کیا سپریم کورٹ عسکری اشارے پر حکومت کو تنگ کر رہی ہے؟

شہباز شریف کی اتحادی حکومت کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے فوری انتخابات کے مطالبے کو رد کئے جانے کے بعد اب حکومت کے لیے مختلف محاذوں پر مشکلات کھڑی ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے جس کا پہلا اشارہ سپریم کورٹ کے سوو موٹو نوٹس کی شکل میں آ چکا ہے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ کی جانب سے منحرف اراکین اسمبلی کے حوالے سے دیے گئے فیصلے نے بھی نئی حکومت کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
اسلام آباد میں باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ 20 مئی کو طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے شہباز شریف حکومت کو نئے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے کی ڈیڈ لائن کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے جس کے بعد حکومت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق، اگر شہباز کی حکومت کو اسٹیبلشمینٹ کی جانب سے اگست 2023ء تک برسر اقتدار رہنے کی مطلوبہ یقین دہانی نہ ملی تو قوی امکان یے کہ قومی اسمبلی تحلیل ہو جائے گی۔
اسلام آباد میں یہ خبریں عام ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے وزیراعظم شہباز شریف سے 20 مئی تک نئے انتخابات کی تاریخ دینے کا مطالبہ کر رکھا تھا۔ تاہم حکومتی اتحادی جماعتوں نے باہمی صلاح مشورے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کا یہ مطالبہ رد کر دیا ہے۔ اتحادی حکومت کا خیال ہے کہ کہ فوری الیکشن کے مطالبے کا بنیادی مقصد اپنی مرضی کا آرمی چیف لگوانا ہے کیونکہ جنرل قمر باجوہ نومبر میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔ لہذا آصف زرداری، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان نے اتحادیوں سے مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ نئے الیکشن اس برس نہیں یوں گے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اتحادی جماعتوں نے نئے آرمی چیف کی تقرری سے پہلے حکومت نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ انہیں موجودہ فوجی قیادت اور عمران خان کا ایجنڈا ایک جیسا نظر آ رہا ہے۔
ان حالات میں باخبر ذرائع اس تاثر کو رد کر رہے ہیں کہ عمران خان کو نکالنے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مرضی شامل تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ ایسا نہیں چاہتے تھے لیکن فوج کے اندر سے ان پر اتنا زیادہ دباؤ ہڑ گیا کہ انہیں خود کو نیوٹرل کرنا پڑا جس کے نتیجے میں عمران کی حکومت گر گئی۔ سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ اگلے دو دن بہت اہم ہیں کیونکہ 20 مئی کی ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے اپنا ردعمل دینا ہے۔ لیکن کچھ سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا ردعمل آنا شروع ہو چکا ہے اور وہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے سوموٹونوٹس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے ایف آئی اے اور دیگر تفتیشی اداروں میں حکومتی مداخلت کا نوٹس لے کر کیس کی سماعت شروع کر دی ہے۔
انصار عباسی کے بقول اگلے دو دن میں یا تو عوام کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کی خبر ملے گی یا پھر قومی اسمبلی تحلیل ہوجائے گی۔ اس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ حکومت کو چلتے رہنا چاہئے اور معیشت کو درپیش چیلنجز کو حل کرنا چاہئے لیکن شرط ہے کہ اسے فوجی حکام سے حمایت مل جائے۔ اتحادیوں کی رائے تھی کہ مطلوبہ یقین دہانی کے بغیر، حکومت تیل کی قیمتیں بڑھانے اور عمران حکومت کی جانب سے دی گئی بھاری سبسڈی کے خاتمے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ انکانیہ بھی خیال تھا کہ اگر نئے انتخابات اکتوبر میں کرائے گئے تو موجودہ حکومت ہی کو صرف مشکل سیاسی فیصلہ کرنے کی بھاری سیاسی قیمت چکانا پڑے گی اور اسے معیشت کو درست کرنے اور عوام کی خدمت کا موقع ہی نہیں ملے گا۔
ذرائع کے مطابق، نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان تیل کی قیمتیں بڑھانے کے حق میں نہیں۔ ان کی رائے ہے کہ اس سے مہنگائی آئے گی اور عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف کو یقین ہے کہ معاشی مسائل حل ہو جائیں گے اور عوام تک کم از کم بوجھ منتقل ہوگا۔
تاہم، انہوں نے تینوں سیاسی رہنمائوں سے اتفاق کیا کہ اپنی حکومت کی مدت کے حوالے سے مطلوبہ یقین دہانی ملنے تک کوئی حکومت کارکردگی نہیں دکھا سکتی۔ اب وزیراعظم نے تجویز دی ہے کہ حکومت کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانا چاہئے اور اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کرنا چاہئے تاکہ کمیٹی سے مطلوبہ یقین دہانی حاصل ہو سکے، کمیٹی میں دفاعی سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت اعلیٰ سیکورٹی عہدیدار شامل ہیں۔ اس دوران یہ بھی کہا گیا کہ تیل کی قیمتوں پر سبسڈی اسی صورت ختم کی جائے گی جب قومی سلامتی کمیٹی متفقہ طور پر حکومت کی اگست 2023 تک کی مدت کے حوالے سے یقین دہانی کرائے۔ یاد رہے کہ اگر اکتوبر 2022ء میں الیکشن ہوئے تو موجودہ حکومت صرف جولائی تک ہی برقرار رہ پائے گی کیونکہ قومی اسمبلی کو تحلیل کرنا ہوگا۔ ایسی صورت میں شہباز شریف حکومت کے پاس صرف یہی آپشن باقی رہ جائے گا کہ کارکردگی دکھانے کا موقع ملے بغیر ہی مشکل فیصلہ کر لیا جائے۔
دوسری جانب پاکستان میں موجودہ حالات میں سیاست انتہائی منقسم ہے، ملک کی معیشت کو عمران حکومت نے برباد کر دیا تھا اور رہی سہی کسر تیل پر دی گئی سبسڈی نکال رہی ہے۔ ایسے میں معیشت کو آئی ایم ایف کی مدد کی اشد ضرورت ہے اور اس کے بغیر بیشتر معیشت دانوں کو ڈر ہے کہ ملک دیوالیہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح سیاسی غیر یقینی کی وجہ سے اسلام آباد کو آئی ایم ایف سے ہری جھنڈی نہیں ملی، آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے پروگرام کو فی الحال معطل رکھا ہوا ہے کیونکہ عمران خان کی حکومت نے تیل پر سبسڈی دیدی تھی۔ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کیے اور عالمی ادارے نے شہباز حکومت سے اصرار کیا کہ سبسڈی ختم کی جائے تاکہ پٹری سے اترے ہوئے پروگرام کو واپس بحال کیا جا سکے۔
شہباز نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کیا لیکن کہا جاتا ہے کہ دوست ممالک حتیٰ کہ چین بھی اسی صورت معاشی مسائل سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کریں گے جب آئی ایم ایف پاکستان کیلئے اپنا پروگرام بحال کرے۔
