تحریک لبیک کے مظاہرین کو اب کس کی حمایت حاصل ہے؟

چند برس قبل راولپنڈی میں ایجنسیوں کی مبینہ حمایت سے نواز لیگ کی حکومت کے خلاف ناموس رسالت کے حساس معاملے پر فیض آباد میں دھرنا دے کر شہرت حاصل کرنے والے تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی ایک مرتبہ سڑکوں پر ہیں اور ان کے ہزاروں کارکنان ساری رات پیدل مارچ کر کے 16 نومبر کو راولپنڈی سے اسلام آباد میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس مرتبہ بھی معاملہ ناموس رسالت کا ہے اور تحریک لبیک کا مطالبہ ہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر وزیر اعظم عمران خان کے حکومت فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرے اور فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات کے خاتمے کا اعلان کرے۔ تاہم چونکہ ابھی تک یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا لہذا تحریک لبیک کے ہزاروں مظاہرین راولپنڈی سے مارچ کرتے ہوئے مری روڈ سے اسلام آباد میں داخل ہو چکے ہیں اور ان کا رخ اب ریڈ زون کی جانب ہے۔ ان حالات میں سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا تحریک لبیک کو آج بھی اسی طرح فوج کی حمایت حاصل ہے جیسا کہ 2017 میں تھی۔تحریک لبیک کے اسلام آباد میں داخلے کی اطلاعات آنے کے بعد مریم نواز شریف نے ٹویٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔
یاد رہے کہ پچھلی مرتبہ نواز حکومت کے خلاف دھرنے کے دوران خادم رضوی کو آئی ایس آئی نے ہینڈل کیا تھا اور دھرنے کے شرکاء کو پیسے بانٹ کر گھروں کو واپس بھجوایا گیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی نے فیض آباد دھرنا کیس کے از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے ایک سخت فیصلہ بھی جاری کیا تھا جس میں خفیہ ایجنسیوں کے سیاسی رول ہر سخت تنقید کی گئی تھی اور فیض آباد دھرنے میں ملوث انٹیلی جنس حکام کے خلاف ایکشن لینے کی سفارش کی گئی تھی۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ تحریک لبیک کے مظاہرین کو کس طرح ہینڈل کیا جاتا ہے اور کیا ان کو منتشر کرنے کے لیے ایجنسیاں کوئی کردار ادا کر پائیں گی۔ خیال رہے کہ 2017 کے تحریک لبیک کے دھرنے کو الیکٹرانک میڈیا پر لائیو دکھایا جاتا تھا جبکہ 2020 میں اس کے مظاہرے کی کوریج پر مکمل پابندی عائد ہے اور مین میڈیا اسکا مکمل بلیک آؤٹ کر رہا ہے۔ فرق صرف اتنا یے کہ تب اقتدار نواز لیگ کا تھا اور آج عمران خان وزیراعظم ہے۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک کے بانی خادم حسین رضوی کے بارے میں چند برس پہلے تک لوگوں کو کچھ زیادہ معلوم نہیں تھا۔ لاہور کی ایک مسجد کے 55 سالہ خطیب نے اصل شہرت نومبر 2017 میں اسلام آباد کے فیض آباد چوک میں توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے خلاف ایک طویل لیکن بظاہر کامیاب دھرنا دے کر حاصل کی تھی۔ اس سے قبل وہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت کے معاملے میں بھی کافی سرگرم رہے تھے اور وہیں سے انھوں نے اپنی دینی سرگرمیوں کو سیاست کا رنگ دیا۔ بریلوی سوچ کے حامل خادم حسین رضوی کو ممتاز قادری کے حق میں کھل کر بولنے کی وجہ سے پنجاب کے محکمۂ اوقاف سے فارغ کر دیا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے ستمبر 2017 میں تحریک کی بنیاد رکھی اور اسی برس ستمبر میں این اے 120 لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں سات ہزار ووٹ حاصل کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے کے بعد سے بریلوی طبقے کے قدامت پسندوں نے زیادہ متحرک سیاسی کردار اپنایا ہے۔ لیکن پاکستان میں فرقہ ورانہ تشدد میں اضافہ اور بریلوی دیوبندی اختلاف سال 2012 کے بعد سے دیکھا جا رہا ہے۔ عدلیہ کے ہاتھوں وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد بعد وزیر اعظم بننے والے شاہد خاقان عباسی کی حکومت میں فیض آباد دھرنے سے متعلق تاثر تھا کہ احتجاج کرنے والوں کو کسی نہ کسی صورت پاکستان فوج کی حمایت حاصل تھی۔ اس بابت احتجاج کے اختتام پر آئی ایس آئی کی جانب سے مظاہرین میں رقوم کی تقسیم کو اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ بعد ازاں آسیہ بی بی کی رہائی کے معاملے پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کے بعد خادم حسین رضوی اور ان کی جماعت کے دیگر رہنماؤں کو کئی مہینے قید بھی کاٹنا پڑی۔ لیکن پھر ان کو رہا کر دیا گیا اور آج وہ پھر سڑکوں پر ہیں۔
تاہم مبصرین کے خیال میں ماضی میں انھیں کسی کی پشت پناہی حاصل ہو یا نہ ہو اس مرتبہ وہ معاشرے کے ایک خاص قدامت پسند طبقے میں اپنی مقبولیت کے بل بوتے پر سڑکوں پر نکلے ہیں۔ اب وہ اور ان کی تحریک کے دیگر سینئر رہنما جس قسم کی زبان فوج اور عدلیہ کے خلاف استعمال کرتے ہیں اس سے لگتا ہے کہ انھیں اپنی طاقت پر حد سے زیادہ اعتماد ہوگیا ہے۔ معزوری کے باعث ویل چیئر تک محدود ہونے کے باوجود خادم حسین رضوی پاکستان میں توہین رسالت کے متنازع قانون کے ایک بڑے حامی بن کر سامنے آئے ہیں۔ وہ اس قانون کے غلط استعمال کے الزام سے بھی متفق نہیں۔ ان کا انداز بیان کافی سخت ہوتا ہے۔ پاکستانی میڈیا کی جانب سے کوریج نہ ملنے کا حل بظاہر انھوں نے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کر کے نکالا ہے۔ ناصرف اردو اور انگریزی میں ان کی ویب سائٹس اب موجود ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی کئی اکاؤنٹ ہیں۔ وہ اپنے آپ کو پیغمبر اسلام کا ’چوکیدار‘ کہہ کر بلاتے ہیں۔
تحریک کے ایک ترجمان اعجاز اشرفی کے مطابق خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے ہے۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی ہیں اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ ان کے دو بیٹے بھی احتجاجوں میں ان کے ساتھ شریک رہتے ہیں۔ خادم حسین ٹریفک کے ایک حادثے میں معذور ہو گئے تھے اور سہارے کے بغیر نہیں چل سکتے ہیں۔ وہ 22 جون 1966 کو ’نکہ توت‘ ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ ان پر مختلف نوعیت کے کئی مقدمات بھی درج ہیں۔ اعجاز اشرفی نے بتایا کہ ان مقدمات کی تعداد کتنی ہے انھیں یاد نہیں۔ انھیں پنجاب حکومت نے فورتھ شیڈول میں رکھا ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ انھیں اپنی نقل و حرکت کے بارے میں پولیس کو آگاہ رکھنا ہوتا ہے۔
ایک خفیہ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ’خادم حسین رضوی اپنے سے اونچے عہدے والوں کے سامنے مغرور اور ماتحتوں کے ساتھ بدتمیز ہیں‘۔خادم حسین رضوی کو اپنی سرگرمیوں کے لیے وسائل کہاں سے ملتے ہیں یہ واضح نہیں لیکن اسلام آباد دھرنے کے دوران انھوں نے اعلان کیا کہ نامعلوم افراد لاکھوں روپے ان کو دے کر جا رہے ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ اندرون و بیرون ملک دونوں جانب سے انھیں فنڈز ملتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ممتاز حسین قادری کا جو مزار قائم کیا ہے اس کے غلے سے بھی انہیں ماہانہ لاکھوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
227 کے فیض آباد دھرنے کے بعد آئی ایس آئی کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق خادم رضوی ’مالی بدعنوانی میں ملوث رہے ہیں، اور ان کی ساکھ غیر تسلی بخش ہے‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دھرنے کی منظم انداز میں مالی سپورٹ کی باتیں افواہیں ہیں اور دھرنے والوں کو عوام میں سے چند افراد نے خوب عطیات دیے جن میں مقامی علما اور گدی نشین شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ’پولیس دھرنے والوں کو دی جانے والی لوجسٹکل سپورٹ روکنے کی نہ تو صلاحیت رکھتی تھی اور نہ ہی روکنا چاہتی تھی‘۔ خادم حسین رضوی کی گرمجوش تقاریر سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی طاقت سے کافی مرعوب ہیں۔ ان کے پیرو کار ان کی بدزبانی اور گالیوں پر بھی آنکھیں بند کر کے واہ واہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کی کڑی تنقید کا نشانہ محض صاحب اقتدار ہی نہیں بلکہ مرحوم عبدالستار ایدھی جیسی شخصیت بھی رہی ہیں۔ ان کی سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز محض اس لیے وائرل ہوئیں کہ وہ ملک کو قرضوں سے چھٹکارے کی جس قسم کی تجاویز دیتے ہیں اس پر لوگ صرف ہنس ہی سکتے ہیں۔ وہ اپنے اجتماع میں آئے ہوئے صحافیوں اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کو بھی بڑے سخت انداز میں مخاطب کرتے رہے ہیں۔ پھر وہ ایسے دعوے بھی کرتے ہیں جنھیں عملی جامعہ پہنانا شاید ناممکن ہو۔ ایسا ہی ایک بیان انھوں نے کراچی میں دیا تھا کہ ’اگر ان کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ ہالینڈ کو کارٹون بنانے کا مقابلہ منعقد کرنے سے پہلے ہی پوری طرح سے برباد کردیتے۔‘ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس دھرنے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ خادم حسین رضوی نے دعوی کیا تھا کہ ان کی جماعت نے یہ دھرنا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر دیا تھا اور پھر اس دھرنے کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی انہی لوگوں نے کیا جب تب کے وزیر قانون سے استعفی لیا گیا تھا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ جس قسم کی سخت اور ریاست مخالف تقاریر انھوں نے حالیہ دنوں میں کی ہیں اگر اس کی بنیاد پر ن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی تو اس سے ان کے حامیوں کا اسلام آباد میں زیادہ ’نڈر اور بےباک‘ ہو جانے کا خطرہ ہے۔ لہذا اس معاملے سے نمٹنے کے لیے بال اب ایک مرتبہ پھر حکومت کے کورٹ میں آ گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ریاست پاکستان اس مرتبہ بھی خادم رضوی کی تحریک لبیک کے مظاہرین کو پیسے تقسیم کر کے گھروں کو روانہ کرتی ہے یا ان کو ریاستی طاقت کے ذریعہ منتشر کیا جاتا ہے۔
