علماء کا لاہوراموات کے خلاف 19 مارچ کو پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

مفتی منیب الرحمٰن نے دارالعلوم امجدیہ میں آج علمائے اہلسنت اور اہلسنّت کی تنظیمات کے قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’موجودہ حکومت نے تحریک لبیک پاکستان اور ناموسِ رسالت کے جاں نثاروں پر جوظلم ڈھایا ہے، ہم اس کی شدید ترین مذمت کرتے ہیں،پنجاب پولس نے رنجیت سنگھ اور برطانوی سامراج کے دور کی یاد تازہ کردی ہے۔یہ مظالم لوگوں کے ذہنوں سے کبھی محو نہیں ہوں گے اور جب بھی تحفظِ ناموسِ رسالت کی تاریخ لکھی جائے گی،موجودہ دور کو سیاہ ترین دور قرار دیا جائے گا۔
مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ کالعدم کی گردان کرنے والوں کو ہم باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ اقتدار ایک دن کالعدم ہوجائے گا، مگر لبیک یارسول اللہ کے نعرے تاقیامت زندہ وتابندہ رہیں گے،تاریخ نہ ان شہداء کی قربانیوں کو فراموش کرے گی اور نہ جاں نثارانِ شمعِ رسالت ﷺ پر ڈھائے جانے والے مظالم فراموش کیے جاسکیں گے۔
مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ ہم نے اپنی 15اپریل کی پریس کانفرنس میں حکومت اوربااختیار اداروں کو یہ مشورہ دیا تھاکہ تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کو ایک جگہ جمع کیا جائے تاکہ وہ آپس میں مشاورت کرسکیں اورمسئلے کے پرامن حل کے لیے سازگار ماحول پیداکریں۔لیکن طاقت کے نشے میں چور اہلِ اقتدار نے اس پر کان نہ دھرا اور ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم کردی۔مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ مین اسٹریم میڈیا پرپابندیاں ہیں، اس لیے صحیح معلومات دستیاب نہیں ہیں، تاہم سوشل میڈیا سے جو معلومات لوگوں تک پہنچ رہی ہیں، وہ انتہائی ہولناک ،کربناک اور اذیت ناک ہیں، ہم سب کےدل دکھی ہیں اور آنکھیں اشکبار ہیں۔
مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ زخمیوں کو اسپتال پہنچانے کے لیے ایمبولینسوں کو آنے نہیں دیا جارہا ،شہداء کی میتوں کو محفوظ کرنے کے لیے انتظامات نہیں کرنے دیے جارہے، یہ ظلم کی انتہا ہے ،ہم ذاتِ رسالت مآب ﷺ سے محبت کرنے والے لاہور کے ڈاکٹروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ضروری طبی سامان ، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دوائوں کے ساتھ زخمیوں کے پاس جائیں اور اُحد کی یاد تازہ کریں،غزوۂ بدر بھی رمضان میں وقوع پذیر ہوا تھا۔
مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ ہمارے پاس امریکا،کینیڈا،برطانیہ ،یورپین یونین ، شرقِ اوسط اور دیگر ممالک سے پاکستانی تارکینِ وطن کے فون آرہے ہیں اور وہ بے حد مضطرب ہیں،ہمیں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میںمنگل تاجمعرات پاکستانی قونصلیٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، لوگ حکومت کو بد دعائیں دے رہے ہیں اور اس دور کو عذابِ الٰہی سے تعبیر کر رہے ہیں، مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ خواتین فون کر رہی ہیں اور دھاڑیں مار کر رورہی ہیں اور مطالبہ کر رہی ہیں کہ میدان میں نکلیں، ہم اپنے بچوں سمیت میدان میں آنے کے لیے تیار ہیں، اس کے باوجود ہم نے تاحال صبرواستقامت کا مظاہرہ کیا کہ شاید حکومت ہوش کے ناخن لے اور درندگی کو چھوڑ کر سنجیدگی سے مسئلے کو حل کرے، لیکن ایسی کوئی علامت نظر نہ آئی۔
مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ پولس تھانوں اور جیلوںمیں اسیرانِ ناموسِ مصطفیٰ پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور اذیت سے دوچار کیاجارہا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پولس تھانوں اور جیل میں اسیرانِ ناموسِ مصطفیٰ ﷺ کو ذاتی مچلکوں پر فوری طور پر رہا کیا جائے اور تمام ایف آئی آرواپس لی جائیں، اس کے بغیر مسئلے کے پرامن حل کی توقع رکھنا خوش فہمی ہوگا،مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ اگر اتنے مظالم ڈھاکر بھی اہلِ اقتدار کے نفسِ امّارہ کو تسکین نہیں ملی تو مزید اپنا شوق پورا کرلیں،وقت فیصلہ کرے گا اور تاریخ فیصلہ کرے گی اور اللہ تعالیٰ کی عدالت میں آخری فیصلہ ہوگا۔
مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ کیا پاکستان اس لیے بنا تھا کہ اس میں تحفظِ ناموسِ رسالت کی بات کرنا جرم قرار پائے اور اس پر دہشت گردی کے فتوے لگائے جائیں ۔ہم شیخ رشید احمد کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ فرعونی لب ولہجے میں دھمکیاں دینا چھوڑیں ، مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ ایک دن یہ اقتدار چلا جائے گا،لیکن مسلمانوں کے دلوں سے تمہاری پیدا کی ہوئی نفرت کے داغ کبھی نہیں مٹیں گے۔2017ء میں ان لوگوں کا یہی طرزِعمل آپ کی دادوتحسین کا مستحق تھا، کیونکہ تب اقتدار پر کوئی اور فائز تھااور آج جبکہ خود کرسیِ اقتدار پر بیٹھے ہو تو وہی عمل تمہاری نظر میں دہشت گردی قرار پایا، مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ اس سے بڑی منافقت اور دوغلا پن اور کیا ہوسکتا ہے، تمہارے ماضی کے وڈیو کلپ سوشل میڈیا پر موجود ہیں، جب تک ایسا متنازع اور منافق شخص وزارتِ داخلہ پر فائز ہے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکے گا۔
مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ ہم سندھ کی حد تک آصف علی زرداری صاحب اور وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ صاحب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ کے پولس تھانوں میں اسیرانِ ناموسِ مصطفیٰ پر مظالم بند کیے جائیں اور اُن کو فوری طور پر ذاتی مچلکوں پر رہا کیاجائے اور تمام ایف آئی آر واپس لی جائیںتاکہ مسئلے کے پرامن حل کے لیے کوئی قابلِ عمل ماحول پیداہو۔آج ریاستِ مدینہ کا نعرہ شہدائے ناموسِ رسالت کے خون سے رنگین ہے، وزیر مذہبی امور نے دین اور مسلک کو کرسیِ اقتدار پر قربان کردیا ہے، ان کو یہ زیاں کا سودا مبارک ہو۔
مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ وفاق وزراء نے تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کے ساتھ جومعاہدہ کیا تھااور وزیر اعظم نے ٹیلی ویژن پر آکر جس کی توثیق کی تھی، اس پر عمل کرنا اتنا دشوار نہیں تھا ، اس میں تو یہ لکھا تھا کہ اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا تھا، لیکن اہلِ اقتدار کے مقدر میں بے قصور لوگوں کا ناحق خون لکھا تھا،مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے مطالبے پر یمن میں فوجیں بھیجنے کا مسئلہ بھی پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ہم ایک بار پھر حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہیں کالعدم کے پرفریب نعرے کو ترک کرکے 12اپریل کی صورتِ حال کو بحال کریں، تبھی بامعنی مذاکرات کی کوئی صورت پیداہوسکتی ہے،ورنہ دکھی دلوں میں لاوا پکتا رہے گا اور بالآخر یہ پھٹ پڑے گا۔
مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ ہم تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص مذہبی سیاسی جماعتوں اور بلا امتیازِ مسلک تمام دینی تنظیمات سے اپیل کرتے ہیں کہ ناموسِ رسالت ﷺ کے پاسبانوں پر ڈھائے جانے والے ان مظالم کے خلاف آواز بلند کریں ، کیونکہ ناموسِ رسالت کا تحفظ ہمارے دین اور ایمان کی اساس ہے۔
مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ ہم بطورِ احتجاج کل بروز پیر19اپریل2021کو ملک بھر میں پرامن پہیہ جام اور شٹر ڈائون ہڑتال کی اپیل کرتے ہیں، تاجروں سے اور ٹرانسپورٹرز سے امید ہے کہ وہ تعاون کریں گے اورکاروباری حضرات سے مطالبہ ہے کہ اسٹاک ایکسچینج کو بھی کل بند رکھا جائے، ہم تمام دکھی اہلسنّت سے اپیل کرتے ہیں کہ پرامن رہیں ،یہ ملک ہمارا ہے ،کسی اور سے زیادہ اس کی سلامتی ہمیں عزیز ہے، چادر اور چاردیواری اورجان ومال کی حرمت کا احترام کیا جائےاور نجی اور سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
پریس کانفرنس میں شریک علمائے کرام کے اسمائے گرامی:
علامہ سید مظفرحسین شاہ،مفتی محمد جان نعیمی، مولانا ریحان امجد نعمانی،مفتی عابد مبارک المدنی، مفتی محمد رفیق حسنی،شیخ الحدیث علامہ مفتی محمد اسماعیل ضیائی،علامہ لیاقت حسین اظہری،صاحبزادہ عبدالمصطفیٰ ہزاروی، مفتی نذیر جان نعیمی، شاہ اویس نورانی، علامہ رضوان احمد نقشبندی، مفتی محمد الیاس رضوی اشرفی، مفتی وسیم اختر المدنی، علامہ عمران شامی، علامہ اشرف گورمانی، علامہ رفیع الرحمٰن نورانی، علامہ مرتضیٰ مہروی، علامہ ضیاء الرحمٰن صابری، علامہ بلال سلیم قادری، شاہد غوری ،سید زمان علی جعفری۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ہڑتال کی کال میں مفتی منیب الرحمٰن سے ‘مکمل تعاون’ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے حامیوں اور کارکنوں نے بظاہر اتوار (18 اپریل) کو لاہور میں پیش آئے واقعے کے تناظر میں شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پھر مظاہرے شروع کردیے۔تاہم پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کردیا۔
ایک پولیس افسر نے بتایا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے کارکنوں نے مچھر کالونی میں ریلوے لائن کو بلاک کرنے کی کوشش کی اور سڑکوں پر آگئے لیکن پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔کراچی پولیس چیف، ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی تصدیق کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر کے دیگر علاقوں سے اب تک کسی مظاہرے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ایڈیشنل آئی جی نے مزید کہا کہ ملک بھر میں نافذ سیکیورٹی اقدامات کے تحت کراچی کے لیے بھی ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔
