ترک صدرطیب اردوان پاکستان میں آئندہ انتخابات جیت سکتے ہیں

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج پاکستانی پارلیمنٹ سے رجب طیب اردوان کے خطاب کے بعد میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ پاکستان میں اگلا انتخاب جیت سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں پاک-ترک بزنس اینڈ انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں نے حکومتی اراکین کو بینچز بجاتے ہوئے دیکھا ہے لیکن آج تک اپوزیشن بینچوں کے اراکین کو ڈیسک بجا کر تقریر کو سراہتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا جو مجھے آج دیکھنے کا موقع ملا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلم دنیا کے مسائل کے حل کے لیے آپ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے سبب پاکستان کے عوام سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر آپ کو کتنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت ترکی سے تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے سب کچھ کرے گی، ہم پاکستان اور ترکی کی کاروباری برادری کو سہولیات فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ سرمایہ کاری کرنے کے ساتھ ساتھ مشترکہ منصوبوں پر کام کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم خصوصی طور پر ترک کاروباری برادری کو سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں، میں نے کئی مرتبہ بطور سیاح ترکی کا دورہ کیا اور جس طرح ترک سیاحتی صنعت نے ترقی کی تو پاکستان اس سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں اب تک سیاحت پر کام نہیں کیا گیا لیکن دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان کی سیاحتی انڈسٹری بے پناہ صلاحیت کی حامل ہے اور حال ہی میں امریکا کے ایک صف اول کے میگزین نے پاکستان کو 2020 میں سیاحت کے لیے صف اول کا مقام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحتی صنعت کی ترقی کے لیے ہمارے پاس انفرا اسٹرکچر کی کمی ہے اور ترکی تاریخی و ساحلی مقامات کی سیاحت میں بہت ترقی کر چکا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ترکی اس شعبے میں سرمایہ کاری کرے۔ان کا کہنا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی ہم ترکی سے بہت سیکھ سکتے ہیں جبکہ ہمارے پاس دنیا کی دوسری سب سے بڑی نوجوان آبادی ہے اور ہم اس شعبے میں بھی سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔ وزیر اعظم نے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان میں کان کنی کے شعبے میں بھی سرمایہ کار کے بے پناہ مواقع ہیں جن پر آج تک توجہ نہیں دی گئی، ترکی کی کان کنی کی صنعت ہمارے مقابلے میں انتہائی جدید ہے لہٰذا ہم اس شعبے میں بھی ترکی کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں بھی ترکی ہمارے لیے مشعل راہ ہے کیونکہ ان کی پیداواری صلاحیت پاکستان سے بہت زیادہ ہے، ہمارے پاس دنیا کی بہترین زرخیز زمینیں ہیں لیکن ہم اپنے پانی کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتے اور ہم اس سلسلے میں بھی چین سے تکنیک سیکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترکی جس بھی شعبے میں ہماری مدد کرنا چاہے، ہم ان کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے خوش آمدید کہتے ہیں اور حکومت اس سلسلے میں انہیں سہولیات فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت انتہائی کاروبار دوست ہے اور یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ کاروبار دوست حکومت ثابت ہو گی اور ہم کاروباری کے لیے آسانیوں کی عالمی درجہ بندی میں ایک سال میں 28 درجے بہتری حاصل کر چکے ہیں اور کاروباری برداری کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button