کیا ریاست تحریک لبیک کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گی؟


پاکستانی سیاست میں تھرتھلی مچا دینے والی شدت پسند مذہبی جماعت تحریک لبیک اپنے بانی امیر علامہ خادم حسین رضوی کی وفات کے کچھ مہینوں بعد ہی پابندی کا شکار ہو کر کالعدم قرار دے دی گئی ہے اور اب ریاست نے اس کی تدفین کا عمل شروع کردیا ہے۔
بریلوی مکتبِ فکر کی جماعت ‘ٹی ایل پی’ کا قیام پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے پولیس اہل کار ممتاز حسین قادری کی رہائی مہم کے دوران عمل میں لایا گیا۔ تاہم باقاعدہ ایک سیاسی جماعت کے طور پر اس کے قیام کا اعلان جنوری 2017 میں کراچی کے نشتر پارک کے ایک جلسے میں کیا گیا تھا۔خیال رہے کہ سلمان تاثیر کو جنوری 2011 میں اُن کی اپنی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہل کار ممتاز حسین قادری نے توہینِ مذہب کا الزام لگاتے ہوئے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ بعدازاں 2016 میں ممتاز قادری کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ یاد رہے کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے پاکستان میں توہینِ مذہب قانون میں تبدیلی پر زور دیتے ہوئے اسی الزام میں جیل میں قید ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کی بات کی تھی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو بے گناہ قرار دے کر بری کردیا تھا۔ اپنے قیام کے بعد سے تحریک لبیک نے مختلف مواقع پر اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے اہم راستے فیض آباد انٹرچینج سمیت ملک کے مختلف شہروں میں دھرنے دیے جس کی وجہ سے ملک میں نظامِ زندگی مفلوج ہوتا رہا۔ اس دوران یہ تاثر تقویت پکڑ گیا کہ تحریک لبیک کو اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل ہے اور وہ اسی کے کہنے پر منتخب حکومتوں کے لیے مسائل پیدا کرتی ہے۔ تحریک لبیک کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہونے کا تاثر تب مزید مضبوط ہوا جب نواز لیگی حکومت کے خلاف 2017 میں دیا گیا دھرنا ختم کرنے کے لیے آئی ایس آئی کے تب کے میجر جنرل اور آج کے ایجنسی سربراہ فیض حمید نے علامہ خادم حسین رضوی کے ساتھ ایک تحریری معاہدے پر دستخط کیے۔ دلچسپ ترین بات یہ تھی کہ دھرنے کے اختتام پر شرکاء میں پیسوں کی تقسیم بھی کی گئی جس کی ویڈیو فوٹیج آج دن تک سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
ٹی ایل پی کے بانی علامہ خادم حسین رضوی پنجاب کے شہر لاہور میں محکمۂ اوقاف کے زیرِانتظام ایک مسجد کے خطیب تھے لیکن اُن کی جانب سے ممتاز قادری کے سفاکانہ عمل کی کھل کر حمایت کرنے پر محکمہ اوقاف نے انہیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔ نکالے جانے کے بعد نہ صرف خادم رضوی نے پاکستان میں توہینِ مذہب قانون اور آئین کی شق 295 سی کے تحفظ کے لیے تحریک چلائی بلکہ وہ ممتاز قادری کی رہائی کے لیے بھی سرگرم رہے۔ خادم رضوی نومبر 2020 میں کرونا سے انتقال کر گئے تھے جن کی جگہ انکے بیٹے سعد حسین رضوی کو جماعت کا سربراہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ سلمان تاثیر کے جنونی قاتل ممتاز قادری کی رہائی کے لیے پنجاب سے تعلق رکھنے والے بریلوی مکتبِ فکر کے علمائے کرام علامہ خادم حسین رضوی اور پیر محمد افضل قادری کی قیادت میں ایک تحریک شروع کی گئی جسے ابتداا میں ‘تحریک لبیک یا رسول اللہ’ کا نام دیا گیا۔ قادری کی پھانسی کے بعد فروری 2016 میں اس کے جنازے کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے ملک بھر کے بریلوی مکتبۂ فکر کی مذہبی قیادت کا اسلام آباد میں ایک اجلاس ہوا جس میں جمعیت علمائے پاکستان کے دونوں دھڑوں کے سربراہان علامہ شاہ اویس نورانی، ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر اور سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری سمیت علامہ خادم حسین رضوی، ڈاکٹر اشرف آصف جلالی وغیرہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں شریک کراچی کے بریلوی مکتبِ فکر کے ایک رہنما نے بتایا کہ خادم رضوی اور ان کے ہم خیال مذہبی رہنما اس بات پر زور دے رہے تھے کہ توہینِ مذہب قانون اور اس کی شق 295 سی کے تحفظ کے لیے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کر کے وہاں دھرنا دیا جائے۔اُن کے بقول خادم رضوی نے یہ بھی تجویز دی کہ بریلوی مکتبِ فکر کے تمام گروہ اپنی اپنی تنظیمیں ختم کر کے ایک نئی جماعت قائم کریں جس کا نام ‘تحریک لبیک یارسول اللہ’ ہو۔
اس مذہبی رہنما کے بقول ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر اور علامہ شاہ اویس نورانی نے نئی جماعت بنانے اور اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی مخالفت کی جبکہ مفتی منیب الرحمن، علامہ راغب نعیمی اور کچھ دیگر رہنماؤں نے بھی جے یو پی کے رہنماؤں کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے خادم رضوی اور ان کے ہم خیال ساتھیوں کو پر تشدد تحریک چلانے کے بجائے بریلوی جماعتوں کا ایک اتحاد تشکیل دینے کا مشورہ دیا۔
شرکا کی اکثریت نے خادم رضوی کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے ایک جماعت کی تشکیل کرنے کی مخالفت کو مصالحت کی کوشش قرار دیا اور یوں علامہ خادم حسین رضوی، ڈاکٹر اشرف آصف جلالی، سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری اوردیگر رہنماؤں نے مل کر ‘تحریک لبیک یارسول اللہ’ کے نام سے نئی جماعت قائم کر دی۔ 2017 میں مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں قومی اسمبلی کے ارکان کے حلف نامے میں مبینہ تبدیلی پر ٹی ایل پی نے اس وقت کے وزیرِ قانون کا استعفیٰ طلب کیا۔ تحریک لبیک نے اسلام آباد کی جانب مارچ کر کے وفاقی دارالحکومت کو تین ہفتوں تک بند کیے رکھا۔ بعدازاں فوج کی ثالثی کے بعد حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ٹی ایل پی دھرنا ختم کرنے پر راضی ہو گئی اور وفاقی وزیر قانون زاہد حامد مستفعی ہوگے۔ یوں حکومت کو معاہدے کے لیے دباؤ میں لانے میں کامیابی سے ٹی ایل پی کی حوصلہ افزائی ہوئی اور یہ مزید منظم ہوئی۔
ٹی ایل پی کے اس دھرنے پر سپریم کورٹ نے فروری 2019 میں ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ سنایا جو فیض آباد دھرنا کیس کے نام سے مشہور ہوا۔ سپریم کورٹ کے دو رُکنی بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی شامل تھے۔ عدالت نے حکومت کو حکم دیا کہ وہ ایسے فوجی اہل کاروں کے خلاف کارروائی کرے جو اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی معاملات میں مداخلت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ عدالتی حکم میں سڑکیں بلاک کرنے اور نقصِ امن کے مسائل پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔ اس دوران ایک فوجی افسر کی جانب سے دھرنے کے اختتام پر شرکا میں رقوم تقسیم کرنے کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس پر سوشل میڈیا پر بھی ردِعمل سامنے آیا تھا۔ اکتوبر 2018 میں توہینِ مذہب کے الزام میں سزا پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کے موقع پر ٹی ایل پی نے دوبارہ ملک گیر احتجاج کیا اور املاک کو نقصان پہنچایا لیکن حکومت نے اس وقت بھی مذاکرات سے معاملے کو ختم کیا۔ البتہ، آسیہ بی بی کے ملک چھوڑنے کے بعد دوبارہ پر تشدد احتجاج کرنے پر پارٹی کی مرکزی قیادت کو دہشت گردی کے الزامات میں حراست میں لے لیا گیا۔
اس سے پہلے جنوری 2017 میں کراچی کے نشتر پارک کے جلسے میں نئی جماعت کی قیادت نے ملک کے انتخابی عمل میں ‘ٹی ایل پی’ کے نام سے حصہ لینے کا اعلان کیا اور لاہور کی قومی اسمبلی کی نشست این اے 120 پر ستمبر 2017 میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں شیخ اظہر حسین رضوی کو امیدوار نامزد کر دیا۔لاہور کی یہ نشست نواز شریف کی نااہلی کے سبب خالی ہوتی تھی جہاں سے ضمنی انتخابات میں ان کی اہلیہ کلثوم نواز بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی تھیں۔ ٹی ایل پی نے پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے 7130 ووٹ حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اگرچہ ٹی ایل پی کو 2018 کے عام انتخابات میں صرف کراچی میں سندھ اسمبلی کی دو نشتیں اور خواتین کی ایک مخصوص نشست ملی مگر دو ڈھائی سال قبل ہی وجود میں آنے والی اور پہلی مرتبہ عام انتخابات میں حصہ لینے والی جماعت کو اس ہر حلقے سے ہزاروں ووٹ ملے جہاں اس نے اپنے اُمیدوار کھڑے کیے تھے۔ٹی ایل پی ملکی سطح پر 22 لاکھ سے زائد ووٹ لے کر پانچویں بڑی جماعت بن کر ابھری جب کہ ملک کے دو بڑے شہروں کراچی اور لاہور کی تیسری بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی۔ 2020 میں فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر ٹی ایل پی نے ایک بار پھر احتجاج کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فرانس سے ہر قسم کا سفارتی رابطہ ختم کرے اوراسلام آباد میں تعینات فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کریں۔ اس معاملے پر کپتان حکومت نے تحریک لبیک کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کر لیا تھا جس کے تحت اس نے 20 اپریل 2021 تک فرانس کے سفیر کو پاکستان سے بے دخل کرنا تھا۔ تاہم پھر کپتان نے یوٹرن مارا اور معاہدے پر عمل کرنے کی بجائے سعد حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں تحریک لبیک نے مظاہرے شروع کر دیے اور حکومت نے اس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔
پاکستانی مذہبی سیاست کا مطالعہ کرنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ ٹی ایل پی نے توہینِ مذہب جیسے حساس مذہبی ایشوز پر احتجاجی دھرنوں اور مظاہروں سے جلد ہی بریلوی مکتبِ فکر کے عوامی حلقوں کی توجہ حاصل کی۔ محقق ذبیح اللہ صدیق بلگن نے حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ‘پاکستانی سیاست میں مذہبی جماعتوں کے کردار’ میں ‘ٹی ایل پی’ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جمعیت علمائے پاکستان کے رہنماؤں مولانا شاہ احمد نورانی اور عبدالستار نیازی کے بعد کوئی بڑے قد کاٹھ کی شخصیت بریلوی مکتبِ فکر کی سیاست کی قیادت کے لیے موجود نہیں تھی۔ ان کے بقول "خادم رضوی کے متحرک ہونے کا سبب ممتاز قادری کی سزائے موت مانا جاتا ہے جب کہ وہ اپنے سخت بیانات کی وجہ سے بریلوی مکتبِ فکر کے قدامت پسند حلقوں میں بھی مقبول ہو گئے۔”بریلوی مکتبِ فکر کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بریلوی حلقوں میں کافی عرصے سے یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ وہ ملک میں اکثریت رکھنے کے باوجود سیاسی طاقت حاصل کیوں نہیں کر پا رہے؟ چنانچہ خادم رضوی نے یہ کمی دور کرتے ہوئے تحریک لبیک کھڑی کر دی اور اسکی ملک گیر تنظیم سازی پر بھرپور توجہ دی۔ انہوں نے گلی محلوں کی سطح پر قائم مساجد اور میلاد کمیٹیوں کے ذریعے اپنی جماعت کو منظم کیا۔لہازا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مرحوم خادم رضوی نے ٹی ایل پی کے ذریعے پاکستان میں کھوئے ہوئے بریلوی تشخص کو دوبارہ زندہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
ٹی ایل پی تشکیل کے بعد بریلوی مکتبِ فکر کے تمام بڑے گروپوں سے رہنماؤں اورکارکنان کی بڑی تعداد اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب رہی۔ اس دوران ٹی ایل پی کے رہنماؤں علامہ اشرف جلالی اور پیر افضل قادری نے جماعت کے اپنے دھڑے بھی تشکیل دیے مگر وہ عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
تاہم پچھلے کچھ عرصے سے اسلام کے نام پر سیاست کرنے والی یہ شدت پسند مذہبی تنظیم شہروں کو جام کرنے، سیکیورٹی اہلکاروں پر تشدد کرنے، حکومتی املاک کو نقصان پہنچانے اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے بدنام ہو رہی تھی۔ چنانچہ فرانس کے سفیر کی بے دخلی کے مطالبے اور جوابا سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج اور کئی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت نے حکومت کو تحریک لبیک پر پابندی لگانے کا جواز فراہم کر دیا۔یوں پانچ برس پہلے فوجی اسٹیبلشمینٹ کے آنگن میں آنکھ کھولنے والی تحریک لبیک کا سفر آخرت شروع ہو چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button