تربت سے گرفتار نور جہاں بلوچ کیا واقعی عسکریت پسند ہے؟


سی ٹی ڈی کی جانب سے ایران کی سرحد سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ سے حراست میں لی جانے والی خاتون نورجہاں بلوچ کو تربت میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے کے ساتھ ہی خاتون کی گرفتاری کیخلاف احتجاج کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا، مظاہرین نے گوادر اور کوئٹہ کے درمیان شاہراہ کو بطور احتجاج دوسرے روز بھی بند کیے رکھا۔ سی ٹی ڈی نے عدالت میں دعویٰ کیا ہے کہ خاتون ایک خود کش حملے کی منصوبہ بندی کررہی تھی، جج محمد یوسف نے خاتون اور اس کے ایک ساتھی کو سات یوم کی ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا، عدالت نے سی ٹی ڈی کو دو دن میں خاتون کے میڈیکل سرٹیفیکٹ بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

دوسری طرف خاتون کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ہوشاپ میں مظاہرین نے گوادر اور کوئٹہ کے درمیان شاہراہ کو بطور احتجاج دوسرے روز بھی بند رکھا، مظاہرین نے گرفتار خاتون پر عائد الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

نورجہاں بلوچ کے خلاف ایف آئی آر تربت میں سی ٹی ڈی مکران کی جانب سے درج کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ایک حساس ادارے کے افسران کو اطلاع ملی تھی کی نورجہاں اپنے ایک ساتھی جس کا تعلق کالعدم بی ایل اے کی ذیلی شاخ مجید بریگیڈ سے ہے بھاری اسلحہ و بارود اور خود کش جیکٹ کے ساتھ ہوشاپ کے ایک گھر میں موجود ہی، اس اطلاع پر لیڈی کانسٹیبلوں سمیت ایک چھاپہ مار پارٹی تشکیل دی گئی اور حساس ادارے کے اہلکاروں کے ہمراہ ہوشاپ میں گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق جب اہلکار ان گھر کے اندر داخل ہوئے تو وہاں کمرے سے ایک شخص کے علاوہ ایک خاتون باہر نکل کر آئیں، کمرے سے نکلتے ہی مرد و خواتین اہلکاروں نے دونوں کو قابو کرلیا، دریافت کرنے پر مرد نے اپنا نام فضل کریم جبکہ خاتون نے اپنا نام نورجہاں بتایا، لیڈی کانسٹیبلوں کی جانب سے تلاشی لینے پر پتا چلا کہ خاتون نے خود کش جیکٹ پہن رکھی تھی اور بروقت قابو کرنے کی وجہ سے خود کش جیکٹ کو نہیں اڑایا جا سکا۔

پولیس کے مطابق خود کش جیکٹ کو بم ڈسپوزل ٹیم نے ناکارہ بنا دیا اور وہاں سے اسلحہ و بارودی مواد برآمد کیا گیا۔ نورجہاں بلوچ کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ سے ہے، وہ شادی شدہ ہیں اور ہوشاپ سے تعلق رکھنے والے ایک شہری فضل بلوچ کی اہلیہ ہیں، ان کی رہائی کے خلاف احتجاج میں شریک سول سوسائٹی تربت کے کنوینر گلزار دوست بلوچ نے بتایا کہ نورجہاں بلوچ ایک عام گھریلو خاتون ہیں، اور اس کے تین کم سن بچے ہیں۔
احتجاج میں شریک خاتون نے بتایا کہ گرمی کی وجہ سے وہ اور ان کے گھر کے دیگر افراد رات کو اپنے گھر کے صحن میں باہر سو رہے تھے کہ اپنے گھر کے قریب ٹارچ کی روشنییاں دیکھیں، اس وقت نورجہاں کے گھر کے باہر سیکورٹی فورسز کے متعدد اہلکار اور گاڑیاں تھیں، تین خواتین نے نورجہاں کو پکڑرکھا تھا اور ایک تھوڑی دور کھڑی تھی، نور جہاں ننگے پاﺅں تھی اور ان کے سرپر دوپٹہ بھی نہیں تھا اور وہ انہیں اُسی حالت میں اپنے ساتھ لے گئے۔

گلزار دوست بلوچ نے نورجہاں بلوچ کے خلاف تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے، انھوں نے نورجہاں بلوچ کے رشتہ داروں کے ہمراہ کمشنر مکران ڈویژن سے ملاقات بھی کی اور خاتون کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ تاہم دوسری جانب سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والی خاتون بی ایل اے کے ایک سرکردہ رہنما اسلم عرف اچھوکی بیوی سے رابطے میں تھی اور اسکے قبضے سے ہینڈ گرینڈ، خودکش جیکٹس، اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔ تاہم گرفتار خاتون کے شوہر نے ان الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔

Back to top button