں گلگت بلتستان کے الیکشن نتائج سے مطمئن نہیں ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن فیئر اور فری ہوتے تو نتائج بہت مختلف آتے۔ دوسری طرف سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دراصل پی ٹی آئی نے جو 9 سیٹیں جیتی ہیں وہ ماضی میں نون لیگ کے پاس تھیں لیکن الیکشن سے پہلے حکومتی پارٹی نے ان تمام الیکٹیبلز کو توڑ کر اپنے ساتھ ملا لیا تھا لہذا وہ لوگ کامیاب ہو گئے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے الیکشن میں جیتنے والے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو حکومت کی وجہ سے ووٹ نہیں ملے بلکہ امیدواروں کی وجہ سے ووٹ ملے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے لیے گلگت الیکشن کے نتائج مایوس کن ہیں اور ان کا بھی یہی خیال ہے کہ انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی اور ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان میں 15 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جو حرکتیں 2018 کے پاکستان کے عام انتخابات میں کیں وہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی بھرپور طریقے سے نظر آئیں، جو کردار پچھکے الیکشن میں انٹیلی جینس ایجنسیز کا تھا وہ یہاں بھی تھا اور اسی طرح سے تھا۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وفاقی وزرا آخری دن تک انتخابی مہم میں حصہ لیتے رہے اور اس پر اثر انداز ہوتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزرا کی بڑی تعداد الیکشن کمیشن کے متعین کردہ ضابطہ اخلاق اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتی رہی جبکہ امور کشمیر کے وزیر انتخابی مہم کے پہلے روز سے آخری دن تک وہاں رہے اور 200 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی کاموں کے وعدے کر کے ووٹ لیے گئے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انتخابات میں مداخلت کا عمل اور قبل از انتخابات دھاندلی ڈھائی سال پہلے ہی شروع ہوگئی تھی جب وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان حکومت کے انتخابات کے اختیارات واپس لے کر انہیں خود فیصلے کرنے سے روک دیا تھا،ترقیاتی کام، فنڈز کا اجرا روک دیا گیا اور انتخابات سے 4 ماہ قبل ہی تمام کاموں پر پابندی عائد کردی گئی۔ یہ بھی یاد رہے کے گلگت بلتستان اسمبلی کے پچھلے الیکشن میں نواز شریف کی جماعت نے حکومت بنائی تھی چونکہ اس وقت وفاق میں مسلم لیگ نواز برسر اقتدار تھی۔
تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں اس مرتبہ حکومتی جماعت پی ٹی آئی آزاد امیدوار کو ساتھ ملا کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے یا پھر پیپلز پارٹی اور نون لیگ آزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت بنان میں کامیاب ہوتے ہیں۔
