پاکستانی معیشت آئی سی یو کے وینٹی لیٹر پر کیوں ہے؟


پاکستانی روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر اور ڈالر کی قیمت دو سو روپے سے بڑھ جانے کے بعد معیشت انتہائی نگہداشت یونٹ میں وینٹی لیٹر پر پڑی دکھائی دیتی ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی کی حکومتیں مالی خسارہ کم کرنے، سرکاری اداروں میں اصلاحات متعارف کروانے اور بجلی اور تیل کی قیمتوں پر سرکاری سبسڈی ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں جس کا نتیجہ آج معیشت کی تباہی کی صورت میں سامنے آ چکا ہے۔ معاشی بحرانوں کے شکار پاکستان کی نئی حکومت آخری سانسیں لیتی معیشت بچانے کے لیے اپنی پیشرو حکومتوں کی طرح آئی ایم ایف کے دروازے پر کھڑی ہے۔

پاکستانی سرکاری وفد دوحہ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے نمائندوں کےساتھ ملکی معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے اہم مذکرات کر رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی اقتصادی ٹیم کی کوشش ہے کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے فوری طور پر کم ازکم ایک ارب ڈالر  کی پہلے سے طے شدہ قسط حاصل کر لے۔ اس دوران وزیر خارجہ بلاول بھٹو بھی امریکہ پہنچ چکے ہیں اور امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کر چکے ہیں جس کے بعد اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف کا پاکستان کے ساتھ رویہ نرم ہو جائے گا۔ تاہم ملک میں اقتصادی اصلاحات کی سست رفتار کی وجہ سے حکومتی وفد کے لیے آئی ایم ایف کے نمائندوں کو قائل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یاد رہے پاکستانی حکومتیں گزشتہ 75 سالوں سے آئی ایم ایف کے سہارے ملک چلاتی آرہی ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم ایف کے پاس جانا ایسے ہی ہے، جیسے مریض کو ہنگامی طبی امداد کے لیے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کرایا جاتا ہے اور پھر اسے نارمل وارڈ منتقل کرنے کے بعد صحت یابی پر گھر منتقل کر دیا جاتا ہے، لیکن پاکستانی معیشت ایک ایسا مریض ہے، جو ہمیشہ ہی ایمرجنسی وارڈ میں رہا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے 2019 میں بیمار ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالرز کے تین سالہ پروگرام کا معاہدہ کیا تھا۔ تاہم  سابقہ عمران حکومت عوام کو دی جانے والی تیل اور بجلی کی سرکاری سبسیڈیز کو ختم نہیں کر پائی اور نہ ہی محصولات کی وصولی کو اس ہدف تک پہنچا سکی، جس کا آئی ایم ایف سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اسی صورتحال کے سبب آئی ایم ایف کے اس پروگرام کا ابھی تک بھی مکمل نفاذ نہیں ہو سکا۔ پاکستان کو اب تک صرف تین ارب ڈالر مل سکے ہیں اور اس معاہدے کا اختتام رواں برس ہونا ہے۔

 موجودہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ وہ اس معاہدے کو جون 2023 تک توسیع دلوا سکے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ دونوں فریقین کوئی ‘درمیانی راستہ’ ڈھونڈ لیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوشش ہو گی وہ آئی ایم ایف کو اس بات پر قائل کر لے کہ ملکی سیاسی صورتحال اور آئندہ انتخابات کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے کچھ رعایات بحال رکھنے کی اجازت مل جائے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے  ہمیشہ کی طرح اس بار بھی زمینی حقائق کے بجائے سیاسی مصلحتوں کو مد نظر رکھا تو ایسا کوئی امکان نہیں کہ پاکستانی معیشت کبھی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔ انکا کہنا یے کہ حکومتیں مالی خسارے میں کمی نہیں لا سکیں اور نہ ہی قومی معیشت پر بوجھ بنے سرکاری اداروں میں اصلاحات لائی گئی ہیں، بجلی و تیل کی قیمتوں پر سرکاری رعایتوں میں بھی بتدریج کمی نہیں لائی گئی، گندم تک بیرون ملک سے خریدی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کئی ممالک نے آئی ایم ایف سے ہنگامی فنڈز لیے لیکن پھر خود کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر کے اسے خدا حافظ کہہ دیا۔

 معاشی تباہی کا شکار ہونے والے پاکستان کے لیے سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھارت نے 1991 میں آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا۔ انہوں نے اپنا سونا بیچ کر قرض کی رقم واپس کی اور پھر کبھی ادھر کا رخ نہیں کیا،  اسی طرح جنوبی کوریا اور ویت نام کی مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں، جنہوں نے اپنی معیشتوں کو سہارا دینے کے بعد آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا اور پھر اسے کبھی نہیں پکارا۔ دوسری جانب پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر جون 2020 ء کے بعد سے اب تک کی سب سے نچلی سطح 10.3 ارب ڈالر تک آ چکے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدرمیں ریکارڈ گراوٹ اور نتیجتاﹰ افراط زر کی مسلسل بڑھتی ہوئی شرح نے عوام کو مہنگائی سے بدحال کر رکھا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایک ہفتے تک دوحہ میں جاری رہنے والے مذاکرات مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہے، جہاں اسے ایک جانب آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا سامنا ہو گا اور  دوسری جانب آئندہ انتخابات سے قبل عوام کو تیل و بجلی پر دی جانے والی رعایتیں ختم نہ کرنے کے چیلنج کا سامنا بھی ہو گا۔

Back to top button