ترین گروپ کپتان حکومت کو کیسے فارغ کرے گا؟

وزیراعظم عمران خان سے ناراض ترین گروپ بالآخر کھل کر حکومتی مخالفت میں سامنے آ گیا ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر کپتان معاملہ نہ سنبھال پائے تو جون کے مہینے میں تحریک انصاف کے لیے قومی اور پنجاب اسمبلی میں بجٹ منظور کروانا مشکل ہو جائے گا جس کا نتیجہ حکومت کے خاتمے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت اتحادیوں کے بل بوتے پر قائم ہے۔ تاہم تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے 8 اراکین قومی اسمبلی جہانگیر ترین گروپ میں اعلانیہ شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ اگرچہ ترین گروپ کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کا بجٹ پاس کروانے میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے تاہم اس گروپ میں شامل بعض رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ اگر تب تک معاملات درست نہ ہوئے تو بجٹ سیشن کا بائیکاٹ کیا جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر ترین گروپ میں شامل 8 اراکین قومی اسمبلی نے بجٹ سیشن کا بائیکاٹ کردیا تو تحریک انصاف حکومت کے لیے قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت کے ساتھ بجٹ منظور کروانا مشکل ہو جائے گا۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف حکومت کی تشکیل میں ایم کیو ایم پاکستان، ق لیگ، باپ، جی ڈی اے اور عوامی مسلم لیگ کا کردار ہے۔ اتحادیوں کے 21 ووٹوں کے ساتھ تحریک انصاف کے 156 ووٹ ملائے جائیں تو 177 ووٹوں کے ساتھ سادہ اکثریت بنتی ہے لیکن اگر 8 اراکین ترین گروپ میں شمولیت کے باعث بجٹ سیشن کا بائیکاٹ کر گئے تو باقی اتحادیوں کو ساتھ ملا کر بھی 169 ووٹ بنیں گے جن کے ذریعے بجٹ پاس کروانے کے لیے کپتان حکومت کو سادہ اکثریت نہیں مل سکے گی۔ یوں اگر تین آزاد اراکین اسمبلی جو کہ نیوٹرل ہیں، اگر اپوزیشن کے سستھ مل جایئں تو حکومت بجٹ منظور کروانے میں ناکام ہوجائے گی۔ یعنی اگر ترین گروپ میں شامل 8 ایم این ایز بجٹ سیشن کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے لیے 172 اراکین کی سادہ اکثریت ثابت کر کے مالی سال 2021-22 کا بجٹ منظور کروانا ناممکن ہو گا جسکے نتیجے میں کپتان حکومت اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان میں ہر برس حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ تیار کرتی ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد اسے مجوزہ مالیاتی بل کی شکل میں قومی اسمبلی میں پیش کرتی ہے، جہاں سے سادہ اکثریت سے پاس ہونے کے بعد صدر بجٹ کی منظوری دیتا ہے جس کے بعد یہ ایک ایکٹ بن جاتا ہے۔ صوبے اپنا الگ الگ بجٹ تیار کرکے اسمبلی سے منظوری کے بعد اسے گورنر کے پاس حتمی منظوری کے لئے بھجواتے ہیں۔ پاکستان کا مالی سال یکم جولائی سے 30 جون تک ہوتا ہے اور یوں سالانہ بجٹ بھی اسی عرصے میں ہونے والے اخراجات اور آمدن کے اندازوں کا ذکر کرتا ہے۔
لیکن پنجاب میں بھی تحریک انصاف کو بجٹ پاس کروانے کے لیے مشکل صورتحال کا سامنا ہے جہاں 376 کے ایوان میں 181 نشستیں رکھنے والی تحریک انصاف نے مسلم لیگ قاف کے دس ووٹوں کو ملا کر حکومت تو بنا لی تاہم جہانگیر ترین گروپ میں چلے جانے والے 32 ایم پی اے نے بزار سرکار کے لیے مالی سال کا بجٹ منظور کروانا خاصا مشکل بنا دیا ہے۔ 19 میری کے روز عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے یہ موقف اختیار کیا کہ ان کے گروپ کو قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں اپنے دھڑے کے علیحدہ پارلیمانی لیڈر اس لئے مقرر کرنے پڑے چونکہ انکے ساتھیوں کے خلاف پنجاب حکومت نے انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے چنانچہ اسمبلیوں میں حکومتی ذیادتیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیئے علیحدہ پارلیمانی دھڑے تشکیل دیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے حکومتی اتحاد کے بعد مسلم لیگ ن 166 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی کی 7 نشستیں ہیں۔ اس کے علاوہ چار اراکین آزاد ہیں جن میں سے ایک آزاد رکن چوہدری نثار علی خان نے تاحال حلف نہیں اٹھایا۔ راہ حق پارتی کے اکلوتے رکن اسمبلی معاویہ اعظم طارق البتہ حکومت کے ساتھ ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بجٹ کے روز تحریک انصاف سے جہانگیر ترین پارلیمانی گروپ میں جانے والے 32 اراکین پنجاب اسمبلی غیر حاضر رہے اور اپوزیشن نے اپنی گنتی پوری کر لی تو تحریک انصاف کے لیے سادہ اکثریت کے بغیر بجٹ پاس کروانا ناممکن ہو جائےگا۔ ترین گروپ میں شامل رکن پنجاب اسمبلی سلمان نعیم کہہ چکے ہیں کہ سب سے پہلے جہانگیر ترین گروپ اس بات کا جائزہ لے گا کہ پنجاب حکومت کس قسم کا بجٹ تیار کرتی ہے اگر عوام مخالف بجٹ تیار کیا گیا تو ان کا پہلا بجٹ سیشن کا بائیکاٹ کرے گا اور اس کے بعد بائیکاٹ کرنے والے اراکین کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو تمام اراکین اپنی نشستوں سے مستعفی ہو جائیں گے یوں پنجاب سے تحریک انصاف کی حکومت کا صفایا ہوجائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں ترین گروپ بجٹ سیشن میں حکومت گرا سکتا ہے اگر کسی طرح بجٹ منظور ہو بھی گیا تو عمران اور بزدار مستقبل قریب میں تحریک عدم اعتماد کی صورت میں ترین گروپ کی مخالفت کے نتیجے میں باآسانی گھر بھجوائے جاسکتے ہیں۔
